| 91799 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
مقروض نے پیسے دے دیے، لیکن بعد میں ان میں سے ایک پانچ ہزار کا نوٹ نقلی نکلا۔ اب گواہ پیش کرنا کس کے ذمے ہے اور قسم کس پر آئے گی ؟ صورت حال یہ ہے کہ 90,000 (نوے ہزار روپے )کی چیز خریدی تھی اور موقع پر ہی رقم ادا کر دی تھی، مگر بعد میں بائع دعوی کرتا ہے کہ ایک پانچ ہزار والا نوٹ جعلی ہے۔
تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل (مشتری)، بائع اور مقروض تین الگ شخصیات ہیں۔ مقروض سے موصول شدہ ر قم میں جعلی نوٹ شامل تھا، سائل نے بائع کو ادا کر دیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکوره صورت میں جب سائل ( مشتری) تسلیم کر رہا ہے کہ اس کی ادا کر دہ رقم میں ایک نوٹ جعلی تھا، تو وہ بائع کو اصلی نوٹ ادا کرنے کا پابند ہے۔ اگر مقروض بھی یہ تسلیم کرلے تو مشتری مقروض سے اصلی نوٹ لے سکتا ہے۔ اوراگر وہ انکار کرے تو مشتری کو معتبر گواہی یا کوئی تحریری ثبوت پیش کرنا ہو گا۔ اگر مشتری (سائل) گواہ یا ثبوت پیش کر دیتا ہے تو اس کا یہ دعوی ثابت ہو جائے گا اور مقروض پر وہ نوٹ تبدیل کرنا یا رقم ادا کر نالازم ہو گا، اور اگر مشتری کے پاس گواہ نہ ہوں تو مقروض پر اس بات کی قسم آئے گی کہ اس نے جعلی نوٹ نہیں دیا تھا۔ پس قسم اٹھانے کی صورت میں مقروض شرعا بری الذمہ ہوجائے گا۔
حوالہ جات
مجمع الانهر (3/344)
المدعى من لا يستحق إلا ببینۃ والمدعى عليه من يكون مستحقا بلا حجة.
الفتاوى الهندية (3/4)
( وأما معرفة المدعي من المدعى عليه) فهي أن المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة وهذا حد عام صحيح وقال محمد رحمه الله في الأصل المدعى عليه هوالمنکر.
ظہوراحمد بن خیردادخان
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
03/ ربیع الاول/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


