| 91883 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
مجھے یہ پوچھنا تھا کہ بہنوئی نے شادی کے اٹھارہ سال بعدتھائی لینڈ میں وہاں کی عورت، جو شادی کے لیے مسلمان ہوئی تھی، اس سے شادی کی (ایک بیٹی بھی ہے دوسری بیوی سے)،پھر وہاں ہی رہنےلگے۔ یہاں پربہن ہی کے کہنے پر نہ بچوں کو اور نہ ہی رشتے داروں کو، کسی کو بھی دوسری شادی کا نہیں بتایا اور پھر یہاں سے سارا کاروبار ختم کر کے وہاں چلے گئے۔ چار مہینے کے بعد آتے ویزہ لگوانے اور کبھی پندرہ دن، کبھی مہینہ مہمانوں کی طرح رہتے اور پھر چلے جاتے۔ گھر اور بچوں کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے تھے، خرچ بھی روک روک کر دیتے۔
اس بات کے بارہ سال کے بعد (2021) میں واپس آگئے اور بتایا کہ کاروبار میں نقصان ہوگیا ہے اور سب چھوڑکرآگئے۔ ان کےتین بیٹے ہیں، بیٹوں سے کہاکہ اب میں کچھ نہیں کروں گا، تم لوگ سنبھالو۔ بڑابیٹاالگ رہتاہے، بیچ والا اور چھوٹا بیٹا جاب کرتے ہیں۔ اتنی تنخواہ نہیں تھی کہ گھر چل سکے۔ کچھ مہینوں کے بعدبہنوئی نے اپنے پیسے جو دوستوں وغیرہ کو دیے تھے اور ایک جگہ لے کر رکھی ہوئی تھی، وہ بھی بیچ دی اور جو اپنی والدہ کی وراثت میں پیسے اور گولڈ وغیرہ ملا، سب اپنے پاس رکھا، گھر میں کچھ نہیں بتایا۔ دوسری بیوی کو پیسے بھیجتے رہتے ہیں اور بات بات پر بیٹوں سے اور بہن سے لڑائیاں اور گندی گالیاں دیتے ہیں۔ پھر بہن اور بچوں سے بات چیت بند کردی، جب بھی وہ لوگ صلح کی کوشش کرتے، یہ بات اور خراب کردیتے اور یہی کہتے کہ یہاں سے چلے جاؤ اور بہن سے ہر بات پر طلاق دینے کا کہتے رہتے تھے۔ مجبور ہو کر بہن بیٹے کے ساتھ کرائے کے گھر میں شفٹ ہوگئی، ایک سال ہوگیا ہے۔ ابھی بیٹے سے میسج پر کہا کہ ’’مجھے تمہاری امی کی ضرورت نہیں، وہ میرے کسی کام کی نہیں رہی اور وہ اگر سونے کی بھی بن کر آجائے، مجھے قبول نہیں‘‘۔ ایسی صورت میں میری بہن کو کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کےبہنوئی کےبھیجےگئےمیسج سےطلاق واقع نہیں ہوئی اوران کانکاح تاحال برقرار ہے۔تاہم آپ کےبہنوئی کااپنی دونوں بیویوں کےمابین حقوق کی ادائیگی میں برابری نہ کرنایاکسی بیوی کونان ونفقہ سےمحروم کرناسخت گناہ کی بات ہے۔اگر بہتری کی امید ہو تو خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر انہیں حقوق کی ادائیگی پر آمادہ کیا جائے۔ اگر آپ کی ہمشیرہ الگ ہونا ضروری سمجھتی ہوں تو نفقہ نہ دینے اور حقوق کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر عدالت سے فسخِ نکاح بھی کروا سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں ان کو گناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 236)
إذا قال: لا حاجة لي فيك فليس بطلاق وإن نوى؛ لأن نفي الحاجة لا ينفي الزوجية، ولا أحكامها لأن النكاح نكاح مع عدم الحاجة فإن الإنسان قد يتزوج بمن لا حاجة له فيها.
المبسوط للسرخسي (30/ 165)
وإذا قال الرجل لامرأته لا حاجة لي فيك وأراد الطلاق لم تطلق عندنا وقال ابن أبي ليلى هي تطلق ثلاثا .....ولكنا نقول: قوله لا حاجة لي فيك بمنزلة قوله لا أشتهيك ولا أريدك ولا أهواك ولا أحبك وليس في شيء من هذه الألفاظ ما يدل على الطلاق، والنية متى تجردت عن لفظ يدل عليه كان باطلا والأصل فيه ما روي «أن امرأة عرضت نفسها على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فلم يرغبها رغبة فقال: لا حاجة لي إلى النساء» الحديث. ومعلوم أنه ما كان الطلاق من محتملات لفظه ذلك.
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (4/ 439)
قال: (وإذا كان للرجل زوجتان حرتان: فعليه أن يعدل بينهما في القسم)لقول الله تعالى: {ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم}، يعني في محبة القلب، ثم قال: {فلا تميلوا كل الميل}، يعني بأن تظهروا ذلك بالفعل.
وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعدل بين نسائه في القسم، ثم يقول: "اللهم هذا قسمي فيما أملك، فلا تؤاخذني يما تملك ولاأملك"، يعني ميل القلب.وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما دون الأخرى، جاء يوم القيامة وشقه مائل".
تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (10/ 74)
قوله: خفتم خطاب للجميع وليس حمله على البعض أولى من حمله على البقية، فوجب حمله على الكل، فعلى هذا يجب أن يكون قوله: وإن خفتم خطابا لجميع المؤمنين. ثم قال فابعثوا فوجب أن يكون هذا أمرا لآحاد الأمة بهذا المعنى، فثبت أنه سواء وجد الإمام أو لم يوجد، فللصالحين أن يبعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها للإصلاح. وأيضا فهذا يجري مجرى دفع الضرر، ولكل أحد أن يقوم به.
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
05/ربیع الاول/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


