| 92268 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میں نے 2017 میں ایک پلاٹ دیکھا جس کی قیمت 17,50,000 روپے تھی، لیکن میرے پاس پیسے کم تھے۔ اس پلاٹ کا ذکر میں نے اپنی والدہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ تم یہ پلاٹ لے لو۔ انہوں نے کراچی میں ایک پلاٹ جو کہ میرے والد صاحب نے خریدا تھا (ان کا انتقال 2015 میں ہو گیا تھا)بھائی سے کہہ کر فروخت کروایا، جس کی کل رقم 14,15,000 روپے بنی، اور وہ رقم مجھے بھیج دی گئی۔ باقی پیسے میں نے ملاکر پلاٹ خرید لیا جو کہ اب میرے نام پر ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں وہ رقم، جو مجھے دی گئی تھی واپس لوٹانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ وہ میری والدہ اور تمام بہن بھائیوں کا مشترکہ حق تھا ۔ کیا میں آج جو خریدا گیا پلاٹ ہے اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے رقم واپس کروں گا یا پھر اصل رقم یعنی 14,15,000 روپے ہی لوٹاؤں گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیا جائے، اتنی ہی مقدار قرض دار پر واپس کرنا لازم ہے، چاہے کتنے عرصے بعد ہی واپسی کیوں نہ ہو، کیونکہ قرض میں دی گئی رقم کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے۔چنانچہ شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ ’’الدیون تقضیٰ بأمثالها‘‘ یعنی قرضوں کی واپسی ان قرضوں کے مثل (برابر) سے ہی ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں مدیون کے ذمہ صرف14،15000روپے واجب الاداء ہیں۔
مگر واضح رہے کہ یہ حکم تب ہے جب آپ نے یہ پلاٹ صرف اپنے لیے ہی خریدا ہو ، اور خریدتے وقت آپ کا کھانا پینا اور حساب کتاب اپنے بھائیوں سے الگ ہو،اگر ایسا نہیں تھا ، اور آپ سب ساتھ رہتے تھے ،یا ایسے مالی معاملات کی حد تک شرکت تھی ، اور آپ کو رقم سب بھائیوں کے لئے پلاٹ خریدنے کے لئے دی گئی تھی ، توایسی صورت میں آپ پلاٹ کی موجودہ قیمت کے حساب سے بھائی بہنوں کے حصے دے کر اس پورے پلاٹ کے مالک بن سکیں گے ،وہ بھی تب جبکہ تمام ورثاء یہ پلاٹ آپ کی ملکیت میں دینے کے لیے رضامند ہوں ۔
حوالہ جات
الدر المختار: (868/3، ط: سعید)
الدیون تُقضی بأمثالہا۔
بحوث فی قضایا معاصرۃ: (ص: 174، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
والذي یتحقق في النظر في دلائل القرآن والسنۃ ومشاہدۃ معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ۔
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


