03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حقِ میراث سے دستبردارہو جانے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا
91947میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمارے  بہنوں کو کچھ رقم دے کر ان سے یہ وعدہ لیا تھا کہ میرے انتقال کے بعد میری میراث میں آپ لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم سب بہن بھائی اور والدہ عدالت گئے اور وراثت نامہ بنوایا، جس کی بنیاد پر ہم سب کل میراث (  فیکٹری کے 25 فیصد حصے اور مکان )کے وارث قرار پائے۔

اس کے بعد ہم نے اپنی بہنوں کو یہ پیشکش کی کہ آپ لوگوں کے حصے کی جتنی بھی مالیت بنتی ہے، وہ ہم سے لے لیں، لیکن بہنوں نے انکار کیا اور کہا کہ جو کچھ والد صاحب نے ہمیں دیا تھا، وہ ہمارے لیے کافی ہے، ہم مزید کوئی حصہ نہیں لینا چاہتے۔ چنانچہ ہم سب عدالت گئے اور بہنوں نے گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ دستبرداری کا سرٹیفکیٹ بنوایا، جس کی بنیاد پر  ہم تینوں بھائی فیکٹری کے 25 فیصد حصے اور مکان کے بھی وارث قرار پائے۔ یہ سب کچھ 2014ء میں ہوا۔

اب 2026ء کے شروع میں بہنوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں ہمارا حصہ دیا جائے۔ اس سلسلے میں ہم درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتے ہیں:

نمبر1: کیا ایک مرتبہ دستبرداری اختیار کرنے کے بعد بہنوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوبارہ میراث کا مطالبہ کریں، جبکہ وہ ایک مرتبہ وارث قرار پانے کے بعد باقاعدہ خود عدالت میں جا کر گواہوں کی موجودگی میں دستبرداری اختیار کر چکی ہیں؟

نمبر2: اگر بہنیں اب اپنے حصے کا مطالبہ کرتی ہیں تو کیا انہیں 2014ء میں ان کے حصے کی جو مالیت بنتی تھی، وہ دی جائے گی یا 2026ء میں ان کے حصے کی جو موجودہ مالیت بنتی ہے، وہ دی جائے گی ؟

نمبر3: والد صاحب نے جو رقم دے کر بہنوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ وہ آئندہ میراث میں اپنا حصہ نہیں لیں گی، کیا اس وعدے کو شرعاً پورا کرنا ان پر لازم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میراث ایک جبری حق ہے، میت کے انتقال کے بعد شرعاً وارث اپنے حصے کا مالک بن جاتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ میت کے انتقال کے بعد شرعی طور پر تمام ورثاء اپنے اپنے حصوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ جو عدالتی وراثت نامہ بنایا جاتا ہے، وہ محض ایک انتظامی اور قانونی کارروائی ہے۔ اگر وراثت نامہ نہ بھی بنایا جائے تو اس سے شرعی طور پر ورثاء کے مالک بننے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسی طرح میراث کا مالک بننا ایک الگ امر ہے اور میراث کی تقسیم ایک الگ امر ہے۔ میت کے انتقال کے بعد ورثاء جائیداد میں اپنے اپنے حصوں کے مالک تو بن جاتے ہیں، لیکن محض وراثت نامہ بن جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ میراث تقسیم بھی ہو گئی ہے۔ تقسیمِ میراث اس وقت ہوتی ہے جب ہر وارث کو اس کے حصے کا تعین کر کے اس پر قبضہ بھی دے دیا جائے۔

نیز شرعی اصول یہ ہے کہ تقسیمِ میراث سے پہلے، یعنی اپنے حصے پر قبضہ کرنے سے پہلے، محض اپنے حصے سے دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں۔لہذا اگر کوئی وارث اپنے حصے سے دستبردار ہونا چاہے تو اس کی بنیادی طور پر دو  ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:

پہلی صورت: وہ اپنے حصے پر قبضہ کر لے، پھر قبضے کے بعد اپنا حصہ دوسرے ورثاء کو ہبہ کر دے۔

دوسری صورت: وہ اپنے حصے کے بدلے کوئی عوض لے ۔ اسے تخارج کہا جاتا ہے۔

پہلےسوال کا جواب:صورتِ مسئولہ میں بہنوں نے نہ تو فیکٹری کے 25 فیصد حصے اور مکان میں سے اپنے حصے پر قبضہ کیا تھا کہ قبضے کے بعد اسے اپنے بھائیوں کو ہبہ کرتیں، اور نہ ہی  اپنے حصے کے بدلے کوئی عوض لیا  تھا،تاکہ اس معاملے کو تخارج قرار دیا جا سکے۔لہٰذا ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت نہ پائے جانے کی وجہ سے بہنوں کا اپنے حقِ میراث سے دستبردار ہونا، خواہ محض زبانی طور پر ہو یا باقاعدہ عدالت میں جا کر گواہوں کی موجودگی میں دستبرداری کا سرٹیفکیٹ بنوانے کے ذریعے ہو، شرعاً معتبر نہیں ہوگا؛ کیونکہ حق میراث ایک عین سے متعلق ہے اور اعیان سے ابراء درست نہیں ہوتا۔

دوسرے سوال کا جواب:چونکہ بہنوں کا حقِ میراث فیکٹری کے 25 فیصد حصے اور مکان میں تھا، اس لیے اب بھی اصل حق یہی ہے کہ انہیں فیکٹری کے مذکورہ 25 فیصد حصے اور مکان میں ان کا شرعی حصہ دیا جائے۔البتہ اگر کسی وجہ سے جائیداد میں ان کا حصہ دینا ممکن نہ ہو، یا وہ اپنے حصے کو فروخت کرنا چاہیں، تو ایسی صورت میں موجودہ وقت میں ان کے حصے کی جو مالیت ہوگی، وہ معتبر ہوگی، نہ کہ 2014ء میں ان کے حصے کی جو مالیت بنتی تھی۔لہٰذا اگر 2026ء میں ان کے حصے کی قیمت متعین کر کے رقم کی صورت میں ادائیگی کی جائے تو 2026ء کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا، 2014ء کی قیمت کا نہیں۔

تیسرے سوال کا جواب:والد صاحب نے جو رقم دے کر بہنوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ وہ آئندہ اپنی میراث کا مطالبہ نہیں کریں گی، اس وعدے پر شرعاً قضاءً عمل درآمد کرانا لازم نہیں۔البتہ ایک صورت میں عدالت کے ذریعے وعدے پر عمل درآمد کرانا لازم ہو سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس وعدے کی وجہ سے مخالف فریق کو کسی قسم کا مالی یا قانونی نقصان پہنچا ہو۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ بظاہر اس وعدے کی وجہ سے مخالف فریق کو کوئی نقصان نہیں ہوا، اس لیے قضاءً بہنوں کو اس وعدے کی پابندی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔البتہ دیانۃً اور اخلاقاً بہنوں کو چاہیے کہ اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے میراث سے دستبردار ہو جائیں۔ اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے حق کے بدلے کوئی معمولی سا عوض لے کر باقاعدہ تخارج کر لیں، تاکہ شرعی طور پر ان کا حق بھی ساقط ہو جائے اور معاملہ بھی مکمل طور پر واضح ہو جائے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ط العلمية (7/ 443)

فصل في صلح الورثة (ولو أخرجت الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال أو عن ذهب بفضة أو على العكس صح قل أو كثر) حملا على المبادلة لا إبراء إذ هو عن الاعيان باطل.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 441)

 وكذلك إذا كان ما أعطوه مثل نصيبه من ذلك الجنس فلا يجوز الصلح؛ لأنه تبقى الزيادة على المأخوذ من جنس ذلك ومن غير جنسه خالية عن العوض، فتعذر تجويزه بطريق المعاوضة في هاتين الصورتين للزوم الربا، ولا يصح تجويزه بطريق الإبراء عن الباقي أيضا؛ لأن التركة عين والإبراء عن الأعيان باطل. كذا في الذخيرة وفي كثير من شروح هذا الكتاب.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين رد المحتار مع تكملته قرة عيون الأخيار ط الفكر (5/ 632)

قال السائحاني والأحسن أن يقال الإبراء عن الأعيان باطل ديانة لا قضاء .

 قال في الهامش وعبارته في شرح الملتقى معناه أن العين لا تصير ملكا للمدعي عليه لا أنه يبقى على دعواه بل تسقط في الحكم كالصلح عن بعض الدين فإنه إنما يبرأ عن باقيه في الحكم لا في الديانة فلو ظفر به أخذه

 ذكره القهستاني والبرجندي وغيرهما .

 وأما الإبراء عن دعوى الأعيان فصحيح ا هـ ما في الهامش . وهو مخالف لما نقلناه عن شرح الملتقى آنفا ، وفي الخلاصة أبرأتك عن هذه الدار أو عن خصومتي فيها أو عن دعواي فيها فهذا كله باطل حتى لو ادعى بعده تسمع ولو أقام بينة تقبل ا هـ....... قوله ( من الأشباه ) قال فيها عن الخانية الإبراء عن العين المغصوبة إبراء عن ضمانها وتصير أمانة في يد الغاصب ولو كانت العين مستهلكة صح الإبراء وبرىء من قيمتها ا هـ

 فقولهم الإبراء عن الأعيان باطل معناه أنها لا تكون ملكا له بالإبراء وإلا فالإبراء عنها لسقوط ضمانها صحيح أو يحمل على الأمانة ا هـ ملخصا أي أن البطلان عن الأعيان محله إذا كانت الأعيان أمانة لأنها إذا كانت أمانة لا تلحقه عهدتها فلا وجه للإبراء عنها .تأمل

الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 161)

ثم قال: ومعنى بطلان الإبراء عن الأعيان أنها لا تصير ملكا للمدعى عليه، وليس المراد أنه يبقى على دعواه، بل تسقط في الحكم. وبعبارة أخرى لابن عابدين: معناه أن للمبرئ أخذ العين ما دامت قائمة، فلو هلكت سقط (أي ضمانها) لأنها بالإبراء صارت وديعة عنده، أي أمانة.

وقد استثنى الحنفية من عدم تصحيح الإبراء عن العين نفسها ما لو كانت العين مضمونة، كالدار المغصوبة، فإن الإبراء عنها صحيح سواء أكانت هالكة أم قائمة، لأن الهالكة كالدين، والقائمة يراد البراءة عن ضمانها لو هلكت، فتصير بعد الإبراء كالوديعة، والإبراء عن العين التي هي أمانة يصح قضاء لا ديانة.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4369)

الحنفية رجحوا معنى الإسقاط مع بقاء معنى التمليك، ورتبوا عليه عدم صحة الإبراء عن الأعيان؛ لأنه إسقاط، وملكية الأعيان لا تقبل الإسقاط، فلو أسقط أحد ملكيته عن شيء مملوك له، لا تسقط ويبقى ملكاً له، ولا يصح الإبراء عن المبيع؛ لأنه إسقاط، وإسقاط العين لا يصح، والإبراء عن العين المغصوبة لا يكون سبباً لملكها، وإنما يكون إبراء عن ضمانها، وتصير أمانة في يد الغاصب.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (6/ 4383)

أما الإبراء عن الأعيان: فقد يكون عن دعوى العين أو عن العين نفسها.

أما الإبراء عن دعوى العين فيشمله الكلام الآتي عن الإبراء عن الحقوق. وهو صحيح بالاتفاق؛ لأنه إسقاط لحق.

وأما الإبراء عن العين نفسها بمعنى إسقاط ملكية الأعيان فهو غير صحيح اتفاقاً؛ لأن الأعيان ـ كما تبين في شروط محل الإبراء ـ لا تقبل الإسقاط، فلا يترتب على الإبراء عنها بذاتها أي أثر، فلا يتملكها المبرأ، بل تظل في يد واضع اليد عليها مملوكة له، فالإبراء عن الأعيان بمعنى تمليكها لمن هي في يده لا يصح، ويحق لمن ظفر بها أن يأخذها.

وإذا أطلق هذا التعبير أي البراءة عن العين كان المراد منه عند الحنفية والشافعية والحنابلة سقوط حق الادعاء بها بعد الإبراء. وفي بعض كتب الحنفية: يبقى له حق الادعاء بها.

المعايير الشرعية (ص:1190):

4/3: الوعد بفعل أو تصرف مالي مباح شرعا يجب الوفاء به ديانة، بمعنى أن إخلافه بدون عذر إثم، ولكنه غيرملزم في القضاء، فإن ترتب على عدم الوفاء بالوعد ضرر على الموعود له فيلزم الواعد التعويض عن الضرر قضاء مثل: أن يقول الواعد لتاجر: اشتر هذه البضاعه لنفسك وإني أعدك بأني سوف إشتريها منك، فاشتراها التاجر اعتمادا على ذلك الوعد، فلم يف الواعد، فحينئذ يلزم قضاء مايجبر ما لحق التاجر الموعود له من ضرر فعلي، بمعنى أنه إن لم يستطع التاجر أن يبيعه في السوق بما يغطي  تكلفته، فالواعد بالشراء يتحمل الفرق بين التكلفة والثمن الذي باعه به. وليس من الضرر الفعلى الفرصة الضائعة.

   شفیع اللہ بن معروف خان

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

   تاریخ:۰۲،ربیع الثانی، ١٤٤۸

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شفیع اللّٰہ بن معروف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب