03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے پیشگی تحفے کی ملکیت کا حکم
91764ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے چچا نے  میرے لیے گولڈ گفٹ کیا  جو کہ انہوں نے میری شادی کا ایڈوانس (پیشگی )  گفٹ کہہ کے دیا جبکہ ابھی میری منگنی نہیں ہوئی، لیکن وہ  گفٹ شاید والد صاحب (مرحوم ) کے ہی ہاتھ پہ رکھا تھا ۔ تو کیا اس گولڈ پہ صرف میرا ہی حق ہے ، یا وہ بھی والد صاحب (مرحوم ) کی  وراثت کا حصہ  ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر یہ بات یقینی ہو کہ آپ کے چچا نے یہ گولڈ آپ کی شادی کے لیے بطورِ تحفہ دیا تھا، تو یہ گولڈ آپ ہی کی ملکیت شمار ہوگا، اور اس میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350):

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال .

درر الحكام شرح مجلة الأحكام  (2/ 428):

( المادة 876 ) : الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف تكون لمن تأتي باسمه من المختون أو العروس أو الوالد والوالدة وإن لم يذكر أنها وردت لمن ولم يمكن السؤال والتحقيق فعلى ذلك يراعى عرف البلدة وعادتها. يعني إذا كان المهدى له بالغا يملك الهدية بقبضه نفسه ، وإن كان صغيرا بقبض وليه أو وصيه أو مربيه .

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب