| 91764 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے چچا نے میرے لیے گولڈ گفٹ کیا جو کہ انہوں نے میری شادی کا ایڈوانس (پیشگی ) گفٹ کہہ کے دیا جبکہ ابھی میری منگنی نہیں ہوئی، لیکن وہ گفٹ شاید والد صاحب (مرحوم ) کے ہی ہاتھ پہ رکھا تھا ۔ تو کیا اس گولڈ پہ صرف میرا ہی حق ہے ، یا وہ بھی والد صاحب (مرحوم ) کی وراثت کا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ بات یقینی ہو کہ آپ کے چچا نے یہ گولڈ آپ کی شادی کے لیے بطورِ تحفہ دیا تھا، تو یہ گولڈ آپ ہی کی ملکیت شمار ہوگا، اور اس میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔
حوالہ جات
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (7/ 350):
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال .
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (2/ 428):
( المادة 876 ) : الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف تكون لمن تأتي باسمه من المختون أو العروس أو الوالد والوالدة وإن لم يذكر أنها وردت لمن ولم يمكن السؤال والتحقيق فعلى ذلك يراعى عرف البلدة وعادتها. يعني إذا كان المهدى له بالغا يملك الهدية بقبضه نفسه ، وإن كان صغيرا بقبض وليه أو وصيه أو مربيه .
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


