| 92026 | شرکت کے مسائل | مشترک چیزوں سے انتفاع کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
ہم چار بہن بھائی ہیں (ایک بہن اور تین بھائی) ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ والد صاحب کا انتقال آٹھ سال قبل ہوا، جبکہ والدہ کا انتقال چار سال قبل ۔ انہوں نے ترکے میں ایک مکان چھوڑا ہے۔ اس مکان کی خریداری اور وراثت کی تقسیم کے حوالے سے درج ذیل مسائل درپیش ہیں:
جب یہ مکان خریدا جا رہا تھا، تو چھوٹے بھائی نے 29 لاکھ روپے اور بڑی بھابھی نے 5 لاکھ روپے دیے تھے۔ بھابھی نے یہ رقم اپنے شوہر ( ہمارے بڑے بھائی) کی فراہم کر دہ رقم سے جمع کر کے دی تھی، کیونکہ وہ خود ملازمت یا کار و بار و غیر ہ نہیں کرتیں۔ والدین نے اپنی زندگی میں صرف اتنا بتایا تھا کہ چھوٹے بھائی اور بھابھی نے مکان کی خریداری میں بالترتیب 29 لاکھ اور 5 لاکھ روپے سے ہلپ ( help/ مدو) کی ہے۔ والدین نے اپنی زندگی میں کبھی یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ رقم بطور قرض یا شراکت داری لی جارہی ہے ، اور نہ ہی اس پر کوئی گواہ موجود ہے۔ اب والدین کے انتقال کے بعد بھا بھی اور چھوٹا بھائی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے یہ رقم منافع (profit)کے حصول کے لیے دی تھی، لہذا وہ اب مکان کی موجودہ قیمت میں ہونے والے اضافے کے تناسب سے اپنا منافع مانگ رہے ہیں۔
سوال 1: کیا یہ رقم شرعا قرض ، ہبہ یا سرمایہ کاری (Investment) ہے؟ اور کیا بھائی اور بھا بھی مکان کی قیمت میں ہونے والے اضافے میں منافع کے حق دار ہیں ؟
سوال 2: بڑی بھا بھی والد صاحب کے انتقال کے بعد سے( پچھلے آٹھ سال سے ) اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کبھی دیگر بہن بھائیوں کو اس کا کرایہ نہیں دیا، حالانکہ ان کا اپنا ایک ذاتی فلیٹ بھی ہے جس کا وہ کرایہ وصول کرتی ہیں۔ شرعی رو سے کیا ان پر اس عرصے کا کرایہ ادا کر نالازم ہے ؟
سوال3: بڑے بھائی نے چار سال قبل مکان کی قیمت اندازے سے طے کی تھی۔ اب جب مکان تقسیم ہوگا، تو کیا چار سال پرانی قیمت کا اعتبار ہوگا یا موجودہ مارکیٹ ویلیو (Market Value) کے حساب سے نئی قیمت کا تعین کیا جائے گا؟
سوال 4: والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم تھی اور ان کی ایک ذاتی گاڑی بھی تھی۔ بڑے بھائی کی فیملی نےوہ گاڑی بیچ دی اور بینک سے رقم بھی نکلوالی۔ اسی طرح والدہ کے انتقال کے بعد ان کا سونا ( زیورات ) اور بینک اکاؤنٹ میں موجو در قم بھی بڑے بھائی کے قبضے اور ملکیت میں چلی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بڑے بھائی والدین کے ساتھ اسی گھر میں رہتے تھے۔ تو کیا والدین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ تمام اشیاء( گاڑی، زیور، بینک بیلنس) صرف بڑے بھائی کی ملکیت بن جاتی ہیں، یا یہ سب بھی ترکہ شمار ہو گا اور چاروں بہن بھائیوں میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا ؟
سوال 5: شر عامیرات کی تقسیم کیسے ہو گی ؟
تنقیح: رقم دیتے وقت یاوالدین کی زندگی میں (اور والد کےا نتقال کے بعد چار سال تک والدہ کی حیات میں بھی) کبھی بھی بھائی یا بھابھی نے اس رقم پر منافع کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ اس دوران وراثت کی تقسیم کی بات بھی چلی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1: صورت مسئولہ میں چھوٹے بھائی اور بھابھی کی طرف سے رقم کی ادائیگی اگرچہ ورثہ کے درمیان مسلم ( تسلیم شدہ) ہے، لیکن وہ اس رقم کو شراکت داری قرار دے کر مکان کی موجودہ مالیت میں حصے کا دعویٰ کر رہے ہیں جو کہ عرف کے خلاف ہے۔ کیونکہ خاندان کے اندر ایسے معاملات بالعموم شراکت داری کی بنیاد پر نہیں ہوتے، اور اگر بالفرض شراکت داری ہو تو سب کو واضح بتادیا جاتا ہے۔
اس بنا پر چھوٹا بھائی اور بھا بھی مدعی ہیں، جبکہ بقیہ ورثہ مدعا علیہم ہیں۔ لہٰذا شر عی اعتبارسےدعوے کو سچ ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعیان ( چھوٹے بھائی اور بھا بھی) پر عائد ہوتی ہے، جس کے لیے ان کے پاس تحریری دستاویز یا شرعی گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ لیکن چونکہ یہاں کوئی تحریری ثبوت یا شر عی گواہ موجود نہیں ہے، اس لیے بقیہ ورثہ پر اپنے علم کے مطابق قسم اٹھانا لازم ہو گی۔ چنانچہ اگر بقیہ ورثہ قسم اٹھالیں تو شراکت داری کا دعوی باطل ہو کر یہ رقم قرض ثابت ہو جائے گی، اور اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کر دیں، تو شرعا یہ شراکت داری ثابت ہو جائے گی۔
تاہم اگر بقیہ ورثہ قسم اٹھانے کے بعد اس رقم کو قرض بھی ماننے سے انکار کریں اور اسے ہبہ (عطیہ / تحفہ ) قرار دیں، تو اس کو ہبہ ثابت کرنا بقیہ ورثہ کے ذمے ہوگا اور اس پر معتبر گواہی یا کوئی تحریری ثبوت پیش کر یں، ورنہ چھوٹے بھائی اور بھا بھی سے اس بات پر قسم لی جائے گی کہ "ہم نے یہ رقم بطور ہبہ نہیں دی تھی"۔ اگر وہ قسم اٹھالیں تو یہ قرض ثابت ہو گا ور نہ یہ ہبہ مان لیا جائے گا۔
مذکورہ صورتوں میں اگر شراکت داری ثابت ہو جائے تو مکان میں تمام افراد کی ملکیت ان کے فراہم کردہ حقیقی تناسب سے مکان کی موجودہ قیمت فروخت کے حساب سے مقرر کی جائے گی۔ اور اگر یہ رقم قرض ثابت ہو جائے تو والد صاحب کے ذمےیہ رقم دین شمار ہو گی، جس میں چھوٹے بھائی اور بھابھی سے اس بات کی اضافی قسم بھی لی جائے گی کہ انہوں نے والد صاحب کی زندگی میں یہ رقم کسی بھی صورت میں واپس وصول نہیں کی تھی، اور اس کے بعد ترکہ کی تقسیم سے پہلے یہ قرض ادا کیا جائے گا۔ لیکن اگر ہبہ ثابت ہو جائے تو چھوٹے بھائی اور بھابھی کا اس رقم کی واپسی یا مکان کی قیمت میں کسی بھی قسم کے اضافے کا کوئی شرعی حق باقی نہیں رہے گا۔
مزید یہ کہ ان تمام صورتوں میں چھوٹا بھائی والد صاحب کے بقیہ تر کے اور میراث میں دیگر بھائیوں کی طرح اپنے شرعی حصے کا برابر حق دار رہے گا۔
2:مشترکہ وراثت کے مکان میں اگر تمام ورثہ بالغ ہوں، کوئی یتیم نہ ہو اور مکان کرایے کے مقصد سے نہ بنایا گیا ہو، تو جب تک دیگر ورثہ باقاعدہ مطالبہ نہ کریں، قابض وارث (بطور جزوی مالک ہونے کی وجہ سے) پر پچھلی مدت کا کرایہ لازم نہیں ہوتا۔ تاہم دیگر ورثہ کے مطالبے کے دن سے اس پر ان کے حصوں کے بقدر اجرتِ مثل (مارکیٹ کرایہ) اور مالی تلافی شرعاً و قانوناً واجب ہو جاتی ہے کیونکہ اس کا قبضہ برقرار رکھنا کرایہ داری پر بالواسطہ رضامندی تصور ہوتا ہے۔ البتہ اگر ورثہ میں خواتین شامل ہوں تو ملکی قانون (Mesne Profits)، فقہ شافعی کے اصولوں اور شریعت میں کمزور طبقات کے حقوق کی تحفظ کی بنا پر، مطالبے کا انتظار کیے بغیر مورث کی وفات کے پہلے دن سے ہی خواتین کے حصے کا کرایہ اور مالی تلافی قابض وارث کے ذمے بہرصورت واجب الادا ہوگی۔
3: مکان کی قیمت کا اعتبار ترکے کی با قاعده تقسیم کے وقت مارکیٹ ویلیو (Market value) یعنی قیمت فروخت کا ہو گا۔ اگر ماضی میں تمام ورثہ کی رضا مندی سے ترکہ تقسیم ہوتا اور اسی وقت مکان کی قیمت بھی باہمی اتفاق سے مقرر کر لی گئی ہوتی تو اس صورت میں وہی پرانی قیمت معتبر ہوتی۔ لیکن چونکہ اب تک ترکہ شرعا تقسیم ہوا نہیں اور یکطرفہ طور پر مکان کی قیمت مقرر کرلی تھی، تو ایسا کر ناشر عا درست نہیں تھا۔ اب جب مکان کی عملی تقسیم ہو گی، تو نئے سرے سے اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو (قیمت فروخت) کا تعین کیا جائے گا۔
4: والدین کے انتقال کے بعد ان کا چھوڑا ہوا تمام مال خواہ وہ بینک بیلنس ہو ، گاڑی ہو یا والدہ کے زیورات ہوں ، سب ترکہ ہے اور تمام ورثہ کا مشتر کہ حق ہے۔ محض والدین کے ساتھ ایک گھر میں رہنے یا ان کی خدمت کرنے کی وجہ سے کوئی بچہ ان کے مال کا مالک نہیں بن جاتا۔ والدین کی خدمت کرنا اولاد کی سعادت اور شرعی ذمہ داری ہے ، اس کا وراثت کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ۔ بڑے بھائی پر لازم ہے کہ بینک میں والد اور والدہ کے وفات کے وقت جتنی رقم تھی وہ سب رقم ، گاڑی جس قیمت پر بیچی گئی تھی وہ رقم ، اور والدہ کا جو سونا موجود ہے وہ اور اگروہ سونا بیچ دیا گیا ہے تو اس کی فروختگی کی رقم ، یہ سب ملا کر مشترکہ ترکے میں شامل کر کے چاروں بہن بھائیوں میں تقسیم کرے۔
5: مذکوره تفصیل کے مطابق اگر والدین کے انتقال کے وقت اگر دادا، دادی، نانا اور نانی میں سے کوئی حیات نہ تھا اور ورثہ میں صرف یہی تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں، تو والد اور والدہ دونوں کے مجموعی ترکے (بشمول نقد رقم، زیورات، بینک بیلنس اور دیگر جائیداد) اس طرح تقسیم ہوگا کہ کل ترکے کے 7 برابر حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے بیٹی کو ایک حصہ یعنی 14.285 فیصد اور ہر ایک بیٹے کو دو، دو حصےیعنی 28.571فیصد ملے گا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (6/58)
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى : ومنها : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقدكما في البيع والإجارة، ومنها: أن يكون الربح جزء شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح، والتعيين يقطع الشركة الجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما ، فلا يتحقق الشركة في الربح.
الهداية( 3/311)
قال العلامة المرغيناني رحمه الله تعالى : وكل شركة فاسدة، فالربح فيهما على قدر المال، ويبطل شرط التفاصل؛ لأن الربح فيه تابع للمال فيتقدر بقدره، كما أن الريع تابع للبدر في الزراعة، والزيادة إنما تستحق بالتسمية، وقد فسدت، فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال.
البحر الرائق (204/7)
وأجمعوا على أن من ادعى دينا على الميت يخلفه القاضي بلا طلب الوصي والوارث بالله ما استوفيت من المديون ولا من أحد أداه اليك عنه ولا قبضه لك قابض بأمرك ولا أبرأته منه ولا شيء منه ولا أحلت بشئ من ذلك أحدا ولا عندك به ولا بشيء منه رهن كذا في البزازية وظاهر كلام المؤلف أنه لا يخلف مع وجود البرهان قلت إلا في مسائل الأولى تحليف مدعى الدين على الميت إذا بر من فإنه يحلف كما وصفنا وهي في الخلاصة ولا خصوصية الدعوى الدين بل في كل موضع يدعى حقا في التركة وأثبته بالبينة فإنه يخلف حقا في التركة وأثبته بالبينة فإنه يخلف من غير خصم انه ما است و في حقه وهو مثل حقوق الله تعالى بحلف الميت....
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (480/6)
قال العلامة الزيلعي رحمه الله : ( وعصبها الابن وله مثلا حظها معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون والبنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى : يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين [النساء : ١١]
الفتاوى الهندية (320/2)
ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه …
الفتاوى الهندية (2347/1)
وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع، كذا في السراج الوهاج.
درر الحکام شرح مجلة الأحكام (52/3)
بدون اذن ، أما إذا أعمل المال بإذن فإذا أعمل بشرط أن يكون الربح له خاصة فتكون حصة الورثة الآخرين قرضاً و إذا أعمل على أن يكون الربح مشتركا فتكون المعاملة شركة مضاربة في حصة الورثة. أنظر المادة ( ١٣٤١) وإذا شرط الربح أن يكون للمورثة الآخرين يكون بضاعة في حصة الورثة، أنظر المادتين (١٥٥٩,١٤١٤) وشرحها.
- مقداراً، هذا التعبير ليس احترازياً فإذا تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح يكون للعامل خاصة (الهندية).
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (502/6)
مطلبٌ : أَجْتَمَعَا فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ وَاكْتَسَبَا وَلَا يَعْلَمُ التَّفَاوَتْ فَهُوَ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ
تنبيه : يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز . فأجاب بأنه بينهما سوية وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ. وقدمنا أن هذا اليس شركة مفاوضة ما لم يصر حا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا غير الابن مع أبيه الما في الفنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن هما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لي غرس شجرة تكون للأب ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له ، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان. وفي الخانية : زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله، واختلفوا في المتاع فهو للأب و للبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالواهم أو امرأته بعد موته إن هذا استفدناه بعد موته فالقول هم ، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
الأم للإمام الشافعي (622)
قال: وإذا غصب الرجل من الرجل دابة فاستغلها أو لم يستغلها ولمثلها غلة أو دارا فسكنها أو أكراها أو لم يسكنها، ولم يكرها ولمثلها كراء أو شيئا ما كان مما له غلة استغله أو لم يستغله انتفع به أو لم ينتفع به فعليه كراء مثله من حين أخذه حتى يرده إلا أنه إن كان أكراه بأكثر من كراء مثله فالمغصوب بالخيار في أن يأخذ ذلك الكراء؛ لأنه كراء ماله أو يأخذ كراء مثله، ولا يكون لأحد غلة بضمان إلا للمالك؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما قضى بها للمالك الذي كان أخذ ما أحل الله له والذي كان إن مات المغل مات من ماله. وإن شاء أن يحبس المغل حبسه إلا أنه جعل له الخيار إن شاء أن يرده بالعيب رده، فأما الغاصب فهو ضد المشتري. الغاصب أخذ ما حرم الله - تعالى - عليه، ولم يكن للغاصب حبس ما في يديه، ولو تلف المغل كان الغاصب له ضامنا حتى يؤدي قيمته إلى الذي غصبه إياه، ولا يطرح الضمان له لو تلف قيمة الغلة التي كانت قبل أن يتلف.
The Code of Civil Procedure, 1908 (Act No. V of 1908) :
(12)Civil Procedure Code: "mesne profits" of property means those profits which the person in wrongful possession of such property actually received or might with ordinary diligence have received therefrom, together with interest on such profits, but shall not include profits due to improvements made by the person in wrongful possession: Mesne profits. See notes under Order 20 rule 12. Persons wrongfully deprived of the corpus or usufruct of property are entitled to claim compensation for such deprivation (a). Such compensation which is awarded against persons in wrongful possession of property(b), is known as mesne profit(c) and is claimable only by a person entitled to actual possession of such property(d).
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
04/ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


