03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق نامےپردستخط کرنےکاحکم
91859طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرا نام ارشد ہے اور میں احسن آباد میں رہائش پذیر ہوں۔ عرض یہ ہے کہ تقریباً تین سال پہلے میں نے اپنی بیٹی کی شادی نوید نامی لڑکے سے کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ لڑکا نشہ کرتا ہے اور نشہ کی حالت میں میری بیٹی پر تشدد کرتا ہے۔ میرے بارہا سمجھانے کے باوجود لڑکا اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ لہذا مجبورا ًمجھے اپنی بیٹی کے لیے طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل کی طرف جانا پڑا۔ اس عرصہ میں میری بیٹی کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ اب لڑکا میری بیٹی کے ساتھ کیے گئے اپنے رویے پر شرمندہ ہے اور خود کی بیٹی پیدا ہونے کے بعد اب معافی کا طلبگار ہے اور دوبارہ میری بیٹی سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔

میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ طلاق کے پیپرز پر تین بار طلاق کے الفاظ تحریر ہوتے ہیں اور لڑکے نے ان پیپرز پر دستخط کیے ہیں تو کیا یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین طلاقیں شمار ہوں گی؟ اور اب اگر لڑکا اور لڑکی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ کیا اس میں کوئی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی صورت نکلتی ہے تو اس کی کیا شرائط ہوں گی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ طلاق لڑکے نے زبانی نہیں دی۔ جو پیپرز ہم طلاق کے لے کر گئے تھے ان پر اس نے دستخط کیے تھے اور بات کو تقریباً چار سے پانچ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور میں اہل سنت سے تعلق رکھتا ہوں۔

 تنقیح :سوال کے ساتھ ایک طلاق نامہ اور دوسرا بچی کی حوالگی کا اقرار نامہ منسلک ہے۔ ارشد علی جو لڑکی کے والد ہیں انہوں نے نوید سے طلاق کا مطالبہ کیا تو نوید شوہر نے کہا اگر بچی میرے حوالے کرو گے تو تب میں طلاق نامے پر دستخط کروں گا۔ اس لیے بچی کی حوالگی کے پیپر بنوا کر اس کے حوالے کی۔ تو پھر نوید شوہر نے طلاق نامہ جو ارشد علی نے بنوایا تھا اس پر بغیر پڑھے سائن کیے۔ نوید کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اس پر اس نے انگوٹھے کے نشان اور دستخط کیے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق جس طرح زبانی دینے سے واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح اپنی مرضی سےطلاق لکھنے یا طلاق نامے پر دستخط کرنے سے بھی واقع ہو جاتی ہے۔ بیان کردہ صورت میں چونکہ شوہر نے رضامندی سے تین طلاقوں پر دستخط کر دیے ہیں، تو اس سے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور آپ کی بیٹی کا اپنے شوہر سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہا اور نہ ہی موجودہ صورتحال میں ان کے مابین دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 100)

وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 274)

يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة.فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدراً ومعنوناً وإنها على وجهين:الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)

الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة .....وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 247)

ولواستکتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها۔

الاختيار لتعليل المختار (3/ 150)

(والمبانة بالثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم تبين منه) لقوله تعالى: {فإن طلقها} يعني الثالثة، {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، والنكاح المطلق في الشرع ينصرف إلى الصحيح حتى لو دخل بها في نكاح فاسد لا تحل للأول، وقوله: {حتى تنكح}  يقتضي الدخول لما ذكرنا أن النكاح الشرعي هو الوطء، ولقوله (زوجا) ونكاح الزوج لا يكون إلا بالوطء۔

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

02/ربیع الاول/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب