| 91784 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم میرا ایک شرعی اور عملی مسئلہ ہے، جس میں رہنمائی مطلوب ہے۔ میری عمر 20 سال ہے اور میں بالغ ہوں۔ میں دینی تعلیم حاصل کر چکا ہوں اور کئی سال مدارس میں زیرِ تعلیم رہا ہوں، اس لیے اپنی تعلیمی ضرورت اور علمی میدان کا کچھ اندازہ رکھتا ہوں۔ اب میری خواہش ہے کہ میں کسی ایسے شہر اور ادارے میں تعلیم حاصل کروں جہاں علمی مواقع زیادہ ہوں اور میری صلاحیتوں میں بہتر ترقی ہو سکے، مثلاً کراچی یا کسی دوسرے بڑے تعلیمی مرکز میں۔ میں ایک چھوٹے گاؤں میں رہتا ہوں۔ ہمارے علاقے کا جو مدرسہ میرے والدین تجویز کرتے ہیں، میرے خیال میں وہاں رہنے سے میری علمی ترقی محدود ہو جائے گی اور کئی سال ایسے گزر جائیں گے جن میں مجھے وہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا جو دوسرے بڑے علمی مراکز میں ممکن ہے۔ میں کسی ناجائز یا خلافِ شرع کام کا ارادہ نہیں رکھتا ، بلکہ میرا مقصد صرف تعلیم، علمی ترقی اور اپنے مستقبل کی بہتر تعمیر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے والدین مجھے اپنے پسندیدہ ادارے کے علاوہ کسی دوسرے مدرسے، جامعہ یا تعلیمی ادارے میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ جب بھی میں کسی بہتر تعلیمی موقع یا کورس کا ارادہ کرتا ہوں تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بظاہر اس کی کوئی شرعی وجہ نہیں ہوتی بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں گھر یا علاقے کے قریب رہوں اور ان کی پسند کے مطابق تعلیم حاصل کروں۔ مزید یہ کہ: والدین الحمد للہ صحت مند ہیں اور انہیں میری ایسی خدمت کی ضرورت نہیں جو میرے گھر سے دور جانے میں مانع ہو۔والدین مالی اعتبار سے بھی مستحکم ہیں۔ ہم دو بھائی ہیں اور میرا دوسرا بھائی گھر میں موجود رہتا ہے۔ میرے جانے سے والدین بے سہارا یا لاوارث نہیں ہوں گے۔ میرا مقصد صرف جائز اور مفید تعلیم حاصل کرنا ہے، کسی معصیت یا نافرمانی کا ارادہ نہیں۔ میں والدین کی بے ادبی، قطع تعلقی یا دل آزاری نہیں چاہتا بلکہ حتی الامکان ادب، احترام اور حسنِ سلوک کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:
- کیا بالغ اولاد پر والدین کی اطاعت ایسے معاملات میں بھی واجب ہے جن کا تعلق تعلیمی ادارے کے انتخاب اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے ہو؟
- اگر والدین کسی شرعی وجہ کے بغیر بہتر اور زیادہ مفید تعلیمی موقع سے منع کریں تو کیا ان کی ناراضی کے باوجود، ادب اور حسنِ سلوک کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں تعلیم حاصل کرنا جائز ہے؟
- اگر والدین محض اپنی پسند کو نافذ کرنا چاہتے ہوں جبکہ اولاد کے لیے دوسری جگہ واضح علمی فائدہ موجود ہو تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟کیا ایسی صورت میں والدین کی بات ماننا ہی ضروری ہے، اگرچہ اس سے علمی نقصان اور تعلیمی مواقع کا ضیاع ہو رہا ہو؟ براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور معتبر فتاویٰ کے حوالوں کے ساتھ مفصل رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ میں والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بے حد تاکید کی گئی ہے، تاہم جہاں تک اعلیٰ دینی تعلیم (جو فرضِ کفایہ یا مستحب کے درجے میں ہے) کے لیے سفر کرنے اور تعلیمی ادارے کے انتخاب کا تعلق ہے، تو شریعت کی رو سے اس میں چند شرائط (والدین محتاج نہ ہوں ، سفر پرخطر نہ ہو، لڑکا امرد نہ ہو)کے ساتھ والدین کی اجازت کے بغیر بھی سفر کرنے کی گنجائش ہے۔آپ نے جو حالات بیان کیے ہیں کہ والدین الحمدللہ صحت مند ہیں، مالی طور پر مستحکم ہیں، آپ کا دوسرا بھائی ان کی خدمت کے لیے گھر پر موجود ہے، اور آپ کے جانے سے ان کےکسی شدید تکلیف و حرج میں مبتلا ہونے کا کوئی اندیشہ (خوفِ ضیعہ) نہیں ہے، تو ایسی صورت میں آپ کے لیے اعلیٰ اور بہتر دینی تعلیم کے حصول کی خاطر کسی دوسرے شہر یا بڑے تعلیمی مرکز (مثلاً کراچی وغیرہ) میں جانا شرعاً جائز ہے۔ ان اصولوں کی روشنی میں آپ کے مخصوص سوالات کے جوابات بھی درج ذیل ہیں:
1۔آپ بالغ ہیں اور تعلیمی ادارے کے انتخاب کا آپ کو شرعاً اختیار حاصل ہے۔ چونکہ آپ کے دور جانے سے والدین کی کسی واجبی حق تلفی یا خدمت میں حرج واقع نہیں ہو رہا (کیونکہ وہ مستغنی ہیں اور دوسرا بھائی موجود ہے)، اس لیے آپ کے ذمے اس مخصوص معاملے میں ان کی اطاعت واجب نہیں اور آپ اپنے تعلیمی مستقبل کے لیے بہتر ادارے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
2۔ جب والدین بغیر کسی معقول شرعی عذر یا محتاجی کے روک رہے ہوں، تو آپ کے لیے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بہتر تعلیمی موقع کے لیے دوسری جگہ جانا شرعاً جائز ہے۔ یہ عمل والدین کی نافرمانی یا بے ادبی میں داخل نہیں ہے۔
3۔ اگر والدین محض اپنی پسند نافذ کرنا چاہتے ہوں جس سے آپ کے تعلیمی مواقع کا ضیاع اور واضح علمی نقصان ہو رہا ہو، تو ایسی صورت میں شریعت آپ کو ان کی بات ماننے کا پابند نہیں کرتی۔
مذکورہ بالا شرعی گنجائش کے باوجود، ایک سعادت مند بیٹے کی حیثیت سے آپ کو چاہیے کہ والدین سے براہِ راست بحث و تکرار یا تلخ کلامی سے گریز کریں۔ خاندان کے کسی سمجھدار اور بااثر شخص یا کسی مقامی مستند عالمِ دین کے ذریعے انہیں حکمت اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں کہ آپ کا مقصد صرف علمی پختگی ہے جو آپ کے اور خود ان کے لیے بھی آخرت میں صدقہ جاریہ بنے گا۔ اگر پھر بھی وہ دل سے راضی نہ ہوں اور آپ کو جانا پڑے، تو دورانِ تعلیم مسلسل ان سے رابطے میں رہیں، چھٹیوں میں ان کی خدمت کریں، اور اپنے حسنِ اخلاق سے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتے رہیں۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 408):
«وله الخروج لطلب العلم الشرعي بلا إذن والديه لو ملتحيا وتمامه في الدرر»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 408):
«(قوله وله الخروج إلخ) أي إن لم يخف على والديه الضيعة بأن كانا موسرين، ولم تكن نفقتهما عليه. وفي الخانية: ولو أراد الخروج إلى الحج وكره ذلك قالوا إن استغنى الأب عن خدمته فلا بأس، وإلا فلا يسعه الخروج، فإن احتاجا إلى النفقة ولا يقدر أن يخلف لهما نفقة كاملة أو أمكنه إلا أن الغالب على الطريق الخوف فلا يخرج، ولو الغالب السلامة يخرج. وفي بعض الروايات لا يخرج إلى الجهاد إلا بإذنهما ولو أذن أحدهما فقط لا ينبغي له الخروج، لأن مراعاة حقهما فرض عين والجهاد فرض كفاية، فإن لم يكن له أبوان وله جدان وجدتان فأذن له أبو الأب وأم الأم دون الآخرين لا بأس بالخروج لقيامهما مقام الأبوين، ولو أذن الأبوان لا يلتفت إلى غيرهما هذا في سفر الجهاد، فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته إذ ليس فيه إبطال حقهما إلا إذا كان الطريق مخوفا كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما وإن استغنيا عن خدمته ولو خرج المتعلم وضيع عياله يراعى حق العيال اهـ (قوله لو ملتحيا) أفاد أن المراد بالأمرد في كلام الدرر الآتي خلاف الملتحي إذ لو كان معذورا يخشى عليه الفتنة فإن بعض الفسقة يقدمه على الأمرد (قوله وتمامه في الدرر) قال فيها وإن كان أمرد فلأبيه أن يمنعه ومرادهم بالعلم العلم الشرعي»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 125):
«وفيه لا يحل سفر فيه خطر إلا بإذنهما. وما لا خطر فيه يحل بلا إذن ومنه السفر في طلب العلم»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 366):
«رجل خرج في طلب العلم بغير إذن والديه فلا بأس به ولم يكن هذا عقوقا قيل هذا إذا كان ملتحيا فإن كان أمرد صبيح الوجه فلأبيه أن يمنعه من ذلك الخروج كذا في فتاوى قاضي خان. ولو خرج إلى التعلم إن كان قدر على التعلم وحفظ العيال فالجمع بينهما أفضل ولو حصل مقدار ما لا بد منه مال إلى القيام بأمر العيال ولا يخرج إلى التعلم إن خاف على ولده كذا في التتارخانية ناقلا عن الينابيع.»
احسن الفتاوی (ج8،ص180،81)
دور حاضر قحط الرجال کا دور ہے، مدارس دینیہ و جامعات اسلامیہ میں علم و عمل کے لحاظ سے ماحول اس قدر ابتر ہو چکا ہے کہ ہر سال ہر جامعہ سے سینکڑوں فارغ ہونے والوں میں گنتی کے چند افراد علم و عمل کے اعتبار سے باصلاح ہوتے ہیں۔ راسخ فی العلم اور محقق علماء ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہوتے چلے جا رہے ہیں، ان اکابر علماء کا منصب سنبھالنے، کسی حد تک ان کی جانشینی کا حق ادا کرنے، اشاعتِ علم اور حفاظتِ دین کا فریضہ ادا کرنے اور اکابر کے خون پسینے سے سینچے ہوئے اس باغیچہ کو سرسبز و شاداب رکھنے کی امید اگر کی جا سکتی ہے تو ان ہی معدودِ باصلاحیت نوجوانوں سے کی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف والدین اور اعزہ و اقارب کے دین سے حد درجہ دور اور حبِ دنیا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حال یہ ہے کہ وہ کسی قیمت پر علم سے بہرہ مند اولاد کو کسی بہتر ادارے میں اطمینان سے کام کرنے کی بخوشی اجازت نہیں دیتے، وہ صرف اپنی سہولت، آسائش اور تعیش کو پیش نظر رکھتے ہیں، چنانچہ دنیا کمانے اگر کوئی لڑکا امریکہ یا یورپ بھی چلا جائے تو ان کو کوئی اشکال نہیں ہوتا۔
بعض تو دین کا کام کرنے ہی نہیں دیتے بلکہ دنیا کمانے پر لگا دیتے ہیں اور بعض قریب رہ کر تدریس کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قریب رہ کر مدرس گھر کے مسائل میں الجھ جاتا ہے اور دلجمعی سے کام کرنا ممکن نہیں رہتا بلکہ بسا اوقات بہتر ماحول نہ ملنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ تدریس سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے اور ہر خدمت دین سے ہاتھ دھو کر خالص دنیا دار بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات برے ماحول کے اثر سے دین اور علماء دین سے متنفر ہو جاتا ہے اور طرح طرح کے فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس طرح وہ بجائے دین کی قابل قدر خدمت انجام دینے کے دین اور علماء دین کی بدنامی کا ذریعہ بنتا ہے اور بہت سے علم کا شوق رکھنے والوں کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس بناء پر اگر گنے چنے نوجوانوں کو بھی بے دین والدین کی آسائش اور تعیش کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو دین و علم دین کا رہا سہا نام بھی دنیا سے مٹ جائے گا اور دین کا ایک مسئلہ بتانے والا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
اس لئے والدین اور اعزہ نے جب اپنی اولاد میں سے کسی کو عالم بنانے کی سعادت حاصل کی تو اب اس کی خدماتِ دینیہ میں رکاوٹ بن کر شقاوت اپنے سر نہ لیں، بلکہ اس کو بخوشی خدمتِ دین کی اجازت دیں بلکہ اس کے ساتھ تعاون کر کے سعادتِ دائمہ کو اپنا مقدر بنائیں اور تدریس و خدمتِ دین کے لئے جگہ کے انتخاب میں اس کو پورا پورا اختیار دیں، وہ اپنی طبیعت اور صلاحیت کو مدنظر رکھ کر بہتر جگہ کا انتخاب کر سکتا ہے، وہی زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے کہ وہ کہاں زیادہ بہتر خدمت کر سکتا ہے اور اس کے لئے علمی و عملی ترقی کے مواقع کہاں زیادہ ہیں؟
خلاصہ یہ کہ دور حاضر میں کسی جگہ تدریس کے لئے والدین کی رضا ضروری نہیں بلکہ اگر والدین خدمت کے محتاج نہیں اور مدرس ان کی تمنا پوری کرنے میں اپنا دینی نقصان سمجھتا ہے اور دور رہ کر متعدی و غیر متعدی خدمات احسن طریقہ سے انجام دے سکتا ہے تو اس امر میں والدین کی اطاعت جائز نہیں۔
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
٢٥ /صفرالمظفر/١٤٤٨
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


