| 91791 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
ایک بندے کو خدمت فاؤنڈیشن کی طرف سے کمرے کی رقم ملی، جوکہ تقریباً چار سے ساڑھے چار لاکھ تک ہے، اس بندے کے پاس اپنی ذاتی زمین نہیں ہے کہ جس پر کمرہ تعمیر کرے، اب یہ شخص اپنے کمرے (کمرے کی رقم، کاغذات میں کمرہ لکھا گیا) کو دولاکھ یا کچھ کمی زیادتی کے عوض کسی شخص کےہاتھ بیچ رہا ہے، اس کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ فاؤنڈیشن کی طرف سے پہلی قسط ڈیڑھ لاکھ آتی ہے، جس میں سے لاکھ روپیہ یہ مالک شخص خود رکھ لیتا ہے اورپچاس ہزار کمرہ خریدنے والے کو دےدیتا ہے،خریدار اپنی طرف سےکچھ پیسے ملا کر وہ کمرا چھت تک دیواریں تعمیرکرلیتا ہے، دس پندرہ دن کے بعد دوسرا ڈیڑھ لاکھ آتا ہے تو پھر مالک لاکھ روپیہ لےکر بقیہ پچاس ہزار کمرہ خریدنے والے کو دیتا ہے، خریدنے والا اس پچاس ہزار کے ساتھ کچھ پیسے ملا کر کمرے کی چھت ڈالتا ہے، اب جو بقایا قسط رہتے ہیں، مالک اپنے اکاؤنٹ سے نکال کر کمرا خریدنے والے کو دیتا ہے خریدار بقیہ پیسہ بھی مالک سے لےکر کمرے میں لگاتا ہے اور کمرے کو استعمال میں لاتا ہے۔ اگر یہ معاملہ ناجائز ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہو سکتی ہے؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ جس شخص کے نام پر کمرہ بنانے کے لیے پیسے آتے ہیں، اس کو چونکہ کمرے کی بجائے پیسوں کی ضرورت ہے، اس لیے وہ شخص دوسرے کو یہ کمرہ بیچ دیتا ہے، کاغذات میں چونکہ کمرہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کے نام پر یہ کمرہ آیا ہے تو لوگ اس کو کمرے سے تعبیر کرتے ہیں اور کمرہ کہہ کر ایک دوسرے کو بیچتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ ملنے والی رقم ہوتی ہے جس کو کمی بیشی کے ساتھ بیچا اور خریدا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق کمرے کی خریدوفروخت درحقیقت اس رقم کی خریدوفروخت ہوتی ہے جو کمرہ بنانے کے عوض نامزد شخص کو ملنے والی ہوتی ہے(کمرہ کا لفظ صرف کاغذات میں درج ہونے کی وجہ سے بولا جاتا ہے) اور یہ خریدوفروخت چونکہ روپیہ کی روپیہ کے عوض ہوتی ہےاور اس میں دونوں طرف سے کرنسی ایک ہونے کے ساتھ ساتھ کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت ہوتی ہےاور یہی سودی معاملے کی حقیقت ہے، نیز اس میں دونو ں طرف سے ایک جنس ہونے کی صورت میں ادھار کا معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہے، لہذااس میں سودی معاملہ ہونے کی مکمل شرائط پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ معاملہ سودی اور حرام ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو لاکھ روپیہ ادھار دے کر کہے کہ تم مجھے اتنی مدت کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار دو گے اور دوسرا شخص اس کو تسلیم کر لے تو یہ معاملہ واضح طور پر سودی اور ناجائز ہوگا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ اگر كمره كے ليے رقم لينے والا شخص خدمت فاؤنڈیشن کی شرائط کے مطابق مستحق (اگر وہ مستحق نہیں ہے تو اس کے لیے یہ رقم لینا جائز نہیں) ہو تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ کمرہ لینے والا شخص اپنی زمین پر کمرہ بنا کر آگے فروخت کر ے، اس صورت ميں وہ شخص زمین کی قیمت شامل کر کے چار لاکھ سے زیادہ قیمت پر بھی فروخت کرسکتا ہے۔
اور اگر اس کے پاس ذاتی زمین نہ ہو تو وہ کسی زمین والےشخص سے معاملہ کرلے اور اس سے یہ طے کرے کہ آپ مجھے اپنی زمین پر کمرہ بنانے کی اجازت دے دیں، میں یک طرفہ وعدہ کرتا ہوں کہ کمرہ بننے کے بعدآپ کو فروخت کروں گا، پھر یہ شخص خدمت فاؤنڈیشن سےرقم نکلوا کر اس کی جگہ کمرہ تعمیر کر ے اور پھراپنے وعدہ کے مطابق کمرے کی عمارت دوسرے شخص کو بیچ دے تو یہ صورت بھی جائز ہے، نیزاس صورت میں اگر دوسرے شخص نے مالی یا جسمانی طور پر کمرہ تعمیر کرنے میں تعاون کیا ہوتوباہمی رضامندی سے چار لاکھ سے کم قیمت پر بھی عمارت فروخت کی جا سکتی ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 61) الناشر: دار احياء التراث العربي – بيروت:
الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه، ولا يعتبر الوصف لأنه لا يعد تفاوتا عرفا
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
2/ربیع الاول1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


