03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجدکےوقف،تولیت اورمتولی کی اولادکےحقِ تولیت سےمتعلق شرعی احکام
91704وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں نے خالص رضائے الٰہی کی خاطر مسجد بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس وقت ایک پراپرٹی ڈیلر نے دس مرلے زمین مسجد کے لیے دی، جو اس وقت اگلی گلی کے اندر تھی اور مسجد کے لیے موزوں نہیں تھی۔ وہ زمین اپنے حال پر رہی۔ میں نے اس وقت پراپرٹی ڈیلر سے اس شرط پر زمین لی کہ اس کا انتقال میرے نام پر ہوگا تاکہ بعد میں قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہوں۔ قانونی مجبوری کے تحت اور مسجد کی حفاظت کے لیے احتیاطاً یہ بات سامنے رکھی، جس پر وہ راضی ہو گئے اور اس زمین کا انتقال میرے والد صاحب کے نام پر ہو گیا۔ مسجد کے لیے وہ جگہ مختص نہ ہو سکی، نہ وہاں مسجد کی تعمیر ہوئی اور نہ ہی نماز پڑھنا شروع ہوئی۔

بعد ازاں مین روڈ پر ایک کنال کی جگہ مل گئی، جس کا باقاعدہ انتقال (رجسٹری) میں نے اپنے نام کروا لیا۔ یہ انتقال اور رجسٹری صرف قانونی حفاظت اور دوسروں کی مداخلت روکنے کے لیے اپنے نام کروائی گئی، جبکہ میں اس جگہ کو مسجد کے لیے وقف تصور کرتا ہوں۔ مسجد کی حفاظت کے لیے میں نے اس زمین پر اپنی نگرانی میں مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا۔ ایک بزرگ شخصیت سے اس کا سنگِ بنیاد رکھوایا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے نام پر مسجد کا نام رکھا۔ مسجد کی تعمیر میں سب نے حصہ لیا اور مسجد تعمیر ہو گئی۔

مسجد کی تعمیر میں کسی پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اب وہاں باقاعدہ نمازیں ادا کی جا رہی ہیں؛ اذان، جماعت اور دیگر دینی سرگرمیاں جاری ہیں۔ محلے والوں کے مشورے سے نماز پڑھانے اور بچوں کو قاعدہ اور قرآن مجید پڑھانے کے لیے مسجد میں ایک مولانا صاحب کو مقرر کیا گیا جو حافظِ قرآن بھی ہیں۔ الغرض وہ عملاً مسجد بن چکی ہے، جس میں جمعہ اور عیدین کی نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں۔

اب صرف ایک گھر کے افراد یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس مسجد کے لیے لازماً الگ سے اسٹامپ پیپر پر "وقف نامہ" تحریر کیا جائے، تاکہ میری تولیت ختم ہو اور آئندہ بھی میری اولاد میں سے کوئی متولی نہ رہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کا نام درست نہیں، حسنین تو ان (یعنی میرے) بیٹے کا نام ہے، حالانکہ میں نے قطعاً اس نیت سے نام نہیں رکھا تھا۔ ایک اعتراض وہ یہ بھی کرتے ہیں کہ مسجد کے دروازے پر 'زیرِ نگرانی' کے تحت میرا نام نہیں ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ نام صرف قانونی حفاظت اور دوسروں کی مداخلت روکنے کی خاطر ہے، جو ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ باقی محلے کے لوگ بھی ان سے تنگ ہیں، حتیٰ کہ وہ اکثر اوقات مسجد کے امام کے ساتھ بھی نماز کے معاملات میں الجھتے رہتے ہیں۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ:

1۔ جب زمین مسجد کی غرض سے دی جا چکی، اس پر مسجد تعمیر ہو چکی ہے اور اس میں نماز بھی قائم ہو گئی ہے، تو کیا شرعاً اس کے وقف ہونے کے لیے الگ سے اسٹامپ پیپر پر وقف نامہ تحریر کرنا ضروری ہے؟

 2۔ اگر مسجد بالفعل قائم ہو چکی ہو تو کیا محض وقف نامہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کے وقف ہونے میں کوئی شرعی نقص باقی رہتا ہے؟

3۔ کیا شرعاً موجودہ منتظم یا متولی کے لیے محض لوگوں کے مطالبے پر اپنی تولیت سے دستبردار ہونا ضروری ہے؟

 4۔ اگر موجودہ متولی کے بعد اس کی اولاد میں سے کوئی شخص دیانت، امانت، اہلیت اور دینی صلاحیت رکھتا ہو تو کیا شرعاً اس کے لیے مسجد کی تولیت یا امامت سنبھالنا جائز ہے، یا محض نسب کی بنیاد پر اسے محروم کرنا ضروری ہے؟

واضح رہے کہ میں اوقاتِ نماز، اذان اور اقامت جیسے امور میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ امام کی غیر موجودگی میں صرف اس وجہ سے امامت کراتا ہوں کہ میں درسِ نظامی کا فاضل ہوں۔ اگر اس وقت کوئی حافظ، قاری یا عالمِ دین موجود ہو تو میں ان ہی کو امامت کے لیے کہتا ہوں۔

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں صحیح شرعی حکم دلائل کے ساتھ بیان فرما دیں تاکہ اس مسئلے میں پائے جانے والے اختلاف کا ازالہ ہو سکے۔ بینوا توجروا!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1،2) شرعی اعتبار سے مسجد کے لیے زمین وقف کرنے کے لیے اسٹامپ پیپر یا تحریری وقف نامہ بذاتِ خود شرطِ صحت نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اپنی مملوکہ زمین کو مسجد کے لیے مخصوص کرکے اپنی ملکیت اور ذاتی تصرف سے خارج کردے، وہاں لوگوں کو نماز کے لیے عام اجازت دے دے اور اس میں باقاعدہ نماز ادا ہونا شروع ہوجائے تو شرعی اصول کے مطابق وہ جگہ مسجد کے حکم میں آجاتی ہے۔

لہٰذا اگر مذکورہ زمین مسجد کے لیے مخصوص کرکے اس پر مسجد تعمیر کی گئی اور اس میں پنج وقتہ نماز، جمعہ وغیرہ باقاعدگی سے ادا ہونے لگے تو محض اس وجہ سے کہ وقف نامہ اسٹامپ پیپر پر تحریر نہیں کیا گیا، مسجد کے شرعی وقف ہونے کی نفی نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے وقف ہونے میں کوئی شرعی نقص باقی رہتا ہے۔ البتہ موجودہ زمانے کے حالات کے پیشِ نظر مسجد کے حقوق اور وقف کی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ تحریری وقف نامہ، رجسٹری یا متعلقہ قانونی دستاویزات مکمل کرنا مفید اور احتیاط کا تقاضہ ہے، تاکہ بعد میں کسی شخص کو مسجد کی ملکیت یا انتظام کے بارے میں نزاع پیدا کرنے کا موقع نہ ملے۔

 (3) اگر زمین واقف نے اپنی ملکیت سے نکال کر مسجد کے لیے وقف کی ہے اور مسجد کی تعمیر و انتظام کے لیے کسی شخص کو متولی مقرر کیا ہے، تو اصل اصول یہ ہے کہ واقف کو تولیت کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس کے مقرر کردہ متولی کو بھی اس وقت تک تولیت کا حق حاصل رہے گا جب تک وہ خیانت، فسقِ علانیہ، نااہلی یا کسی ایسی شرعی وجہ کا مرتکب نہ ہو جس کی بنا پر اسے عہدۂ تولیت سے ہٹانا ضروری ہو۔

محض بعض لوگوں کی خواہش، مخالفت یا باہمی اختلاف کی وجہ سے کسی دیانت دار اور اہل متولی کو اس کے منصب سے معزول کرنا درست نہیں۔ لہٰذا اگر آپ مسجد کے معاملات امانت، دیانت اور شرعی اصولوں کے مطابق انجام دے رہے ہیں اور آپ کی طرف سے کوئی شرعی خیانت یا انتظامی نااہلی ثابت نہیں، تو محض چند افراد کے مطالبے پر آپ پر تولیت سے دستبردار ہونا لازم نہیں۔

(4) عمومی طور پر یہ کہنا کہ "متولی کی اولاد میں سے آئندہ کوئی شخص متولی نہیں بن سکتا" درست نہیں، کیونکہ محض کسی متولی کی اولاد ہونا تولیت کے حق سے مانع نہیں۔ اگر متولی کی اولاد میں کوئی شخص دیانت دار، امانت دار، انتظامی صلاحیت رکھنے والا اور مسجد کے مصالح کی رعایت کرنے والا ہو تو اسے تولیت سونپنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ تولیت محض خاندانی اجارہ داری نہیں، بلکہ مسجد کے مصالح، واقف کی شرائط اور شرعی اصولوں کے مطابق امانت ہے؛ اس لیے اگر اولاد میں کوئی شخص نااہل یا غیر امین ہو تو صرف نسب کی وجہ سے اسے متولی بنانا ضروری نہیں ہوگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ امامت اور تولیت دو الگ امور ہیں۔ کسی شخص کا متولی ہونا لازماً اس کے امام ہونے کو مستلزم نہیں، اور امام ہونا لازماً متولی ہونے کی دلیل نہیں۔ مسجد کی امامت کے لیے الگ شرعی شرائط اور ترجیحات ہیں، جبکہ تولیت مسجد کے انتظام، حفاظت، وقف کی شرائط کی پابندی اور مصالحِ مسجد کی نگرانی سے متعلق ہے۔ اس لیے متولی کی اولاد میں سے کوئی اہل شخص مستقبل میں امام بنے یا متولی، اس کا فیصلہ مسجد کے مصالح، واقف کی شرائط اور شرعی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔

دیگر اعتراضات کے جوابات

١۔ مسجد کا نام "حسنین کریمین" رکھنے پر اعتراض کرنادرست نہیں کیونکہ مسجد کا نام "مسجد حسنین کریمین" رکھنا شرعاً جائز ہے، بلکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے محبت و عقیدت کے اظہار کی ایک صورت ہے۔ محض اس بنیاد پر اعتراض کرنا کہ یہ نام کسی شخص کے عزیز یا خاندان سے متعلق ہے، درست نہیں۔ مسجد کا نام رکھنے سے اس کی وقفیت یا شرعی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اصل اعتبار زمین کو مسجد کے لیے وقف کرنے اور مسجد کے شرعی احکام کی پابندی کا ہے۔

۲۔ اگر مسجد کے دروازے یا کسی مناسب مقام پر "زیرِ نگرانی فلاں" لکھنے کا مقصد صرف مسجد کے انتظام، حفاظت اور نظم و ضبط کی وضاحت ہو اور اس سے یہ تاثر مقصود نہ ہو کہ مسجد کسی فرد کی ذاتی ملکیت ہے، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں،لہذا اس پر اعتراض کرنادرست نہیں ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ عبارت ایسی ہو جس سے مسجد کی وقف حیثیت واضح رہے، مثلاً "مسجد حسنین کریمین — زیرِ انتظام/زیرِ نگرانی متولیِ مسجدفلاں" وغیرہ، تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

مستقبل کے حوالے سے ضروری مشورہ

چونکہ آپ کے بیان کے مطابق بعض افراد مسجد کے انتظام اور تولیت کے حوالے سے اعتراضات پیدا کر رہے ہیں، اس لیے مناسب ہوگا کہ جذباتی ردِعمل کے بجائے مسجد کے شرعی اور قانونی تحفظ کا مستقل انتظام کیا جائے۔ مسجد کی وقفیت کو باقاعدہ تحریری دستاویز میں محفوظ کیا جائے، واقف کی شرائط واضح طور پر درج کی جائیں، متولی کا تقرر اور اس کے اختیارات تحریر کیے جائیں اور جہاں قانوناً ضروری ہو وہاں وقف کی رجسٹریشن بھی مکمل کی جائے۔ اس سے آئندہ کے اختلافات اور دعوؤں کا امکان بہت کم ہوجائے گا۔ تاہم قانونی دستاویز بناتے وقت یہ بات ضروری ہے کہ اس میں مسجد کو کسی فرد کی ذاتی ملکیت ظاہر نہ کیا جائے، بلکہ شرعی وقف کی حیثیت کو واضح رکھا جائے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية / الفتاوى الهندية (جلد 2، صفحہ 455):

"مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لَمْ يَزُلْ مِلْكُهُ عَنْهُ حَتَّى يُفْرِزَهُ عَنْ مِلْكِهِ بِطَرِيقَةٍ وَيَأْذَنَ بِالصَّلَاةِ أَمَّا الْإِفْرَازُ فَلَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَخْلُصُ لِلَّهِ تَعَالَى إلَّا بِهِ"

حاشية ابن عابدين / رد المحتار (جلد 4، صفحہ 356): "

(وَيَزُولُ مِلْكُهُ عَنْ الْمَسْجِدِ وَالْمُصَلَّى) بِالْفِعْلِ وَ (بِقَوْلِهِ جَعَلْته مَسْجِدًا) عِنْدَ الثَّانِي (وَشَرَطَ مُحَمَّدٌ) وَالْإِمَامُ

(الصَّلَاةَ فِيهِ)"

حاشية ابن عابدين / رد المحتار (جلد 4، صفحہ 424):

 "لَا يَجُوزُ لِلْقَاضِي عَزْلُ النَّاظِرِ الْمَشْرُوطِ لَهُ النَّظَرُ بِلَا خِيَانَةٍ ... إذَا كَانَ لِلْوَقْفِ مُتَوَلٍّ مِنْ جِهَةِ الْوَاقِفِ أَوْ مِنْ

جِهَةِ غَيْرِهِ مِنْ الْقُضَاةِ لَا يَمْلِكُ الْقَاضِي نَصْبَ مُتَوَلٍّ آخَرَ بِلَا سَبَبٍ مُوجِبٍ لِذَلِكَ وَهُوَ ظُهُورُ خِيَانَةِ الْأَوَّلِ أَوْ شَيْءٍ آخَرَ"

الفتاوى العالمكيرية / الفتاوى الهندية (جلد 2، صفحہ 409):

 "وَلَوْ أَنَّ الْوَاقِفَ شَرَطَ الْوِلَايَةَ لِنَفْسِهِ وَكَانَ الْوَاقِفُ غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَى الْوَقْفِ فَلِلْقَاضِي أَنْ يَنْزِعَهَا مِنْ يَدِهِ ... وَلَوْ أَنَّ الْوِلَايَةَ لِنَفْسِهِ وَشَرَطَ أَنْ لَيْسَ لِسُلْطَانٍ أَوْ قَاضٍ عَزْلُهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ مَأْمُونًا فِي وِلَايَةِ الْوَقْفِ كَانَ الشَّرْطُ بَاطِلًا وَلِلْقَاضِي أَنْ يَعْزِلَهُ وَيُوَلِّيَ غَيْرَهُ"

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (جلد 1، صفحہ 228):

"عَمَلًا بِشَرْطِ الْوَاقِفِ الْمَزْبُورِ؛ لِأَنَّهُ كَنَصِّ الشَّارِعِ فِي وُجُوبِ الْعَمَلِ وَفِي الْمَفْهُومِ وَالدَّلَالَةِ كَمَا صَرَّحَ بِذَلِكَ فِي الْأَشْبَاهِ."

حاشية ابن عابدين / رد المحتار (جلد 4، صفحہ 422، 437):

"مَطْلَبٌ وِلَايَةُ نَصْبِ الْقَيِّمِ إلَى الْوَاقِفِ ثُمَّ لِوَصِيِّهِ ثُمَّ لِلْقَاضِي ... مَطْلَبٌ فِي شَرْطِ التَّوْلِيَةِ لِلْأَرْشَدِ فَالْأَرْشَدِ"

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/02/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب