03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیملی پیکج لگانے کا شرعی حکم
92381اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میرا سوال فیملی پیکج سے متعلق ہے۔ 1.اج کل مختلف سمز پر یہ سہولت ہے کہ ایک ادمی 3 ہزار روپے کا پیکج خریدتا ہے اس میں اس کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس میں مزید چار بندے شامل کر لیں (ملحوظ رہے کہ پیکج ایک بندہ ہی خریدتا ہے یعنی اس کی سمز سے وہ پیکج لگتا ہے اور اسی کا نام بطور اونر کے آتاہے) مزید چار بندے شامل کرنا یہ ضروری نہیں ہے یعنی وہ چاہے تو وہ صرف دو بندوں کو شریک کرے یا صرف ایک بندے کو شریک کرے تو اس میں پوچھنا یہ ہے کہ ان کی آپس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی جو پیکج کرواتا ہے اس کی اور اس کے ساتھ جو بعد میں دوسرے لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ ان کی فقہی تکییف کیا ہوگی؟ اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ وہ (اونر جو پیکج کروائے) ایسا کر سکتا ہے کہ چار بندوں کو الگ الگ ریٹ کے ساتھ شریک کرے یعنی اگر سب (پانج بندوں) پر برابر تقسیم کیا جائے تو اس بندے (اونر)کو شامل کر کے فی آدمی 600 روپے بن رہے ہیں لیکن اگر وہ ایسا کرے کہ ایک بندے سے ہزار روپے لے اور دوسرے سے 800 روپے لے اور تیسرے سے 600 روپے لے کے اس کو شریک کر لیں تو یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ اور اسی طرح اگر کسی کو بغیر پیسوں کے شریک کر لے کہ اپنی طرف سے تو اس کا اس طرح استعمال کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یہ بھی ملحوظ رہے کہ ان میں کسی کے استعمال کی کوئی لمٹ نہیں ہوگی ممکن ہے کوئی کم پیسے دینے والا زیادہ استعمال کرے اور زیادہ پیسے دینے والا کم استعمال کرے۔۔ براہ کرم جواب کے ساتھ مکمل مسئلہ کی فقہی تکییف بھی بیان کردیجیے گا! 2. بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ شروع میں اس نے پیکج کروانے کے بعد تین افراد کو شریک کیا۔مزید ایک افراد کی گنجائش باقی تھی۔۔۔ پھر جب پیکج کی مدت میں 10 دن باقی تھے تو اس نے ایک اور فرد کو شریک کر لیا تو یہ اخری دس دن میں جو فرش شریک ہوا ہے تو اس سے کس حساب سے رقم لی جائے گی ایا اس سے بھی مکمل 600 روپے لیے جائیں گے یا اونر (پیکج کروانے والے)کو اختیار ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید تین باتوں کا جاننا ضروری ہے ۔

(1) ٹیلی نار کمپنی کے ہیڈ آفس (اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا تو کمپنی کے پیکجز بنانے والے انجینئر صاحب سے

بات ہوئی، ان سے اس سلسلہ میں معلومات لی گئیں تو انہوں نے بتایا:

الف: کال کے لیے کمپنی جو بوسٹر زلگاتی ہے ان میں سے ہر بوسٹر میں ایک مخصوص حد (Limit) تک کالز اور ایس ایم ایس وصول کرنے (Receive) اور آگے بھیجنے (Forward) کی صلاحیت ہوتی ہے، اگر کالز وغیرہ اس حد سے تجاوز کر جائیں تو نیٹ ورک زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے کال نہیں ہو سکتی اور کسی بھی بوسٹر پر کالز کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں اس کی تفصیل ہمارے کمپیوٹر پر آنا شروع ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں کمپنی کو بوسٹر کی صلاحیت (Capacity) بڑھانا پڑتی ہے۔

ب: کمپنی جتنے بھی پیکجز جاری کرتی ہے وہ بوسٹر کی مخصوص لمٹ کو مد نظر رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں، اگر کمپنی. ماہانہ پیکیجز میں ایک ہزار کی بجائے دو ہزار منٹس اور ایس ایم ایس وغیرہ دے تو کمپنی اور کسٹمرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کسٹمرز کے لیے کال ملانے میں دشواری ہو گی اور کمپنی کو بوسٹر ز کی لمٹ بڑھانا پڑے گی۔

ج: جن پیکجز میں کمپنی مخصوص منٹس کی بجائے لا محدود کا لز کرنے کی اجازت دیتی ہے ، جیسے دو گھنٹے اور تین گھنٹے والے پیکجز و غیرہ، وہ پیکجز بھی کمپنی ان اوقات میں جاری کرتی ہے جن میں بوسٹر خالی ہوتا ہے یا کالز کی آمد ورفت (Air Traffic) بہت کم ہوتی ہے، جیسے صبح یا دو پہر کا وقت وغیرہ۔ اس لیے ایسے پیکجز شام کے اوقات میں جاری نہیں کیے جاتے، کیونکہ اس وقت ایئر ٹریفک زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بعض اوقات کا نفرنس کالز (کا نفرنس کال کا مطلب یہ ہے کہ ایک کال ملا کر اس کے ضمن میں دیگر دو یا تین کا لز مزید ملالی جائیں اور بیک وقت سب سے بات کی جائے) پر پابندی لگادی جاتی ہے، کیونکہ کا نفرنس کالز سے بوسٹر پر بوجھ پڑتا ہے۔

 (2) یہ بھی واضح رہے کہ عام بیلنس میں بھی دو وقت ہی مقرر ہوتے ہیں: ایک وقت وہ ہے جس کو عرف میں بیلنس ے تعبیر کیا جاتا ہے، بیلنس سے رقم مراد نہیں ہوتی، بلکہ اتنی مقدار میں منفعت کی تعیین مقصود ہوتی ہے، مثلا: سو روپے کا ایزی لوڈ کروانے پر پچھتر (75) روپے بیلنس آتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھتر (75) روپے میں جتنے منٹس کال کی جاسکتی ہے، اتنے منٹس (وقت) کے لیے کسٹمر کو کمپنی کی لائن استعمال کرنے کا حق حاصل ہو چکا۔ دوسرا وقت کمپنی کی طرف سے ایکسپائری ڈیٹ (Expiry Date) کی صورت میں بتایا جاتا ہے، یہ وقت (Expiry Date) چونکہ کافی طویل ہوتا ہے، جس میں عام طور پر کسٹمر اپنا بیلنس استعمال کر چکا ہوتا ہے ، اس لیے عام کسٹمرز کو ایزی لوڈ میں دوسرے وقت کی تحدید کا احساس نہیں ہوتا۔

(3) موبائل کمپنیز کے پیکجز کا معاملہ فقہی اعتبار سے اجارۃ الاعیان کے تحت داخل ہے اور اجارۃ الاعیان میں معقود علیہ منفعت ہوتی ہے، جس کا تعین عام طور پر وقت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ، یہاں کمپنی نے منفعت کے حصول کے لیے دو وقت مقرر کیے ہیں: پہلے وقت کے تعین کے لیے کمپنی کسٹمر کو ایک فارمولا بتاتی ہے، مثلاً: ایک ہزار منٹس (16،67 گھنٹے) اور ایک ہزار ایس ایم ایس وغیرہ کرنے میں جتنا وقت صرف ہو گا اتنا وقت کسٹمر کمپنی کی لائن استعمال کر سکے گا۔ دو سر وقت ایک مہینہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد اجارہ حتمی طور پر ختم ہو جائے گا، خواہ کسٹمر نے اس مدت میں مکمل منفعت حاصل کی ہو یا کم۔

اصولی طور پر کمپنی کو اجارے کا ایک ہی وقت متعین کرنا چاہیے ، خواہ منٹس اور ایس ایم ایس کی صورت میں ہو یا مہینہ یا ہفتہ (پھر اس میں خواہ جتنی بھی منفعت حاصل کی جائے) مقرر کرنے کی صورت میں ہو، لیکن چونکہ ایسا کرنے میں کمپنی کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے ، کیونکہ اگر مہینہ میں لا تعداد کالز اور ایس ایم ایس کرنے کی اجازت دے دی جائے تو بوسٹر ز پر بوجھ پڑنے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کالز کے ملانے میں دشواری ہوتی ہے ، اس لیے مجبوری کے پیش نظر کمپنی "مہایات" کے طریقہ پر عمل کرتی ہے۔ "مہایات " کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے عین کو باقی رکھتے ہوئے اس سے باری باری منفعت حاصل کرناہ پھر منفعت حاصل کرنے والوں کے درمیان مہایات کبھی وقت کے حساب سے قائم ہوتی ہے اور کبھی مکان کی تعیین کے اعتبار سے ہوتی ہے، کمپنی کے پیکجز میں کسٹمرز کے درمیان "مہایات " وقت کے حساب سے قائم ہوتی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ :

کمپنی کا اجارہ پیکچ کے حساب سے مخصوص دنوں یعنی رواں مہینے کے تیس، پندرہ یا سات دنوں پر منعقد ہوتا ہے، پھر اس وقت میں جتنے منٹس اور گھنٹے ہوتے ہیں کمپنی ان منٹس اور گھنٹوں کو بوسٹرز کی کالز وصول کرنے کی خاص مقدار اور صلاحیت (Capacity) کے حساب سے کسٹمرز کے درمیان تقسیم کرتی ہے، مثلا: ایک مہینے میں ایک ہزار آدمیوں نے پیکج لگوایا، بعض کسٹمر زماہانہ پیکج لگانے والے، بعض ہفتہ وار اور بعض لوگ روزانہ پیکیجز والے ہیں، کمپنی کا ان سب کے ساتھ بیک وقت اجارہ کا معاملہ منعقد ہو جاتا ہے ، جو جتنے وقت کے لیے پیکج لگاتا ہے اس کو اتنے وقت کے اندر کمپنی کی لائن سے مخصوص مقدار میں منفعت حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق اجرت کے وجوب کے لیے اجارہ میں عین مستاجرہ سے انتفاع کی قدرت کا حاصل ہونا ضروری ہے اور وہ یہاں موجود ہے، کیونکہ طے شدہ وقت کے دوران کسٹمر کو کمپنی کی لائن سے نفع اٹھانے کی مکمل طور پر قدرت حاصل ہوتی ہے۔

اور اگر کمپنی دوسر ا وقت طے نہ کرے، بلکہ مخصوص منٹس اور ایس ایم ایس پر ہی اجارہ منعقد ہو اور کمپنی پیکج  کا وقت یعنی مہینہ اور ہفتہ وغیرہ گزرنے کے بعد بھی منفعت کے حصول کا حق دے تو کمپنی اگلے وقت میں دیگر کسٹمرز کو بیچ کی سہولت نہیں دے سکے گی، کیونکہ مہینہ گزرنے کے بعد گزشتہ مہینے کے پیکجز جاری رہنے کی وجہ سے بوسٹرز مصروف رہیں گے ۔ اس لیے کمپنی کے لیے دو وقت مقرر کرنا ضروری ہوتا ہے، البتہ جن اوقات میں بوسٹر ز زیادہ مصروف نہیں ہوتے ان میں کمپنی کی طرف سے ایک ہی وقت مقرر کیا جاتا ہے ، جیسے دوگھنٹے اور تین گھنٹے والے پیکجز میں ہوتا ہے،جس میں منفعت کی کوئی تحدید نہیں ہوتی ۔

کتب فقہیہ میں اس کی صریح نظیر تو نہیں ملی، البتہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات کی روشنی میں اس کے قریب ایک نظیر مشتر کہ مکان وغیرہ سے باری باری منفعت حاصل کرنا ہے، مثلا: ایک ماہ کے لیے ہوٹل کا ایک کمرہ میں آدمیوں کو کرایہ پر دیا جائے اور پھر اس کے منافع ان کے درمیان اس طرح تقسیم کیے جائیں کہ ہر آدمی ایک دن اس کمرے سے استفادہ کرے ۔

مذکورہ بالا صورت کو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے جائز قرار دیا ہے، اس صورت اور کمپنی کے پیکجز کی صورت میں یہ بات مشترک ہے کہ ایک وقت میں ایک مخصوص مقدار کی حد تک ہی استفادہ ہو سکتا ہے، با ئیں طور کہ اگر کمرہ دس آدمیوں کے لیے بنایا گیا ہے تو اس سے بیک وقت دس آدمی ہی استفادہ کر سکتے ہیں، اسی طرحکمپنی کے بوسٹرز میں اگر بالفرض ایک ہزار کا لز بیک وقت وصول کرنے کی صلاحیت (Capacity) رکھی گئی ہے تو اتنی مقدار میں ہی بوسٹر استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس سے زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں کال نہیں ملائی جا سکے گی۔

مذکورہ تمہید اور نکات کے نتیجے میں ہماری رائے کے مطابق کمپنی کے پیکجز میں "مہایات" کی تعریف اور شرائط پائی جاتی ہیں، لہذا مو بائل کمپنیز کے پیکجز لگوانا جائز ہے، لیکن چونکہ یہ ایک نیا مسئلہ ہے، جس کی کوئی صریح نظیر فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں مذکور نہیں، یا اس مسئلے کے بارے میں دیگر اہل فتوی حضرات سے بھی رجوع کر لیا جائے۔

    (ماخوذ از تبویب : 63133/57)

اس تمام تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس عقدِ اجارہ میں اصل معقود علیہ (بنیادی مقصود) کمپنی کی خدمات اور منفعت کا حصول ہے، جبکہ ایک ماہ کی مدت کی قید "استعجال" (یعنی صارف کو ایک مخصوص وقت کے اندر اندر منفعت استعمال کرنے کا پابند بنانے) کے لیے ہے، جو کہ کمپنی کی تکنیکی ضرورت اور انتظامی مجبوری کے پیشِ نظر رکھی گئی ہے؛ تاکہ مقررہ مدت میں منافع کا استعمال مکمل ہو جائے اور نیٹ ورک پر دائمی بوجھ نہ پڑے، اور مدت ختم ہونے کے بعد کمپنی کے لیے اگلی بار دیگر صارفین کو باآسانی سروس و نئے پیکجز فراہم کرنا ممکن ہو سکے۔

اس تمہید کی روشنی میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

ٹیلی کام کمپنی سے فیملی پیکج خریدنا شرعی لحاظ سے عقدِ اجارہکے تحت آتا ہے، جس میں کمپنی "مؤجر" (Lessor)        پیکج خریدنے والا مرکزی صارف اور  بقیہ چار افراد  مستأجرین   (lessees)کہلاتے ہیں۔

1۔ جو شخص (اونر) کمپنی سے فیملی پیکج خریدتا ہے، وہ کمپنی کی خدمات (انٹرنیٹ، منٹس، ایس ایم ایس) کے منافع کا شرعی طور پر مالک  بن جاتا ہے ۔جب کمپنی اس اونر کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ مزید چار افراد  اپنے ساتھ اس پیکج میں شامل کر سکتا ہے، تو اونر اور دیگر شامل ہونے والے افراد کے درمیان ذیلی اجارہ)  اجارہ من الباطن (Sub-lease /منعقد ہوجاتا ہے؛ بایں طور کہ کرایہ دار کرائے پر حاصل کردہ منافع کو آگے دیگر افراد کو کرائے پر منتقل کر رہا ہوتا ہے۔

2۔اصول یہ ہے کہ جب کسی مستأجر کو کسی منفعت کے استعمال کا حق حاصل ہوجائے اور اصل مالک یا مؤجر کی جانب سے اسے دوسروں کو بھی اس منفعت سے استفادہ کرانے کی اجازت حاصل ہو، تو وہ دوسروں کو اس منفعت سے اجرت کے عوض یا بلا عوض استفادہ کراسکتا ہے۔ چونکہ مذکورہ فیملی پیکج میں کمپنی خود پیکج کے مالک کو مزید افراد کو شامل کرنے کی اجازت دیتی ہے، اس لیے پیکج کا مالک کمپنی کی مقرر کردہ حد کے اندر دیگر افراد کو اس سہولت میں شامل کرسکتا ہے۔

3۔ تاہم، اجارہ من الباطن میں فقہ حنفی کا ضابطہ یہ ہے کہ مستأجر کے لیے جائز نہیں کہ وہ عینِ ماجورہ کو آگے اصل اجرت سے زیادہ پر دے، الا یہ کہ وہ اپنی طرف سے کوئی زائد عمل یا منفعت فراہم کرے۔

          چنانچہ اگر تمام شرکاء کے استعمال کا حق برابر ہو (مثلاً ۲۰۰ جی بی ۵ افراد میں برابر یعنی ۴۰ جی بی فی کس تقسیم ہو)، تو تمام شرکاء پر اجرت بھی بالتقسیم (مثلاً ۶۰۰ روپے فی کس) ہی آئے گا۔اس صورت میں اونر کے لیے شرکاء سے مختلف رقم (مثلاً کسی سے ۱۰۰۰، کسی سے ۸۰۰ اور کسی سے ۶۰۰ روپے) وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بغیر کسی اضافی منفعت کے زائد اجرت وصول کرنا ہے جو کہ نا جائز ہے۔

اگر منفعت اور استعمال کی مقدار مختلف طے کی گئی ہو (مثلاً ایک شریک کو ۵۰ جی بی اور دوسرے کو ۳۰ جی بی استعمال کا حق حاصل ہو)، تو منفعت کی اس کمی بیشی کے تناسب سے ان سے مختلف اجرت (زیادہ منفعت والے سے زیادہ اور کم منفعت والے سے کم) وصول کرنا  جائز ہوگا۔

اسی طرح اونر کو یہ اختیار ہے کہ وہ چاہے تو کسی کو  بلا عوض (مفت) شامل کر لے،  کیونکہ اونر   مفت میں شامل ہونے والے  کی طرف سے اجرت کمپنی کو پہلے سے ادا کر چکا ہے ۔

4۔ اگر پیکج کی مدت میں ۱۰ دن باقی ہوں اور اونر کسی اور فرد کو شامل کرے، تو یہ معاملہ بھی اصل اجارے کے ضمن میں "اجارہ من الباطن" (سب لیز) ہی کا حکم رکھتا ہے۔

اس صورت میں اونر کے لیے آخری ۱۰ دن کے شریک سے پورا ماہانہ کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ رقم کا تعیّن اصل لاگت اور حقیقی استعمال کے تناسب سے کیا جائے گا۔ اس کا اصولی  طریقہ درج ذیل ہے:

 اونر سب سے پہلے اپنے کل پیکج کی رقم کو کل ملنے والے ڈیٹا (GBs) یا منٹس پر تقسیم کر کے فی جی بی کی بنیادی لاگت معلوم کرے گا۔اس کے بعد آخری ۱۰ ایام میں شامل ہونے والے شریک کو جتنا ڈیٹا (جی بی) یا منٹس استعمال کے لیے دیے جائیں، اسے اسی بنیادی لاگت (Per GB Cost) سے ضرب دے کر حاصل ہونے والی رقم وصول کی جائے گی۔

5۔جہاں تک استعمال میں تفاوت کی بات ہے تو شروع میں ہر فرد کا حصہ  عرفا  متعین ہوتا ہے ،مثلا  اگر ٹوٹل 200 جی بی ہے تو وہ شرکاء کی تعداد کے حساب سے تقسیم ہوکر ہر شریک کا حصہ متعین ہوجاتا ہے ۔بعد میں یہ نہیں دیکھا جاتا ہے  کہ کس نے کتنا استعمال کیا، شرکاء نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کو کم یا زیادہ ایم بیز (MBs) وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی  ہوتی ہے، اور اس قدر کمی زیادتی جھگڑے کا باعث نہیں بنتی۔اس لئے شرکاء کیلئے اس سہولت کو جائز کاموں میں حسبِ ضرورت کم یا زیادہ استعمال کرنا شرعاً درست ہے۔

حوالہ جات

(بدائع الصنائع:4/179)

وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فضروب: منها: أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع من المنازعة، فإن كان مجهولا ينظر، إن كانت تلك الجهالة مفضية إلى المنازعة تمنع صحة العقد، وإلا فلا؛ لأن الجهالة المفضية إلى المنازعة تمنع من التسليم والتسلم فلا يحصل المقصود من العقد، فكان العقد عبثا لخلوه عن العاقبة الحميدة. وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة يوجد التسليم والتسلم فيحصل المقصود۔

«المبسوط» للسرخسي (16/ 44):

«وإذا استأجر رجلا ليعمل له عمل اليوم إلى الليل بدرهم خياطة أو صباغة، أو خبزا، أو غير ذلك فالإجارة فاسدة عند أبي حنيفة رحمه الله، وفي قولهما يجوز استحسانا، ويكون العقد على العمل دون اليوم حتى إذا فرغ منه نصف النهار فله الأجر كاملا، وإن لم يفرغ في اليوم فله أن يعمله في الغد؛ لأن المقصود العمل وهو معلوم مسمى وذكر الوقت للاستعجال لا لتعليق العقد به فكأنه استأجره للعمل على أن يفرغ منه في أسرع أوقات الإمكان، وهذا؛ لأن المستأجر إنما يلتزم البدل بمقابلة ما هو مقصود له، وذلك العمل دون المدة»

 (الاختیار لتعلیل المختار:2/52)

        وقال العلامۃ عبد اللہ بن محمود الموصلی رحمہ اللہ:قال: (وإن استأجر أرضا للزراعة بين ما يزرع فيها، أو يقول على أن يزرعها ما شاء): لأن منافع الزراعة مختلفة وكذلك تضرر الأرض بالزراعة مختلف باختلاف المزروعات فيفضي إلى المنازعة، فإذا بين ما يزرع، أو قال على أن يزرعها ما شاء انقطعت المنازعة.(وهكذا ركوب الدابة، ولبس الثوب) وكل ما يختلف باختلاف المستعملين، لأن الناس يختلفون في الركوب واللبس فيفضي إلى المنازعة، فإذا عين أو أطلق فلا منازعة.(إلا أنه إذا لبس أو ركب واحد تعين) فليس له أن يركب أو يلبس غيره كما إذا عينه في الابتداء ويدخل في إجارة الدور والأرضين الطريق والشرب، لأن المقصود المنفعة ولا منفعة دونهما۔

المعاییر الشرعیة: ( المعيار لشرعى، الإجارة والإجارة المنتهية بالتمليك: (ص: 245)

یجوز أن تتوارد عقود الإجارۃ لعدۃ اشخاص علی منفعة معینة لعین واحدۃ ومدۃ محددۃ دون تعیین زمن معین لشخص معین، بل یحق لکل منہم استیفاء المنفعة فی الزمن الذی یتم تخصیصه له عند الاستخدام تبعا للعرف وھذہ الحالة من صور المہایأۃ الزمنیة فی استیفاء المنفعة(Time Sharing).

الدر المختار: (229/6، سعید:

(ولو تهايآ في سكنى دار) ؛ واحدة يسكن هذا بعضا وذا بعضا أو هذا شهرا وذا شهرا (أو دارين) يسكن كل دارا (أو في خدمة عبد) يخدم هذا يوما وذا يوما (أو عبدين) يخدم هذا هذا والآخر الآخر (أو في غلة دار أو دارين) كذلك (صح) التهايؤ في الوجوه الستة استحسانا اتفاقا۔

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 425):

«وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة»

محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

 03/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب