| 91838 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
ہمارا گھر اور میرے دیور کا گھر ساتھ ساتھ ہے ۔ میرے خاوند اور میرے دیور کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑے رہتے تھے اور میرے دیور اور اس کی بیوی کے بھی آپس میں جھگڑے رہتے تھے اور اس کی بیوی اکثر کھانا نہیں پکاتی تھی جس کی وجہ سے میری ساس ہمارے گھر سے کھانا ان کے گھر بھیجتی تھی ۔
میرے خاوند اس بات پر ناراض ہوتے تھے ایک دن انھوں نے غصے میں آ کر مجھے کہا کہ آج کے بعد اس گھر سے اس گھر میں کوئی چیز گئی تو تمہیں طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے۔
اس کے بعد ایک دن میری ساس نے میرے منع کرنے اور میرے بتانے کے باوجود دیور کے گھر میں کھانا بھیج دیا ۔ اور اس کے بعد میری ساس دیور کے گھر چلی گئی اور اپنے دودھ کا حصہ مانگا اور میں نے اپنی ساس اور مہمانوں کی نیت سے کھانا بھیجا۔اس لیے کہ میں نے یہ سوچا کہ میرے خاوند نے میرے دیور اور دیورانی کے لئے منع کیا ہے اور ساس تو ہمارے گھر کا فرد تھی ۔
اب مجھے یہ بتائیں طلاق واقع ہو گئی یا نہیں ۔ میری تین بچیاں ہیں ۱۸ سال،۱۳ سال،۱۰ سال کی ۔اب وہ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ میرا کوئی ذاتی گھر بھی نھیں ہے ۔ مہربانی فرما کر میری جلد از جلد رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے مطابق آپ کے شوہر نے اس گھر میں کھانا بھیجے جانے کے ساتھ طلاق کو معلق کیا تھا، خواہ کھانا کسی نے بھی بھیجا ہو یا کسی کے لیے بھی بھیجا گیا ہو۔ لہٰذا اس گھر میں کھانا بھیجے جانے کی وجہ سے آپ پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں، اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 743):
(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله .......... وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر......... ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا.
إذا علمت ذلك فاعلم أنه إذا حلف لا يشتري لإنسان شيئا بفلس فاللفظ المسمى وهو الفلس معناه في اللغة والعرف واحد، وهو القطعة من النحاس المضروبة المعلومة فهو اسم خاص معلوم لا يصدق على الدرهم أو الدينار فإذا اشترى له شيئا بدرهم لا يحنث وإن كان الغرض عرفا أن لا يشتري أيضا بدرهم ولا غيره ولكن ذلك زائد على اللفظ المسمى غير داخل في مدلوله فلا تصح إرادته بلفظ الفلس، وكذا لو حلف لا يخرج من الباب، فخرج من السطح لا يحنث، وإن كان الغرض عرفا القرار في الدار وعدم الخروج من السطح أو الطاق أو غيرهما، ولكن ذلك غير المسمى ولا يحنث بالغرض بلا مسمى .
الفتاوى البزازية (1/ 240):
إن دخلت الدار فأنت طالق طالق طالق وهي غير ملموسة فالأول معلق بالشرط والثاني ينزل في الحال ويلغو الثالث، وإن تزوجها ودخل الدار نزل المعلق ولو دخل بعد البينونة قبل التزوج انحل اليمين لا إلى جزاء، ولو موطوءة تعلق الأول ونزل الثاني والثالث في الحال .
القرأن الكريم(البقرة: 230):
فإن طلقها فلاتحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر.لقوله - عز وجل - فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


