| 92200 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کے دو بھائی تھے اور ہم چار بھائی ہیں۔ میں 1978ء میں کراچی آیا۔ اس وقت میرے پاس کوئی سرمایہ یا اثاثہ نہیں تھا۔ اس وقت نہ میرے والد صاحب کا کراچی میں کوئی کاروبار تھا اور نہ ہی میرے دادا کا۔ پہلے ایک وکیل کے ساتھ ملازمت کی۔ اس کے بعد 1982ء سے 1992ء تک میں نے اپنے نانا کے ساتھ ملازمت اور بعدمیں کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔
1988ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ 1998 میں تین ثالثوں کی موجودگی میں ہماری اپنے چچا صاحبان سے جائیداد کی تقسیم ہوئی۔ میرے تینوں بھائیوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی نقد رقم موجود نہیں ہے ،حالانکہ اس وقت ایک بھائی ماسٹر میر اسلم سرکاری اسکول استاد ،دوسرا زمینداری جبکہ تیسرا بھائی کراچی میں میرے ساتھ رہتا تھا۔ اس موقع پر میں نے مکمل دیانت داری کے ساتھ اپنی موجودہ نقد رقم چھ لاکھ روپے ظاہر کردی۔جو اسی وقت چاروں بھائیوں میں برابر تقسیم کر دی گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنے وسائل سے گھر میں تین کمرے تعمیر کیے ، اپنی چھوٹی بہن کی شادی کی، اور گھر کے تمام مالی اخراجات خود برداشت کرتا رہا۔
2005ء میں مجھے کاروبار میں تقریباً چودہ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ جس کے نتیجے میں میرا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ قرض خواہ اپنے مطالبات کر رہے تھے۔ اس مشکل وقت میں میرے چند دوستوں نے میرا ساتھ دیا جن کی بدولت میں نے دوبارہ کاروبار شروع کیا۔ اس پورے مشکل دور میں میرے کسی بھائی نے مالی تعاون نہیں کیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا کاروبار دوبارہ کامیاب ہوا۔ میں نے اپنی محنت اور کمائی سے گاؤں میں کروڑوں روپے مالیت کی زرعی زمینیں، رہائشی پلاٹ اور مکانات خریدے، تمام بھائیوں، بہنوں اور اپنی والدہ محترمہ کو حج کروایا۔ ان تمام جائیدادوں کے بارے میں میں نے ہمیشہ اپنے بھائیوں کو آگاہ رکھا۔ ان میں سے صرف ایک پلاٹ میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ مشترکہ طور پر خریدا گیا، جبکہ باقی تمام جائیدادیں میں نے اپنی ذاتی کمائی سے خریدیں۔ میں نے تقریباً بیالیس سال کی مسلسل محنت سے جو کچھ حاصل کیا، اس کی معلومات اپنے بھائیوں سے کبھی مخفی نہیں رکھیں۔ اس پورے عرصے میں گھر کے تمام اخراجات بھی میں ہی برداشت کرتا رہا۔ اپنی تمام تر توجہ خاندان اور گھر کے اخراجات پر مرکوز رکھنے کی وجہ سے میں اپنے پانچ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے مستقبل کے لیے خاطر خواہ انتظام تک نہ کر سکا۔
2021ء میں ثالثین کی موجودگی میں اپنا مکمل حساب پیش کر کے میں نے تینوں بھائیوں کو ایک ایک کروڑ روپے دیے تاکہ ہر کوئی اپنا مستقل کاروبار کر سکے۔ اس کے بعد جب ثالثوں نے کراچی کی بعض جائیدادوں میں بھائیوں کو حصہ دینے کا فیصلہ کیا، تو میں نے اسے بھی غیر مشروط طور پر قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ اسٹامپ پیپر پر تحریری اقرار نامے کے بعدثالثوں کےفیصلے کو میں نے تسلیم کیا، لیکن بھائی ماسٹر میر اسلم ہر بار ثالثین بدلتے رہے، فیصلے تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور اسٹامپ پیپر پر دستخط کیے بغیر بالآخر ثالثی کے تمام فیصلوں سے مکر گئے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ 2021ء سے آج تک ماسٹر میر اسلم نے ہم سے قطع تعلق کر رکھا ہے۔ اس دوران انہوں نے دو مرتبہ مجھ پر حملہ بھی کیا، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے محفوظ رکھا۔
موجودہ صورتحال:
سوال نمبر1: ماسٹر میر اسلم خان کا دعویٰ ہے کہ ہم 2026ء تک مشترکہ کاروبار اور مشتر کہ جائیداد میں شریک رہے ہیں، جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ 2021ء میں ثالثین کی موجودگی میں باقاعدہ تقسیم ہو چکی تھی، ہر بھائی کو اس کا حصہ دے دیا گیا تھا، اور اس کے بعد کسی قسم کی شراکت باقی نہیں رہی۔تو کیا ایسی صورت میں شرعی اعتبار سے 2021ء کے بعد میری کمائی، جائیداد اور کاروبار میں کیا دوسرے بھائیوں کا کوئی حق باقی رہتا ہے ؟
سوال نمبر 2: میری شادی 1989ء میں ہوئی۔ میں نے اپنی بیوی کے لیے تقریباً دس تولہ سونا اپنی ذاتی کمائی سے خریدا۔ بعد میں ماسٹر میر اسلم خان، قاسم خان اور رئیس خان کی شادیوں کے موقع پر بھی ان کی بیویوں کے لیے سونا میں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا۔ اس وقت نہ کسی بھائی نے اس میں کوئی مالی حصہ ڈالا اور نہ ہی یہ اخراجات مشتر کہ سرمایہ سے کیے گئے۔ اب کئی سال بعد اس سونے کا حساب طلب کیا جا رہا ہے۔ تو کیا شرعی طور پر میری ذاتی کمائی سے خریدا گیا سونا مشتر کہ حساب میں شامل ہو گا ؟ جبکہ سونا شرعاً عورت کی ملکیت بھی شمار ہوتا ہے۔
سوال نمبر 3: ہماری2021ء کی تقسیم کے بعد میں نے اپنے چھوٹے بھائی رئیس خان کے ساتھ مل کر تین کروڑ دس لاکھ روپے میں قرض پر ایک مکان اور ملحقہ جگہ خریدی۔ بعد میں ثالثین نے اس میں بھی دونوں بھائیوں ماسٹر میر اسلم اور قاسم خان کو حصہ دینے کا فیصلہ کیا، جسے میں نے قبول کر لیا۔ کیا شرعاً میرا یہ قبول کرنا کافی ہے یا اس معاملے میں مزید کوئی حق یا ذمہ داری باقی رہتی ہے؟
سوال نمبر 4: میں نے گاؤں میں اپنی ذاتی کمائی سے ایک بنگلہ تعمیر کیا، جس پر تمام بھائیوں نے باہمی رضامندی سے میری ملکیت کا اقرار کیا اور بعد میں ثالثین نے بھی یہ بنگلہ میرے حصے میں دے دیا۔ اب چھ سال بعد اسے صرف "عارضی رہائش" کے لیے دیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھائیوں کی سابقہ رضامندی اور ثالثین کے فیصلے کے بعد شرعاً اس دعوے کی کیا حیثیت ہے؟
سوال نمبر 5: میرے بڑے بیٹے ذاکر خان نے تقریباً بارہ سال میرے ساتھ لکڑی کے کاروبار میں پچاس فیصد شراکت کے ساتھ کام کیا، جبکہ میں نے بیالیس سال تک تمام مالی خطرات، قرض اور کاروباری ذمہ داریاں تنہا اٹھائیں۔ شرعی اعتبار سے بیٹے کی شراکت کا حساب کس کے ذمے ہوگا، اور میری بیالیس سالہ مسلسل محنت و مشقت کی بنیاد پر میرا شرعی استحقاق کیا بنتا ہے؟
سوال نمبر 6: 1998ء سے 2004ء تک کا تمام منافع گھر کے اخراجات میں صرف ہوا اور 2005ء کے شدید کاروباری نقصان و قرض کی تمام تر ذمہ داری، وصولیاں اور ادائیگیاں تنہا میں نے اٹھائیں۔ شرعی اعتبار سے اس نقصان اور قرض کی ذمہ داری صرف میری ذات پر عائد ہوگی یا دیگر بھائی بھی اس میں شریک شمار ہوں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1:سائل کے بیان کے مطابق، چونکہ کراچی کا کاروبار سائل نے اپنی ذاتی کوشش سے قائم کیا اور اس میں نہ والد کی وراثت شامل تھی اور نہ کوئی مشترکہ سرمایہ، لہٰذا یہ جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والا منافع ابتداء ہی سے سائل کی ذاتی ملکیت تھے، اور بھائیوں کو 2021ء میں ثالثین کی موجودگی میں دیے گئے ایک ایک کروڑ روپے ہوں یا اس کے علاوہ جو کچھ بھی دیا گیا، وہ سب سائل کی طرف سے تبرع اور احسان تھا، شرعاً واجب نہ تھا۔
ماسٹر میر اسلم صاحب کا یہ دعویٰ کہ ”ہم آج بھی مشترک ہیں“ شرعاً اسی وقت قابلِ قبول ہو گا جب وہ باقاعدہ شرعی شہادت سے شرکت ثابت کریں۔ محض ساتھ رہنے، بھائی ہونے، یا مشترکہ اخراجات کرنے سے شرکت ثابت نہیں ہوتی۔ البتہ جو مال بطورِ ہبہ دے کر قبضہ کرا دیا جائے وہ لینے والے کی ملکیت ہو جاتا ہے، اور ذی رحم محرم (بھائی) کو دیے گئے ہبہ سے رجوع جائز نہیں۔
2: جو زیور سائل نے 1989میں اپنی اہلیہ کو دیا۔ جس کے بارے جب سائل خود تصریح کررہا ہے کہ بطور تملیک دیا تھا، تو وہ زیور سائل کی اہلیہ کی ملکیت ہے، اور بھائیوں کا اُس میں کوئی حق نہیں۔ اور جو زیور سائل نے اپنے مال سے بھائیوں کی بیویوں کو دیا تھا، وہ سائل کی طرف سے ہبہ اور احسان تھا، اور قبضہ کے ساتھ ہبہ مکمل ہو گیا۔ سائل اس تبرع سے رجوع نہیں کر سکتا، اور جس نے وصول کیا وہ اس کا مالک ہو گیا۔ لہذا سونا خواتین کی ذاتی ملکیت ہے۔
3:چونکہ یہ مکان اور ملحقہ جگہ سائل اور اُن کے چھوٹے بھائی رئیس خان نے قرض لے کر خریدی۔ لہٰذا شرعاً یہ صرف سائل اور رئیس خان کی ملکیت ہے اور ماسٹر میر اسلم صاحب اور قاسم خان کا اس میں کوئی استحقاق نہیں ۔ ثالثوں نے جو اُن کو حصہ دینے کا فیصلہ کیا اور سائل نے اسے قبول کیا، وہ سائل کی طرف سے ایک تبرع اور ہبہ کا وعدہ تھا۔ اس کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ ہبہ قبضہ سے پہلے مکمل نہیں ہوتا۔ لہٰذا جب تک حصے الگ کر کے قبضہ نہ دیا جائے، ہبہ تام نہیں ہوتا اور واپسی کا حق باقی رہتا ہے۔ ایسی صورت میں شرعاً بطور استحقاق سائل پر اس میں حصہ دینا تو اگرچہ لازم نہیں،لیکن اپنے وعدے کو پورا کرنا اخلاقاًمستحسن اور موجبِ اجر ہے۔
اس کے علاوہ سائل پر اس مکان کے حوالے سے یہ شرعی ذمہ داری باقی ہے کہ جس تناسب سے رئیس خان کے ساتھ مل کر خریدا تھا، اسی تناسب سے دونوں کا حق مشترک ہے۔دونوں بھائی مل کر اس کاتصفیہ کریں۔
4: سائل کے مطابق بنگلہ سائل نے اپنی ذاتی کمائی سے تعمیر کیا تھا جس کا بھائیوں نے خود اقرار کیا تھا اور ثالثین نے بھی وہ بنگلہ سائل کے حصے میں دے دیاتھا۔اگر یہ بات درست ہے تو اب یہ کہنا کہ وہ صرف عارضی رہائش کے لیے دیا گیا تھا، شرعاً قابلِ اعتبار نہیں، الّا یہ کہ وہ شرعی شہادت سے یہ ثابت کریں کہ بنگلہ سائل کی ملکیت نہیں تھی اور اُس وقت باقاعدعارضی استعمال کی صراحت تھی۔
5:صورتِ مسئولہ میں بیٹے ذاکر خان کے ساتھ بارہ سالہ مدت کے لیے پچاس فیصد نفع پر شراکت آپ کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ اگر تمام سرمایہ سائل کا تھا اور بیٹے کی طرف سے کوئی سرمایہ شامل نہ تھا، بلکہ صرف اس کا عمل تھا، تو یہ مضاربت ہے، جس میں نفع طے شدہ پچاس فیصد کے تناسب سے تقسیم ہوگا،اور نقصان اولانفع سے پورا کیا جائے گا، اگر نفع سے نقصان پورا نہ ہو تو اصل سرمائے سے پورا کیا جائے گا اور بیٹے کا نقصان صرف اس کی محنت کا ضیاع ہوگا۔ اگر دونوں سرمایہ اور عمل میں شریک تھے تو یہ شرکتِ عنان ہے، جس میں نفع طے شدہ شرط کے مطابق اور نقصان دونوں کے سرمائے کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔ اور اگر شرکت کی شرائط، مثلاً سرمائے یا نفع کے تناسب کی واضح تعیین، مکمل نہ ہوں تو یہ شرکتِ فاسدہ شمار ہوگی، جس میں تمام نفع سائل کا ہوگا اور بیٹے کو صرف اجرتِ مثل ملے گی۔
بہرصورت بیٹے کا معاہدہ آپ کے ساتھ تھا تو بیٹے سے شراکت کا حساب بھی آپ کے ذمہ ہے۔
6: صورتِ مسؤلہ میں سائل اور بھائیوں کے درمیان چونکہ شرعاً کوئی معتبر عقدِ شرکت قائم نہیں تھا، نہ کسی بھائی کا سرمایہ شامل تھا اور نہ ہی یہ قرض ان کی اجازت سے لیا گیا تھا، اس لیے اس نقصان اور قرض کی تمام تر شرعی و قانونی ذمہ داری صرف سائل ہی پر عائد ہوتی ہے اور دیگر بھائی اس کے ضامن نہیں ہیں۔ اسی لیے سائل نے چالیس سال کے دوران اپنے بھائیوں، بہنوں اور والدہ پر رہائش، شادیوں، حج اور دیگر گھریلو اخراجات کی مد میں جو رقم خرچ کی، وہ شرعاً احسان و تبرع (بلا معاوضہ مدد) شمار ہوتی ہے،جس کی واپسی یا بدلے کا مطالبہ سائل کو حاصل نہیں ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عظیم احسان و صلہ رحمی کا اجر محفوظ ہے۔
حوالہ جات
شرح المجلة - اللبناني(320/4)
قال في الفتاوى الخيرية قول علمائنا: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لها شيء ثم اجتمع لها قال يكون كله للأب إذا كان الابن في عیاله، هو مشروط كما يعلم من عبارتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما، وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الأبن للأب وانظر إلى ما علاوا به المسألة من قولهم لأن الابن إذا كان في عيال ابيه يكون معيناً له فيما يصنع فمدار الحكم على ثبوت كونه معيناً له فيه۔ فاعلم۔
ردالمحتار علی الدر المختار(338/3)
ما يقع كثيرًا في الفلاحين ونحوهم: أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة، ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء ونحو ذلك ... وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها، مع كون التركة كلها عروضًا لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أنها ليست شركة مفاوضة، خلافًا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له، بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.
بدائع الصنائع(65/6)
وأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعًا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، ولم يوجد.
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق(254/4)
لأن الربح لا يستحق إلا بالعمل كالمضارب أو بالمال كرب المال أو بالضمان كالاستاذ الذي يتقبل العمل من الناس ويلقيه على التلميذ بأقل مما أخذ فيطيب له الفضل بالضمان ولا يستحق بغيرها..
شرح المجلہ لسلیم رستم باز: ( 377/1)
رقم المادة866:اذا وهب شخص شيئا لأصوله وفروعه أو لأخيه أو لأخته أو لاولادهما أو لأخ وأخت أبيه وأمه فليس له الرجوع بعد الهبة.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10/ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


