03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکی رضامندی کےبغیرخلع کاحکم
91775طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میرا یک طرفہ تنسیخِ نکاح (One-sided annulment of marriage) عدالت سے ہوا ہے، اصل معاملہ یہ ہے کہ میرے شوہر نشے کے عادی تھے اور بے روزگار بھی تھے۔ اگرچہ ہماری مالی حالت بہت کمزور تھی، گھر کے اخراجات قرض لے کر اور اپنے زیورات فروخت کرکے پورے کرتے تھے، لیکن اس کے باوجود ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے، پھر ایک دن میرے سسرال والوں نے میرے شوہر کو بحالیِ صحت (Rehabilitation) کے مرکز بھیج دیا اور مجھ پر جھوٹے الزامات لگا کر مجھے گھر سے نکال دیا۔ انہوں نے میرا سامان بھی میرے میکے بھجوا دیا۔ میرے شوہر کو تقریباً ایک سال تک بحالیِ صحت کے مرکز میں رکھا گیا۔ اسی دوران سسرال والوں نے مجھ سے کہا کہ میں عدالت سے خلع لے لوں۔ چنانچہ اسی عرصے میں عدالت سے تنسیخِ نکاح کا سرٹیفکیٹ بھی جاری ہو گیا، بعد ازاں میرے شوہر بحالیِ صحت کے مرکز سے واپس آ گئے اور اب وہ مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے تو ہماری علیحدگی ہو چکی ہے، لیکن کیا شرعی اعتبار سے بھی ہمارا نکاح ختم ہو گیا ہے یا نہیں؟ میرا دل اس معاملے میں بہت پریشان ہے۔ مزید یہ کہ میرے شوہر بحالیِ صحت کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے تھے۔ خلع کا نوٹس ان کے گھر والوں نے وصول کیا تھا۔ اب جب وہ واپس آئے ہیں تو ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ تنسیخِ نکاح شرعاً معتبر ہے یا میں اب بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہوں؟

تنقیح: سائلہ کی وضاحت اور فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق انہوں نے خلع کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع ایک عقد ہے، جس میں دیگر عقود کی طرح جانبین کی رضامندی ضروری ہے۔ چونکہ آپ کے دائر کردہ خلع کے معاملے میں شوہر کی رضامندی شامل نہیں تھی ،لہٰذا شرعاًیہ خلع درست نہیں اور شرعاً آپ کا نکاح ان سے برقرار ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع :(3/145)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

ردالمحتار علی الدر المختار:(3/449)

قال الزيلعي: ولا بد من قبولها لأنه عقد معاوضة، أو تعليق بشرط، فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول ولا ينزل المعلق بدون الشرط إذ ‌لا ‌ولاية ‌لأحدهما ‌في ‌إلزام ‌صاحبه ‌بدون رضاه، والطلاق بائن لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة.

المبسوط للسرخسي (6/ 173)

والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

22/صفرالمظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب