| 92144 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکا جس کی عمر 17 سال ہے اور داڑھی کا کوئی بال چہرے پر نہیں ہے کیا اس کی ران پر سر رکھ کسی دوسرے لڑکے کا سونا یا بیٹھنا جائز ہے؟
نوٹ: لڑکے کی شکل بچوں کے مشابہ ہے اور چہرے پر کوئی بال نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ ران ستر میں داخل ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے کسی دوسرے کی ران کو بغیر کسی حائل کے چھونا شرعاً جائز نہیں۔ اگر درمیان میں کوئی حائل (جیسے کپڑا وغیرہ) موجود ہو لیکن اس کے باوجود فتنے یا شہوت کا اندیشہ ہو، تب بھی چھونا جائز نہیں ۔
چونکہ ، سترہ سالہ بے ریش لڑکے کی ران پر سر رکھ کر سونا فتنے اورنا جائز قربت کا باعث ہو سکتا ہے، لہٰذا یہ عمل ناجائز ہے۔ اس قسم کے تمام افعال سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
حوالہ جات
(الفتاوى الهندية:5/ 328)
"وما حل النظر إليه حل مسه ونظره وغمزه من غير حائل ولكن إنما يباح النظر إذا كان يأمن على نفسه الشهوة. فأما إذا كان يخاف على نفسه الشهوة، فلا يحل له النظر. وكذلك المس إنما يباح له إذا أمن على نفسه وعليها الشهوة، وأما إذا خاف على نفسه أو عليها الشهوة فلا يحل المس له ...
(مرقاۃ المفاتیح (2051/5
يحرم النظر إلى الأمرد إذا كان حسن الصورة أمن من الفتنة أم لا، هذا هو المذهب الصحيح المختار فإنه يشتهى وصورته في الجمال كصورة المرأة بل ربما كان كثير منهم عند المحققين نص عليه الشافعي وحذاق أصحابه وذلك ; لأنه في معنى المرأة أحسن صورة من كثير من النساء بل هم بالتحريم أولى لما يتمكن في حقهم من طرق الشر ما لا يتمكن من مثله في حق المرأة اه.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
13/ ربیع الثانی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


