| 91763 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا تھا کہ میں طلاق کےایک مسئلےکےبارے میں بار بار مفتیان کرام سے پوچھ رہا تھا اور مجھے وسوسہ بہت تنگ کر رہا تھا۔
پھر ایک دن میں نے سوچا کہ میں قسم کھاؤں اور میں نے اپنے دوست کو جو علمِ دین میں کچھ پانچ ،چھ درجے کر چکا ماشاءاللہ، اسے میسج کیا کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں نہ سوچتا ،پرانا مسئلہ طلاق سمجھو ہواہی نہیں،خیر میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں، اللہ مجھے اور اسے دونوں جہان میں کامیاب کرے، آمین۔خیر،’’ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس میسج سے پرانا مسئلہ دوبارہ کسی مفتی سے زندگی بھر نہ پوچھوں اور اس پر عمل کروں تو میری بیوی کو ایک طلاق ہوگی‘‘۔یہ میسج بھیج کر فوراً اگلا ایس ایم ایس اسی سیکنڈ میں ان شاء اللہ بھی لکھ دیا۔پھر دونوں ڈیلیٹ کر دیے۔مجھے لگتا ہے کہ میں نے منہ سے بھی ان شاء اللہ کا تلفظ ادا کیا اور اس بات پر یقین ہے کہ میں نے طلاق کو ان شاء اللہ پر چھوڑا ،اللہ کی شریعت کے مطابق۔دل میں یہ سوچا کہ طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر اللہ نہ کرے شرط پوری ہو تو اللہ کے حوالے، میں بس اس تکلیف سے نکلنے کے لیے طلاق کہہ رہا ہوں۔لیکن پکی بات نہیں کہ منہ سے کیاکیا کہا؟ایسا لگتا ہے کہ منہ سے کہا۔ الفاظ پرانے ہیں،اس پوری بات کا کوئی گواہ نہیں ہےاور نہ بیوی کو پتا، تو میں غلط بیانی یا جھوٹ نہیں کہہ سکتا ،اس لیے احتیاط سے کام لیا جائے۔اس مسئلے میں میں کوئی بات نہیں چھپا رہا۔دماغ میں پچھلی تحریر تھی کہ اگلی میں لکھنی تھی وسوسے کی وجہ سے اگلی میں فوراً اسی سیکنڈ میں لکھ دی۔ InshaAllah
خیر بس بہت تکلیف میں ہوں آپ سے دعاؤں کی التماس۔نکاح کو چھے ماہ ہو گئے ہیں بہت مشکل سے نکاح کرایا اپنا ایمان بچانے کے لیے، کم عمر میں بہت مشکلات دیکھ کر، پھر مسائل پڑھ پڑھ کر وسوسے ہو گئے۔براہ کرم کوئی حل نکالیں کہ اگر اس طلاق کا مسئلہ نکلتا ہے تو آسانی ہو میرے لیے۔ یہ طلاق بچانا بہت اہم ہے، اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتا۔مجھے بہت وسوسہ ہے کہ مجھ سے 3طلاق نہ ہو جائےزندگی میں۔ آپ سے پوچھنا یہ کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کا اپنے دوست کو میسج بھیجنا کہ ’’میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس میسج سے پرانا مسئلہ دوبارہ کسی مفتی سے زندگی بھر نہ پوچھوں اور اس پر عمل کروں تو میری بیوی کو ایک طلاق ہوگی‘‘، اس سے یمین منعقد ہونے کے ساتھ اس طرح طلاق معلق ہوگئی کہ اگرآپ نے مفتی صاحب سے پرانے مسئلے کے بارے میں پوچھاتو آپ کی بیوی کوطلاق ہوجائےگی۔
چونکہ آپ نے ان شاء اللہ کا میسج الگ بھیجا تھا تو اس کا پہلے طلاق والے میسج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی میسج ڈیلیٹ کرنے سے حکم میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ اسی طرح پہلے میسج کے تحریر کرنے کے دوران آپ کو ان شاء اللہ کے تلفظ میں شک ہے تو اس کا بھی اعتبار نہیں ہوگا، لہذا جیسے ہی آپ پرانے مسئلے کے بارے میں کسی مفتی سے پوچھیں گے تو حانث ہونے کے ساتھ آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 420)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 154)
أن يكون الاستثناء موصولا بما قبله من الكلام عند عدم الضرورة حتى لو حصل الفصل بينهما بسكوت أو غير ذلك من غير ضرورة لا يصح، وهذا قول عامة الصحابة - رضي الله عنهم -، وعامة العلماء۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 276)
وفي «العيون» : إذا كتب إلى امرأته أما بعد أنت طالق إن شاء الله، فإن كان كتب إن شاء الله موصولاً بكتابته أما بعد فأنت طالق لا تطلق، وإن فتر فترة بعدما كتب أنت طالق ثم كتب إن شاء الله تطلق؛ لأن الكتاب من الغائب بمنزلة التلفظ من الحاضر.
المبسوط للسرخسي ط- أخرى (ص: 117)
ومحوه كرجوعه عن التعليق۔
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 50)
قاعدة: من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل ،وتدخل فيها قاعدة أخرى: من تيقن الفعل وشك في القليل، والكثير حمل على القليل؛ لأنه المتيقن ۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/صفرالمظفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


