03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصہ میں دی گئی طلاق کےالفاظ یادنہ ہوں توطلاق کاحکم
91732طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میرا نام ابوذر ہے۔ مجھے طلاق سے متعلق فتویٰ لینا ہے۔ براہِ کرم ہر ایک کیس کا تفصیل سے جواب دیں۔

1۔میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوئی۔ میں سیڑھیوں سے نیچے آ یا اپنے کمرے میں ۔ میری بیوی سیڑھیوں پر ہی تھی۔ میں نے اس سے کہا:"تو نیچے آ، میں تجھے ابھی طلاق دیتا ہوں"یہ الفاظ میری والدہ نے بھی سنے۔ لیکن اس وقت ان الفاظ سے میرا مطلب یہ تھا کہ:"تم نیچے آؤ، پھر دوں گا طلاق "  یعنی  کہ یہ نیچے آئے گی تو دوں گا۔ لیکن میں نے جملہ حال (present tense)میں کہا۔ اس وقت فوراً  بیوی نہیں آئی نیچے اور میری والدہ نے مجھے چپ کرا دیا اور کہا کہ تمہیں اس کا مطلب پتا ہے؟

2۔اس کیس میں بھی ہم دونوں لڑائی کر رہے تھے۔ بیوی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور کہا کہ میں تم لوگوں کی لڑائیوں سے بہت زیادہ تنگ آ گئی ہوں۔ والدہ نے آگےسےکہا کہ علیحدہ ہو جاؤ۔پھر اس کے جواب میں میں نے کچھ کہا، جو میری والدہ کو تھوڑا بہت یاد ہے کہ میں نے کہا: "میں طلاق دیتا ہوں"یا" میں ابھی طلاق دیتا ہوں"یا"میں طلاق دے دیتا ہوں"(لیکن اصل جملہ کسی کو یاد نہیں، مجھے بھی نہیں، کیونکہ میں غصے کا بہت تیز ہوں اور بات یاد نہیں رہتی)۔کچھ دن بعد میں اپنی بہن کے پاس ملنے گیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ایسا کہا تھا؟ میں نے کہا 🙁 میں نے آخر میں "پھر" لگایا تھا، جیسے ہم طنزاً کسی کو کہتے ہیں: "ایسا کر لو پھر"اسی طرح میں نے بولا تھا)، "میں طلاق دیتا ہوں پھر"یا" میں ابھی طلاق دے دیتا ہوں پھر"لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے آج بھی بالکل یاد نہیں کہ میں نے اصل میں کیا بولاتھا۔

3۔اس کیس میں بھی ہماری لڑائی ہو رہی تھی۔ بیوی نے کہا: "تو چھوڑ دو مجھے"،تقریباً ایک ہفتے بعد میری والدہ نے بتایا کہ میں نے دوسری جگہ آ کر بولا تھا:"میں اسے طلاق دیتا ہوں"یا" میں اسے ابھی طلاق دیتا ہوں"اس واقعے کے بعد وہ اپنے میکے چلی گئی اور اب تک وہیں ہے۔ لیکن میں اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں نے ایسا کبھی کہا ہو۔ہم نے اپنی والدہ سے کہا کہ اپنی یادداشت پر زور ڈالیں، کیا واقعی میرے یہی الفاظ تھے؟ اب وہ بھی بھول چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اتنا یاد ہے کہ جب بیوی نے کہا: "تو چھوڑ دو مجھے"تو میں نے والدہ سے کہا تھا: "دے دوں طلاق، دے دوں طلاق"اس کے آگے مجھے بھی کچھ یاد نہیں آ رہا۔

نوٹ:میں غصے کاتیز ہوں اور باتیں بھول جاتا ہوں، اور میری والدہ تقریباً 65 سال کی ہیں، وہ بھی باتیں بھول جاتی ہیں۔

4۔میری بہن نے میری بیوی سے بات کی تھی کہ ہمیں مختلف حالات میں طلاق کا شک ہےتو ہم نےفتویٰ لینا ہے۔بیوی کا مجھے پیغام آیا کہ میں سب کو بتا دوں جو آپی نے بتایا ہے؟ (میں اس سے بات نہیں کرتا، ناراض ہوں، جب سے وہ گھر چھوڑ کر گئی ہے)میں نے اپنی بہن سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا کہ جو ہمیں معلوم تھا وہ بتا دیا کہ اتنی دفعہ ہمیں طلاق کا شک ہے۔جان چھڑانے کے لیے میں نے کہا کہ میں بول دیتا ہوں: "ہاں، ہو گئی ہے"،اب مجھے بھی یاد نہیں کہ میں نے اصل میں کیا کہا تھا: "ہاں، ہو گئی ہے"یا"ہاں، ہو گئی ہے طلاق"میری بہن نے مجھے چپ کرایا کہ تم خود سے کیسے کہہ سکتے ہو، جب تک فتویٰ نہیں لیتے۔ جو بھی ہے، ہم طلاق کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں۔براہِ کرم ان تمام باتوں کا تفصیل سے جواب دیں۔ یہ معاملہ فوری ہے۔شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

         پہلےواقعے میں آپ کا (تو نیچے آ،میں تجھے ابھی طلاق دیتا ہوں) کےالفاظ سےفی الفورطلاق دینامقصودنہیں تھا اوربیوی کےسیڑھیوں پرموجودہونےکےدوران یہ الفاظ استعمال کرنااس پرقرینہ ہے،لہذااس سےطلاق واقع نہیں ہوئی ۔

         دوسرےواقعےمیں آپ کویہ معلوم ہےکہ میں نےطلاق کےالفاظ("میں طلاق دیتا ہوں"یا" میں ابھی طلاق دیتا ہوں"یا"میں طلاق دے دیتا ہوں")استعمال کیےتھےلیکن یقینی طورپریاد نہیں کہ کون سےالفاظ بولےتھےتواس صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی،اس کے بعد آپ کا اپنی بہن کے ہاں اس کے سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ ("میں طلاق دیتا ہوں، پھر" یا "میں ابھی طلاق دے دیتا ہوں، پھر") یہ پہلی مرتبہ بولے گئے الفاظ کی حکایت تھی، لہذا بہن کے پاس کہے گئے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

         تیسرےواقعےمیں چونکہ آپ کومعلوم نہیں کہ آپ نےطلاق کےالفاظ استعمال کیےہیں یا نہیں؟ اورآپ کی والدہ کےبیانات بھی مختلف ہیں اورنہ ہی کوئی اورگواہ موجودہےتواس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

         چوتھے واقعےمیں آپ کااپنی بہن کوکہناکہ( میں بول دیتا ہوں: "ہاں، ہو گئی ہے" یا"ہاں، ہو گئی ہے طلاق")چونکہ سابقہ طلاق کااقرارہے،لہذااس سےمزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

ان تمام واقعات میں آپ کی بیوی پر ایک رجعی طلاق واقع ہوچکی تھی اور اس کی عدت کے دوران وہ آپ کے پاس ہی رہ رہی تھی، لہذا عدت گزرنے سے پہلے پہلے اگر آپ نے اس طلاق سے زبانی یا عملاً رجوع کر لیا تھا تو آپ کا نکاح برقرار ہے ورنہ عدت گزرنے کے بعد آپ کی بیوی آپ سے جدا ہوچکی ہے، لہذا وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے اور اگر زوجین دوبارہ بسنے پر رضامند ہوں تو نئے سرے سے مہر مقرر کرکے آپس میں نکاح کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ دونوں صورتوں میں اب آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے، لہذا آئندہ سخت احتیاط لازم ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى التاتارخانية:(588/4)

وفي نوادر ابن سماعة عن محمد رحمه الله : إذا شك أنه طلق واحدة أو ثلاثا هي واحدة حتى يستيقن أو يكون أكثر ظنه على خلافه ، وإن قال الزوج : عزمت على أنها ثلاث ! أو هي عندى أنها ثلاث ! أضع الأمر على أشده ، فأخبره عدول حضروا ذلك المجلس وقالوا : كانت واحدة فإذا كانوا عدو لا أصدقهم وأخذ بقولهم ، وعن هشام قال : سألت أبا يوسف عن رجل حلف بطلاق امرأته ولا يدرى بثلاث حلف ، أو بواحدة ؟ قال : يتحرى الصواب فإن استوى ظنه عمل بأشد ذلك عليه ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126)

ثم شك الزوج لا يخلو: إما أن وقع في أصل التطليق أطلقها أم لا؟ وإما أن وقع في عدد الطلاق وقدره؛ أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثا، أو صفة الطلاق أنه طلقها رجعية أو بائنة فإن وقع في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه لما قلنا، وإن وقع في القدر يحكم بالأقل؛ لأنه متيقن به وفي الزيادة شك، وإن وقع في وصفه يحكم بالرجعية؛ لأنها أضعف الطلاقين فكانت متيقنا بها.

فتاوى قاضيخان :(1/ 228)

رجل طلق امرأته واحدة أو اثنتين فنسي ولا يدري أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثاً فقال: وى مرانشايد تا روى  ديكرى  نه  نبيند !  ثم زعم أنه يحل له أن يتزوجها قالوا لا يصدق قضاء۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 208)

ولو قال لها: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت فقال طلقتها قال: أو قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء لأن قوله في المرأة الثانية خرج جواباً فيكون إخباراً عن الإيقاع الأول ليتحقق جواباً۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط-أخرى (4/ 83)

وتصح في العدة إن لم يطلق ثلاثا ولو لم ترض براجعتك أو راجعت امرأتي وبما يوجب حرمة المصاهرة۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409)

(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/صفرالمظفر /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب