03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد چھوڑنے کے بعد حکومتی اعزازیہ کا شرعی حکم
91750اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں حکومت کی طرف سے جو اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد دیا جارہا ہے، اگر امام مسجد جس مسجد سے رجسٹرڈ ہوانتظامیہ کے رویوں کی وجہ سے اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں امامت کروانے لگ جائے تو اعزازیہ انتظامیہ مسجد کو دینا ہوگا یا امام مسجد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومتی قواعد کے مطابق یہ اعزازیہ اس مخصوص مسجد کی امامت سے مشروط ہوتا ہے۔ لہٰذا مسجد انتظامیہ (کمیٹی) کے لیے اس رقم کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔ امام صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ جلد از جلد متعلقہ ادارے میں اپنا ریکارڈ منتقل کروا کر نئی مسجد کے پتے پر اعزازیہ منظور کروائیں۔ تاہم نئی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ملنے والی رقم اگرچہ امام صاحب کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ نہ لی جائےیا صدقہ کردی جائے۔

حوالہ جات

 درر الحكام شرح غرر الأحكام( 2 / 236)

 (و) ثاني النوعين الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد أيضا (هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص) ويستحق الأجر بتسليم نفسه مدته، وإن لم يعمل كأجير شخص لخدمته أو( رعي غنمه) وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه صارت مستحقة له والأجر مقابل بها فيستحقه.

رد المحتار (6/ 64):

الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري وسيتضح.

(رد المحتار) (9/ 76 ):

 قال العلامةالحصکفی رحمه الله:(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه)، ويفتى اليوم بصحتها؛ لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

18 صفر المظفر 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب