03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریئل اسٹیٹ ڈیلنگ میں ڈیلر کے مارجن کا شرعی حکم
92196خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے شہر بہاولپور اور پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ڈیلروں کے درمیان خریدو فروخت کا درج ذیل طریقہ رائج ہے: ​1. مارکیٹ کے عمومی عرف کے مطابق عام طور پر ڈیلروں کے پاس مالک کی طرف سے کوئی تحریری پاور آف اٹارنی نہیں ہوتی۔ ​ مالک مارکیٹ کے متعدد ڈیلروں کو زبانی طور پر کہہ دیتا ہے  کہ میرا یہ پلاٹ بیچ دو۔ ڈیلر شرعاً و قانوناً مالک کا بااختیار وکیل نہیں ہوتا بلکہ محض ایک سہولت کار ہوتا ہے۔ ​2. ​مارکیٹ میں جسے ٹوکن کہا جاتا ہے، وہ پچاس ہزار یاایک لاکھ  روپے کی چھوٹی رقم ہوتی ہے جو آن لائن بینک یا ایزی پیسہ کے ذریعے بھیجی جاتی ہے۔اس کی کوئی تحریری  کاروائی  نہیں ہوتی ، صرف زبانی يا واٹس ایپ پر بات ہوتی ہے اور اسی رقم کے ٹرانسفر کو مارکیٹ میں ڈیل لاک ہونا  سمجھا جاتا ہے۔ ​3.پہلےمرحلے  میں درمیانہ ڈیلر سیلر کےDealer Aسے پلاٹ کی معلومات لیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ Dealer A یہ پلاٹ ایک کروڑ روپے میں دے دے گا۔ دوسرے مرحلے میں درمیانہ ڈیلر اس انوینٹری پر محنت کرتا ہے، دیگر ڈیلروں کے پاس جا کر خریدار تلاش کرتا ہے اورقیمت بڑھا کر ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے بتاتا ہے۔ تیسرےمرحلے میں جب خریدار کا    ڈیلرایک کروڑ پانچ  لاکھ کی آفر دیتا ہےتو درمیانہ ڈیلر فوری طور پر اپنے پاس سے 50 ہزار یا 1 لاکھ روپے کا آن لائن ٹوکن سیلر کے Dealer Aکو بھیج کر ڈیل ایک کروڑ میں فائنل سمجھ لیتا ہے۔حالانکہ Dealer A کے پاس مالک کی طرف سے ٹوکن لینے یا ڈیل فائنل کرنے کا تحریری اختیار نہیں ہوتا۔چوتھے مرحلے میں درمیانہ ڈیلر خریدار کےDealer B سے ایک کروڑ پانچ لاکھ کے حساب سے ٹوکن رقم وصول کر لیتا ہے اور درمیان کا 5 لاکھ روپے کا مارجن خود رکھتا ہے۔

​شرعی سوالات:1۔ ​ کیا سیلر کے ایسے Dealer A کو، جس کے پاس مالک کا باقاعدہ اختیار نہ ہو، صرف 50 ہزار یا 1 لاکھ روپے کا آن لائن ٹوکن بھیجنے سے شرعاً خرید و فروخت کا سودا پکا ہو جاتا ہے؟ 2۔ ​ درمیانہ ڈیلر جو محنت کر کے خریدار تلاش کرتا ہے، اس محنت کے بدلے خریدنے اور بیچنے والے کے ریٹ کے درمیان جو 5 لاکھ روپے کا مارجن خود رکھتا ہے، کیا وہ فقہ حنفی کی رو سے حلال ہے یا  فاسد معاملے کی وجہ سے نا جائز ہے ؟3۔ درمیانے ڈیلر کا خود مالک بنے بغیر صرف ایک ڈیلر کو پچاس  ہزار ٹوکن دے کر آگے پانچ لاکھ روپے زائد قیمت پر ڈیل کرنا کیا بیع قبل القبض یابیع ما لا یملک کے زمرے میں آتا ہے؟

تنقیح : سائل نے بتایا کہ سیلر   پہلے ڈیلر  کو کہتا ہے :" میر ایہ پلاٹ بیچ دو "کمیشن ایک فیصد طے ہوتا ہے ۔بائع اور خریدار کے درمیان  تمام ڈیلر  مل کر اپنا  متعین کردہ کمیشن لیتے ہیں ۔ سیلر اور ڈیلر کے درمیان   کوئی دستاویزی کاروائی نہیں ہوتی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1 ۔ڈیلر کی حیثیت دلال کی ہے، اور دلالی کاکام بائع اور مشتری کے درمیان بیع کا معاملہ کراناہوتاہے۔سیلر اور کلائنٹ کے درمیان بروکر بذاتِ خود خرید وفروخت نہیں کرتے، بلکہ  بیع کروانے پر اپنا کمیشن لیتے ہیں۔ لہذا  ڈیلرز اگر بائع اور مشتری کی رضامندی سےاپنی خدمات اور سروسزکے عوض  کمیشن لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ نیز ڈیلروں کو چاہیےکہ وہ کسٹمر ز کو مارکیٹ ریٹ پر پلاٹ دلوائیں ۔محض ڈیلروں کی کثرت کی وجہ سےقیمت کا بڑھانا اسلامی تعلیمات کے متصادم رویہ ہے ۔نیز کمیشن فیصدی  یا     لم سم متعین کیاجائے ،بصورت ِدیگر معاملہ درست نہیں ہوگا۔

2۔درمیانہ ڈیلر اگر  اپنی خدمات کی اجرت بائع  اور مشتری کی باہمی  رضامندی سے لیتاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔تاہم  بائع اور مشتری کےعلم میں لائے بغیر  کمیشن لینا جا ئز نہیں ہوگا۔

3۔ڈیلرز اپنے درمیان  بیع نہیں کرتے ۔بلکہ وہ تو معاملہ کرانے میں سہولت کار ہوتے ہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں  بیع قبل القبض  لازم نہیں آتی ۔ تاہم اس  کےلیے ضروری ہے کہ وہ خریدوفروخت  کی تعبیر استعمال نہ کریں، ورنہ بیع قبل القبض بلکہ بیع معدوم کی خرابی بھی پیش آسکتی ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (5/ 136):

 (قوله: ورجح في البحر الإطلاق) حيث قال: وأما أجرة السمسار والدلال فقال الشارح الزيلعي: إن كانت مشروطة في العقد تضم، وإلا فأكثرهم على عدم الضم في الأول، ولا تضم أجرة الدلال بالإجماع اهـ. وهو تسامح فإن أجرة الأول تضم في ظاهر الرواية والتفصيل المذكور قويلة، وفي الدلال قيل لا تضم والمرجع العرف كذا في فتح القدير اهـ.

العقود الدرية  فی تنقیح الفتاوی حامدیۃ:((1/247

"الدلال إذا باع العين بنفسه، ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة، وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع. ثم قال: ولو سعى الدلال بينهما، وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف، إن كانت الدلالة على البائع فعليه، وإن كانت على المشتري فعليه، وإن كانت عليهما فعليهما."

(حاشیۃ ابن عابدین :(4/560

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية. وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

فتاوى الشبكة الإسلامية (12/ 4283 بترقيم الشاملة آليا):

أما بعد فهذا الشخص يسمى السمسار -الدلال- وهو: (من يقوم بالتوسط بين البائع والمشتري لإمضاء البيع) فهو يدل المشتري على السلع، ويدل البائع على الأثمان، ولا حرج أن يأخذ عمولة من الطرفين أو أحدهما، حسب العرف أو الاتفاق مع البائع والمشتري، ولا يضر كونه وكيلاً للمشتري في عقد البيع.

فتاوى دار الإفتاء المصرية (9/ 382 بترقيم الشاملة آليا):

السؤال

للسماسرة نشاط كبير فى التجارة، فهل عملهم حلال، وما حكم المال الذى يكسبونه من ذلك؟

الجواب

السمسار هو الوسيط الذى لم يأخذ صفة الوكيل الشرعى، ولا يفيد كلامه مع الناس تعاقدا شرعيا ملزما، لأنه لا يملك السلعة التى يتوسط فى بيعها أو شرائها، وما يأخذه من الناس فى سبيل إتمام الصفقة إن كان بسخاء نفس فلا مانع منه، وإلا فهو سحت. وقد يحكم له بأجر المثل على العمل الذى أتمه.

لكن إن أخذ صفة الوكيل، بأن قال له شخص: اشتر لى هذه السلعة، وسأعطيك كذا فى مقابل تعبك وعملك فلا حرمة فى العمل ولا فى الكسب.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 63):

مطلب في أجرة الدلال( تتمة)

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  13/ربیع الثانی  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب