| 92380 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل AI یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعہ گانے، نعتیں، نظمیں اور دوسری آڈیو بنائی جاتی ہیں، جس میں خود ہی میوزک اور مختلف ساز بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ میوزک کسی آدمی نے خود ساز بجا کر نہیں بنایا بلکہ AI یا مشین کے ذریعہ بنایا گیا ہو تو کیا ایسے گانے، نعت یا نظم کو سننا یا آگے کسی کو بھیجنا شرعاً ناجائز ہوگا؟ یا چونکہ ساز کسی انسان نے نہیں بجایا اس لیے اس کا حکم مختلف ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موسیقی صرف مخصوص آلات کے ذریعہ آوازوں کی ترتیب کا نام نہیں ہے،بلکہ آلات موسیقی سے بننے والی آوازوں کے مشابہ مصنوعی آواز یں جدید آلات جیسا کہ AIوغیرہ سے بنانا بھی موسیقی کے حکم میں ہے،جن کا سننا اور آگے بھیجناشرعا ناجائز ہے۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني» (5/ 369)
"استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضب، وغير ذلك من الملاهي حرام، وقد قال عليه السلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها من الكفر" .
«مجلة مجمع الفقه الإسلامي» (4/ 1920 بترقيم الشاملة آليا)
"فمذهب أبي حنيفة في ذلك أشد المذاهب. وقوله فيه أغلظ الأقوال قاله ابن القيم في (الإغاثة) . وقال فيه –أيضا- (وقد صرح أصحاب أبي حنيفة بتحريم سماع الملاهي كلها، كالمزمار، والدف، حتى ضرب القضيب، كما صرحوا بأنه معصية توجب الفسق فترد به الشهادة كما قالوا: إن سماعه فسق والتلذذ به كفر) ."
عبدالغفوربن خان ولی
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
23 /ربیع الثانی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفور بن خان ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


