| 91892 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
ایک دکاندار کے پاس ایک گاہک کا مستقل کھاتا (ادھار کا حساب) چل رہا ہے، وہ دکاندار گاہک کو ادھار سامان دیتا رہتا ہے، بعض اوقات وہ گاہک دکاندار سے کہتا ہے کہ "فلاں چیز جو آپ کی دکان پر موجود نہیں ہے، وہ آپ بازار/باہر سے اپنے پیسوں سے خرید کر مجھے لا دیں اور میرے ادھار والے کھاتے میں لکھ لیں"۔
1۔ سوال یہ ہے کہ کیا دکاندار باہر سے خریدی گئی چیز پر اپنا منافع (Profit) رکھ کر خریدار کے کھاتے میں اصل قیمت سے زیادہ رقم ادھار لکھ سکتا ہے؟کیا دکاندار کے لیے گاہک کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اس نے یہ چیز بازار سے کتنے کی خریدی ہے؟ اور وہ اس پر کتنا منافع لے رہا ہے؟ یا وہ بغیر بتائے بھی اپنی مرضی کی قیمت ادھار کھاتے میں درج کر سکتا ہے؟
2۔ اس معاملے میں دکاندار کے لیے منافع کمانے کا شرعی اور جائز طریقہ کیا ہوگا (مثلاً: کیا وہ پہلے چیز پر قبضہ کر کے اپنی ملکیت میں لائے اور پھر گاہک کو نئی قیمت پر ادھار فروخت کرے؟) تاکہ شرعی اعتبار سے کوئی ممانعت یا سود/سود جیسے شبہ کا مسئلہ پیدا نہ ہو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں عام طور پر دکاندار وں کے درمیان یہ معاملات چلتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس چیز نہ ہونے کی صورت میں وہ دوسرے دکاندار سے چیز خریدکر گاہک کو نفع پر فروخت کرتے ہیں ، لہذااگر دکاندار گاہک کے وکیل کی حیثیت سے وہ چیز نہ خریدے، بلکہ خود مالک بننے کے ارادے سے دوسرے دکاندار سے چیز خریدے پھر قبضہ کرنے کے بعد گاہک کو فروخت کرے اور خریدار کو واضح طور پر بتائے کہ میں دوسرے دکاندار سے یہ چیز خرید کر اپنا نفع رکھ کر آپ کو بیچ رہا ہوں ، نیز گاہک کو اس چیز کی قیمت بتانا بھی ضروری ہے، بغیر قیمت بتائے اپنی مرضی سے نفع رکھ کر کھاتے میں لکھ دینا جائز نہیں، ایسی صورت میں خریدار کو قیمت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ فاسد اور ناجائز ہو گا۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 15) الناشر: دار الفكر:
(قوله: كما في البيع بالرقم) أي فإنه فاسد اهـ والرقم الكتابة ورقم التاجر الثوب من هذا وهو إعلام ثمنه بنوع علامة عليه بأن ثمنه كذا درهما. اهـ.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 292) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
إنما فسد البيع بالرقم؛ لأن فيه زيادة جهالة تمكنت في صلب العقد وهو جهالة الثمن بسبب رقم لا يعلمه المشتري.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
23/ربیع الاول 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


