| 91516 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
میرا ایک مکان ہے، میں اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو حصہ دینا چاہتی ہوں، میرا ایک بیٹا، اس کی بیوی اور پانچ بچے ہیں اور میری پانچ بیٹیاں بھی ہیں، چونکہ میرا بیٹا میرے ساتھ رہتا ہے، بیٹیوں کی شادیاں ہو گئی ہیں، میں چاہتی ہوں کہ اس مکان کو فروخت کر کے میرا بیٹا اور میں خود ایک مکان خرید لیں اور بقیہ رقم بیٹیوں میں تقسیم کر دیں، کیا میں اپنے اختیار سے ایک مکان لے کر جو کہ بیٹیوں کےحصے سے زیادہ ہو گا اور بیٹیوں کو دس دس لاکھ روپے دے دوں، کیا شریعت کی رو سے یہ معاملہ کر سکتی ہوں؟ میں گناہ گار تو نہیں ہوں گی؟
وضاحت: سائلہ کے بیٹے نے بتایا کہ مکان کی مالیت تقریبا ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے، یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ تک فروخت ہو سکتا ہے، جس میں سے والدہ پچاس لاکھ بہنوں کو اور باقی کا مجھے مکان لے کر دینا چاہتی ہیں، بظاہر بقیہ رقم میں فلیٹ ہی ملے گا، باقی میری آمدن بھی زیادہ نہیں ہے اور بہنوں کی صورت حال مالی اعتبار سے مناسب ہے، البتہ ایک بہن کچھ کمزور ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد یا رقم وغیرہ دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، لہذا اس میں آپ جتنا مال چاہیں اپنے پاس رکھ سکتی ہیں اور جتنا چاہیں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر سکتی ہیں، البتہ اولاد کو دینے کی صورت میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لہذا صورت مسئولہ میں آپ کا مکان بیچ کر اس کی رقم بطورِ ہبہ اولاد کے درمیان تقسیم کرناجائز ہے اورچونکہ آپ اپنےبیٹے کے ساتھ رہتی ہیں، بیٹا اور اس کے بیوی بچے آپ کی خدمت وغیرہ بھی کرتے ہیں، آپ کے علاج معالجہ اور بیٹیوں کے گھر آنے پر اخراجات بھی بیٹا کرے گا، اس لیے اگر بیٹے کو اور معاشی اعتبار سے کمزور بیٹی کو کچھ حصہ زیادہ دے دیا جائے تو اس میں حرج نہیں،مثلا چار بیٹیوں کو دس دس لاکھ دے دیں اور مالی اعتبار سے کمزور بیٹی کو پندرہ لاکھ روپیہ دے دیا جائے اور بقیہ رقم کا بیٹے کو مکان یا فلیٹ خرید کر دے دیں تو اس کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي– القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 444) دار الفكر-بيروت:
وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى."
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/صفرالخیر1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


