| 91676 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
میں ایک دکاندار سے اکثر سامان خریدتا ہوں، جس کی وجہ سے وہ مجھے مخصوص رعائت (Discount) دیتا ہے۔ جب میں کسی دوسرے شخص (جس کا مجھ پر کامل اعتماد ہے) کے لیے اس کی رقم سے سامان خریدنے جاؤں تو دکاندار وہ سامان اصل قیمت (Fix Rate) پر ہی لگاتا ہے، لیکن میرے پرانے تعلق کی بنا پر مجھے رعایت دے دیتا ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس رعائت (ڈسکاؤنٹ) کا اصل مالِک کون ہے؟یعنی جب میں کسی دوسرے شخص کے وکیل (نمایندے) کے طور پر سامان خرید رہا ہوں تو دکاندار کی طرف سے ملنے والی رعائت (ڈسکاؤنٹ) پر شرعاً کس کا حق ہوگا؟ کیا وہ بچت/رعایت خریدار (جس کے پیسے ہیں) کی ملکیت ہے یا خریدنے والے (نمائندے) کی؟
اگر میں دکاندار کو اصل قیمت کے مطابق پیسے دے کر رعائت کی رقم (بچت) اپنے پاس رکھ لوں اور خریدار کو نہ بتاؤں تو کیا یہ شرعاً اور اخلاقاً جائز ہے؟ کیا اس سے امانت میں خیانت یا ناجائز نفع کا گناہ ہوگا؟ نیزاگریہ جائز نہیں تو اس صورتِ حال میں مجھے شرعاً کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، تاکہ میرا معاملہ مکمل حلال، صاف اور شفاف رہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کا رعایت یعنی ڈسکاؤنٹ کی رقم خود رکھنا جائز نہیں، بلکہ اصل موکل یعنی کو واپس کرنا ضروری ہے، کیونکہ فقہی اعتبار سے آپ کی حیثیت وکیل بالشراء کی ہے اور وکیل بالشراء کے لیے اگر موکل کی طرف سے اجرت مقرر نہ کی جائے تو وہ متبرع یعنی احسان کے طور پر معاملہ کرنے والا ہوتا ہے، اس لیے اس کو دیا جانے والا ڈسکاؤنٹ درحقیقت موکل کے لیے سمجھا جائے گا، البتہ اگر فروخت کنندہ اس کو خریدی گئی چیز کا مکمل ثمن یعنی قیمت معاف کر دے تو اس صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق یہ معاملہ خریدوفروخت سے نکل کر ہبہ میں چلا جائے گا، گویا کہ فروخت کنندہ نے وہ چیز وکیل کو بطورِ ہدیہ دی ہے، لہذا اس صورت میں وہ چیز موکل کو دے کر وکیل اس کی مکمل قیمت لینے کا حق دار ہوتا ہے، لیکن اگر اس نے کچھ قیمت معاف کر کے بقیہ رقم وصول کر لی تو اس صورت میں یہ ہبہ شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ شریعت کی نظر میں یوں سمجھا جائے گا کہ فروخت کنندہ نے خریدی گئی چیز پر ڈسکاؤنٹ دیا ہے، اس لیے اس کا مستحق موکل یعنی اصل مالک ہی ہو گا، وکیل کے لیے اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس رعایت اور ڈسکاؤنٹ کو اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہوگا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ وکالت کا معاملہ کرتے وقت موکل سے یہ بات طے کر لی جائے کہ یہ چیز بازار میں اتنے روپے کی فروخت ہو رہی ہے، میں اپنے تعلقات کی وجہ سے اتنی رعایت کروا لوں تو وہ رقم میری شمار ہو گی، پھر اگر موکل اجازت دے دے تو اس صورت میں ڈسکاؤنٹ اپنے پاس رکھنا جائز ہے۔
حوالہ جات
الهندیة(3/ 588) الناشر: دار الفكر، بیروت:
«ولو وهب البائع بعض الثمن عن الوكيل يظهر ذلك في حق الموكل حتى لم يكن للوكيل أن يرجع على الموكل بذلك القدر»ولو وهب كل الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل ولو أبرأه البائع عن جميع الثمن فالجواب فيه كالجواب في هبة جميع الثمن كذا في المحيط
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (7/ 155):
«ولو أمر رجلا أن يشتري له جارية بألف فاشتراها ثم إن البائع وهب الألف من الوكيل فللوكيل أن يرجع على الآمر ولو وهب منه خمسمائة لم يكن له أن يرجع على الآمر إلا بخمس مائة ولو وهب منه خمسمائة ثم وهب منه أيضا الخمسمائة الباقية لم يرجع الوكيل على الآمر إلا بخمس مائة الأخرى لأن الأول حط والثاني هبة»
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث،الفصل الأول،المادة:1467،ج:573/3،ط:دارالجیل)
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/صفرالخیر 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


