| 92168 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں جن کمپنیوں کے اکاؤنٹس سنبھالتا ہوں، وہ بنیادی طور پر برطانیہ (UK) میں واقع بارز اور پبز (Bars & Pubs) ہیں، جن کی کل فروخت اور آمدن کا بیشتر یا مکمل حصہ شراب اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی براہِ راست فروخت پر مشتمل ہوتا ہے۔ہمارا ان پبز یا بارز کے ساتھ براہِ راست کوئی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ ان کا معاہدہ برطانیہ کی ایک درمیانی اکاؤنٹنگ فرم کے ساتھ ہے، جس نے یہ کام آگے ہماری مقامی کمپنی کو آؤٹ سورس (Outsource) کیا ہوا ہے۔ میں اور میرے ساتھی اپنی کمپنی کے ذریعے ان تمام بارز اور پبز کی روزمرہ کی سیلز، مالیاتی ٹرانزیکشنز، حساب کتاب، ٹیکس اور بک کیپنگ (Bookkeeping) کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس کام کے بدلے ہماری کمپنی اس درمیانی اکاؤنٹنگ فرم سے گھنٹوں (Hourly Basis) کے حساب سے رقم وصول کرتی ہے، اور اسی آمدن میں سے ہمیں ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ البتہ ہماری فرم کے تقریباً 90 فیصد کلائنٹس حلال کاروبار سے متعلق ہیں، اور مذکورہ بارز اور پبز کا کام ہماری فرم کے کل کام کا صرف ایک حصہ ہے۔ اور تنخواہ بھی مجموعی آمدنی سے ملتی ہو۔لہٰذا براہِ کرم واضح فرمائیں کہ میرا مذکورہ بارز اور پبز کے اکاؤنٹس، بک کیپنگ، ٹیکس اور مالیاتی معاملات کا کام کرنا، اور اس کام کے عوض اپنی کمپنی سے تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اکاؤنٹنگ کا بنیادی مقصد عقود اور مالیاتی معاملات مکمل ہونے کے بعد ان کا ریکارڈ محفوظ رکھنا اور آئندہ کے انتظامی و مالی فیصلوں کے لیے بصیرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے کام کرنےکی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ کہ اگر یہ خدمات عین حرام کام کےدوران انجام دی جائیں یا اس کی اعانت کی نیت یا الفاظ میں صراحت موجود ہو یا حرام کام کی تشہیر و ترغیب کا ذریعہ بنے، تو ایسا کرنا بالاتفاق ناجائز اور ممنوع ہوگا۔ دوسری صورت یہ کہ اگر مالیاتی معاملات اور سودا مکمل ہوچکا ہو اور بعدمیں صرف ان کے حسابات اور ریکارڈنگ کی جائے، تو یہ خالص حساب کتاب ہونے کی وجہ سے بنیادی طور پر جائز ہوگا۔
غیر مسلم ممالک میں شراب فروشی قانوناًتو اگرچہ ممنوع نہیں، لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو تمام برائیوں کی جڑ (ام الخبائث) قرار دیتے ہوئے اس کے براہِ راست لین دین، تیاری اور فروخت کو حرام قرار دیاہے۔تاہم چونکہ سودا مکمل ہونے کے بعد کا حساب کتاب شراب فروشی کے اصل فعلِ معصیت سے بالواسطہ (Indirect) تعلق رکھتا ہے بلاواسطہ نہیں، اس لیے اگر خدمات کا معاہدہ براہِ راست کسی بار یا پب (Bars & Pubs) سے نہ ہو اوریہ کام اس کےلیے تشہیر یا ترغیب کا باعث بھی نہ بنے، نہ تو یہ سودے کے دوران ہو اور نہ ہی ان کے وینیو پر بیٹھ کر خدمات سرانجام دی جائیں اور تنخواہ کا تمام تر انحصار بھی صرف شراب کی آمدن پر نہ ہو، تو ناپسندیدگی کے ساتھ ایسے مالیاتی امور سنبھالنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اس کے باوجودبھی ایک مسلمان کی دینی حمیت اور تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس سے بچے۔ اگر ایسے کسی کام پر مجبور ہو تو ناپسندیدگی کے ساتھ کرلے اور استغفار بھی کرتا رہے۔
حوالہ جات
سنن النسائى الصغرى - 5682
أخبرنا سويد ، قال : أنبأنا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن أبيه، قال : سمعت عثمان رضي الله عنه، يقول: " اجتنبوا الخمر ، فإنها أم الخبائث …
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق(2/159)
ولأبي حنيفة – رحمه الله – أن أهل الذمة لا يلتزمون أحكامنا في الديانات وفيما يعتقدون خلافه من المعاملات، ولهذا لا نمنعهم من شرب الخمر وأكل الخنزير وبيعهما ..
شرح السیر الکبیر للسرخسی)1/43)
قال: ولا يجاورنهم الخنازير. ومعناه أنهم يمنعون أهل الذمة من إظهار الخمور والخنازير وبيعها في أمصار المسلمين لأن ذلك معصية، ولا يتمكنون من إظهارها، ولكنهم لا يمنعون من أن يفعلوا ذلك في بيوتهم وكنائسهم التي وقع الصلح عليها، لأن هذا ليس بأشد من شركهم وعبادتهم غير الله. ولا يمنعون من ذلك في بيوتهم.
إعلاء السنن - التهانوي(384/12)
باب هل يعشر الخمر والخنزيز إذا مر بهما الذمي أو الحربي على العاشر
قوله : " حدثنا عبد الرحمن إلخ … وفى الأثر دليل على أن لا يؤخذ العشر من عين الخمر والخنزير، بل يؤخذ من أثمانها . قال أبو عبيد : يريد أن المسلمين كانوا يأخذون من أهل الذمة الخمر والخنزير من جزية رؤوسهم، وخراج أرضيهم بقيمتها ثم يتولى المسلمون بيعها فهذا الذى أنكره بلال ونهى عنه عمر ثم رخص لهم أن يأخذوا ذلك من أثمانها إذا كان أهل الذمة المتولين لبيعهما لأن الخمر والخنزير مال من أموال أهل الذمة ولا تكون مالا للمسلمين ومما يبين ذلك حديث لعمر آخر …
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص340):
العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى، فإن سقي الخمر أو تقديمها إلى من يشربها حرام بنص صريح، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


