| 91877 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
اس وقت مارکیٹ میں بہت سے AI Tools موجود ہیں اور ان کے Monthly Plans بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان AI Tools کی Subscription تقریباً آدھی قیمت یا اس سے بھی کم میں بیچتے ہیں۔ ان سستی Subscriptions کا پس منظر یہ ہے کہ یہ لوگ مختلف طریقوں سے Plans خریدتے ہیں، جن میں سے مشہور طریقے درج ذیل ہیں:
(1) سال میں کچھ ایسی سیلز لگتی ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ مختلف E-mails پر ان Plans کو خرید لیتے ہیں، پھر عام دنوں میں انہیں مہینہ وار یا جسے جتنی مدت کے لیے ضرورت ہو، استعمال کے لیے دے دیتے ہیں۔ یہ سہولت چند ایک Tools کے ساتھ خاص ہے، ہر Tool سالانہ Sale نہیں لگاتا۔
(2) دوسری صورت یہ ہے کہ ہر Tool میں مختلف Plans ہوتے ہیں، جن میں جو Plan مہنگا یا بڑا ہوتا ہے، اس میں ایسے Options ہوتے ہیں جن کے ذریعے بیک وقت مختلف لوگوں کو Add کیا جا سکتا ہے۔ ہر کوئی اتنا مہنگا Plan خرید نہیں سکتا، تو یہ لوگ اسے خرید کر، مثلاً 100 ڈالر میں خریدا ہوا Plan، جس میں 10 لوگوں کو Add کرنے کی گنجائش ہو، 20 ڈالر فی شخص کے حساب سے 10 لوگوں کو بیچ دیتے ہیں۔
(3) تیسری صورت یہ ہے کہ Carding کے ذریعے یہ لوگ Subscriptions خرید لیتے ہیں اور پھر انہیں Official قیمت سے آدھی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ Carding کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں بہت سے ایسے چوری شدہ بینک کارڈز ملتے ہیں جن کا استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ Subscriptions خریدتے ہیں۔ خریدنے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ بیچنے والے نے یہ Subscription کس طریقۂ کار سے حاصل کی ہے اور اسے آگے فروخت کر رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں سے یہ Subscription خرید کر اپنا منافع رکھ کر آگے بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور Officially خریدنے کے بجائے اپنے ذاتی استعمال کے لیے ان لوگوں سے سستی قیمت پر Subscription لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں خرید و فروخت کے جواز کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ معاملہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو، مبیع (فروخت کی جانے والی چیز) شرعاً مالِ متقوم ہو، اور فروخت کنندہ کو اس پر شرعی ملکیت یا ولایت حاصل ہو، نیز وہ اسے خریدار کے حوالے کرنے پر قادر ہو۔ لہٰذا جو چیز کسی شخص کی شرعی ملکیت میں نہ ہو، اسے فروخت کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کسی چیز کا حصول چوری، غصب، دھوکے یا کسی دوسرے ناجائز ذریعے سے ہوا ہو، تو جانتے بوجھتے اسے خریدنا یا آگے فروخت کرنا بھی جائز نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اے آئی ٹولز (AI Tools) کی سستی Subscriptions حاصل کرنے کے تین طریقے بیان کیے گئے ہیں، جن کا حکم درج ذیل ہے:
(1)۔ اگر مختلف E-mails پر AI Tools کے Plans کمپنی کی طرف سے دی جانے والی باقاعدہ Sale کے دوران خریدے جاتے ہوں، اور یہ خریداری کمپنی کی شرائط و ضوابط کے مطابق ہو، پھر ان Subscriptions کو مہینہ وار یا کسی متعین مدت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں Subscription حاصل کرنا شرعاً جائز ہے۔ اسی طرح اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا جائز منافع کے ساتھ دوسرے شخص کو استعمال کے لیے دینا بھی جائز ہوگا، بشرطیکہ کمپنی کی طرف سے اس Subscription کو دوسرے افراد کو منتقل کرنے یا استعمال کے لیے دینے پر کوئی پابندی نہ ہو۔
(2)۔ اگر کسی AI Tool کے Family یا Team Plan میں باقاعدہ طور پر متعدد افراد کو شامل کرنے کی اجازت ہو، مثلاً ایک Plan میں دس افراد کو شامل کرنے کی گنجائش ہو، تو اس جائز گنجائش کے مطابق مختلف افراد کو شامل کرنا اور ہر شخص سے متعین رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہوگا۔ البتہ اگر کمپنی کی شرائط میں اس Plan کو دوسروں کے ساتھ Share کرنے، فروخت کرنے یا غیر مجاز افراد کو شامل کرنے کی ممانعت ہو، تو اس شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے آگے فروخت کرنا یا استعمال کے لیے دینا جائز نہیں ہوگا۔
(3)۔ اگر Subscription Carding کے ذریعے حاصل کی گئی ہو، یعنی چوری شدہ بینک کارڈ یا کسی غیر قانونی ذریعے سے اس کی قیمت ادا کرکے Subscription خریدی گئی ہو، تو یہ طریقہ شرعاً ناجائز ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں Subscription حاصل کرنے کے لیے مالِ حرام استعمال کیا گیا ہے اور معاملہ چوری و فراڈ پر مبنی ہے۔
لہٰذا اگر کسی شخص کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ بیچنے والے نے Subscription چوری شدہ بینک کارڈ کے ذریعے حاصل کی ہے، تو اس Subscription کو سستی قیمت کے لالچ میں اپنے ذاتی استعمال کے لیے خریدنا بھی جائز نہیں، اور نہ ہی اسے خرید کر اپنا منافع رکھ کر آگے فروخت کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر خریدار کو بیچنے والے کے ناجائز طریقۂ حصول کا علم نہ ہو، اور بظاہر Subscription جائز طریقے سے حاصل کی گئی معلوم ہوتی ہو، تو محض بعد میں کسی شبہے کی بنیاد پر خریدار کو گناہ گار قرار نہیں دیا جائے گا۔ تاہم اگر معتبر ذریعے سے معلوم ہو جائے کہ Subscription چوری، Carding یا کسی دوسرے ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی ہے، تو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہوگا۔
لہٰذا سوال میں بیان کردہ پہلے دو طریقے، بشرطیکہ وہ کمپنی کی شرائط کے مطابق ہوں، جائز ہیں اور ان کے ذریعے حاصل کی گئی Subscriptions کو اپنے استعمال میں لانا یا جائز منافع کے ساتھ آگے فروخت کرنا درست ہے۔ جبکہ تیسرا طریقہ، یعنی Carding کے ذریعے حاصل کی گئی Subscription، ناجائز ہے؛ اس لیے اس طریقے سے حاصل شدہ Subscription کو جانتے بوجھتے خریدنا، اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا آگے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 548)
عن أبي هريرة , عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها ".
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 299):
«والدليل على أنه مشروع النصوص العامة المطلقة في باب البيع من نحو قوله تعالى عز وجل {وأحل الله البيع} [البقرة: 275] ، وقوله - عز شأنه - {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] ، ونحو ذلك مما ورد من النصوص في هذا الباب عاما مطلقا»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (6/ 248):
«وفي المبيع كونه مالا متقوما شرعا مقدور التسليم في الحال أو في ثاني الحال فيدخل السلم وقد قالوا شروطه: منها شرط الانعقاد وهو التمييز والولاية وكون المبيع متقوما. ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا باع ملك غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص414):
«(وبيع ما ليس في ملكه) لبطلان بيع المعدوم»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (6/ 104):
«يكره للمسلمين أن يشتروا ذلك منه لأنه ملك خبيث بمنزلة المشتري فاسدا إذا أراد بيع المشترى بعد القبض يكره شراؤه منه، وإن كان مالكا نفذ فيه بيعه وعتقه لأنه ملك حصل له بسبب حرام شرعا»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04/ربیع الاول /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


