03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی گھر بنانے کے لیے خریدا گیا پلاٹ اور فرضیت حج کا حکم
92918حج کے احکام ومسائلکن لوگوں پر حج فرض ہے؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا سوال میرے والدین پر حج کی فرضیت کے بارے میں ہے۔ براہِ کرم ہماری صورتحال کے مطابق شرعی رہنمائی فرمائیں۔ ہم لاہور میں مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) میں رہتے ہیں۔ ہمارے پاس اس وقت دو مشترکہ ذاتی گھر ہیں: 1۔ والد کی طرف سے: ایک مشترکہ گھر ہے جس میں تین خاندانوں کے حصے ہیں، اور ہمارے خاندان کا اس میں 1/3 حصہ ہے۔ یعنی میرے والد کا اس گھر میں صرف ایک تہائی حصہ ہے اور باقی دو حصے خاندان کے دیگر افراد کے ہیں۔ 2۔ والدہ کی طرف سے: ایک دوسرا مشترکہ گھر ہے جس میں میری والدہ کا 1/2 حصہ ہے جبکہ باقی 1/2 حصہ میری خالہ (والدہ کی بہن) کا ہے۔ لہٰذا ہمارے پاس مشترکہ گھروں میں حصے تو ہیں، لیکن میرے والدین کا اپنا مکمل الگ گھر نہیں ہے۔ اب میرے والدین نے مستقبل میں اپنا گھر بنانے کے لیے تقریباً 70 لاکھ روپے کا ایک پلاٹ خریدا ہے۔ اس پلاٹ کا مقصد سرمایہ کاری یا فروخت کرنا نہیں بلکہ اپنا ذاتی گھر بنانا ہے۔ تاہم ابھی اس پر گھر نہیں بنایا جائے گا۔ منصوبہ یہ ہے کہ جب مستقبل میں والد کی طرف والے مشترکہ خاندانی گھر سے ہمارے خاندان کو اپنا حصہ مل جائے گا، تب اس پلاٹ پر اپنا الگ گھر تعمیر کیا جائے گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس صورتحال میں میرے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں پر حج فرض ہو چکا ہے؟ خاص طور پر یہ بتائیں کہ کیا تقریباً 70 لاکھ روپے کا یہ پلاٹ، جو مستقبل میں اپنا ذاتی گھر بنانے کے مقصد سے خریدا گیا ہے، حج کی استطاعت معلوم کرتے وقت ضروری رہائش (حاجتِ اصلیہ) میں شمار ہوگا؟ کیا میرے والدین کے لیے حج ادا کرنے کی خاطر اس پلاٹ کو بیچنا یا اس کی رقم حج کے اخراجات میں استعمال کرنا ضروری ہوگا، جبکہ ان کا موجودہ رہائشی انتظام مشترکہ ہے اور مستقبل میں اسی پلاٹ پر اپنا گھر بنانے کا منصوبہ ہے؟ یا ایسی صورت میں یہ پلاٹ ان کی بنیادی رہائشی ضرورت میں شمار ہوگا اور صرف اس پلاٹ کی مالیت کی وجہ سے ان پر حج فرض نہیں ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و حدیث روشنی میں واضح فرمائیں کہ اس معاملے میں میرے والد اور والدہ پر الگ الگ حج فرض ہے یا نہیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انسان اپنے معاش میں کچھ بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا، رہائشی مکان، گھریلو سامان، سواری ، خادم وغیرہ کا محتاج ہوتا ہے، جن کے بغیر زندگی گذارنا دشوار ہے، فقہاء نے ان ہی چیزوں کو جن سے انسان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، حاجات اصلیہ قرار دیا ہے۔ پس ذاتی رہائش کا مکان ہونا انسان کی بنیادی ضرورت ہے ، اب ظاہر ہے کہ جب تک کسی شخص کا ذاتی مکان نہ بن جائے تب تک مجبور ا وہ کسی نہ کسی مکان میں سکونت اختیار کرے گا اور مجبوراً اجارہ یا اعارہ کے مکان میں سکونت پذیر ہونے سے سکونت کی ضرورت کا پورا ہونا نہیں کہا جا سکتا ہے، کیونکہ سکنی انسان کی بنیادی اور دائمی ضرورت ہے جس کے لیے ذاتی مکان کی حاجت ہے۔ (فتاوی ٰ قاسمیہ :ج22)

اسی طرح کسی شخص پر حج فرض ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اس کے پاس حوائج اصلیہ (اپنااور اہل وعیال کا نفقہ اور رہائش کے اخراجات)سے زائد اس قدر مال بچتا ہو جس سے وہ  حج  پر آنےوالے  اخراجات پورے کرسکے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی ایک  زمین کی قیمت  اتنی زیادہ ہو کہ اس سے بقدر ضرورت ( ضرورت بھی اس شخص کی عرفی حیثیت کی رو سے دیکھی جائے گی )مکان کی تعمیر کے بعد اگر اتنی رقم بچ جاتی ہو کہ اس سے حج ہوسکے تو حج فرض ہے ورنہ نہیں ۔

حوالہ جات

(شامی، كتاب الزكاة (٢٦٦/٣):

لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لابد للإنسان منها.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 132)

" الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 462):

«(قوله ومنه المسكن) أي الذي يسكنه هو أو من يجب عليه مسكنه بخلاف الفاضل عنه من مسكن أو عبد أو متاع أو كتب شرعية أو آلية كعربية أما نحو الطب والنجوم وأمثالها من الكتب الرياضية فتثبت بها الاستطاعة وإن احتاج إليها كما في شرح اللباب عن التتارخانية (قوله فإنه لا يلزمه بيع الزائد) لأنه لا يعتبر في الحاجة قدر ما لا بد منه»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 218):

«وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج، وإلا فلا»

محمد عمران

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 03/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب