03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
هبة الأولاد کا حکم
92154ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

محترم مفتیان کرام! گزارش ہے کہ درج ذیل معاملے میں قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔:

میرے والد محترم نے اپنی وفات سے تقریبا ایک سال قبل، 2025ء میں ایک تحریری وصیت کی، جس میں ایک ایسے مکان کو بھی اپنے ترکہ میں شامل کرنے کا ذکر فرمایا، جو بظاہر دستیاب سرکاری و دیگر دستاویزات کے مطابق نہ وفات کے وقت ان کی ملکیت تھا اور نہ اس سے پہلے کبھی ان کے نام رہا، بلکہ ابتدا ہی سے میرے (بیٹا، حافظ ارشد محمود) نام رجسٹر ڈ تھا۔ اس مکان کے پلاٹ کی خرید اور تعمیر کے بیشتر اخراجات بھی میری اپنی رقم سے ادا ہوئے۔

مکان کی خرید و تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی رقم ایک ایسی زمین کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی جو تقریبا بیالیس سال قبل، 1984ء میں، میرے والد صاحب نے مجھے ہبہ کی تھی۔ اس زمین کی رجسٹری و انتقال بھی ابتداہی سے میرے نام تھا۔ بعد ازاں زمین میرے قبضہ و تصرف میں دی گئی، میں نے اسے اپنی ملکیت کے طور پر 2015 ء میں فروخت کر کے اس کی رقم اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں وصول کی۔ اسی رقم سے بعد میں مذکورہ مکان کا پلاٹ خریدا اور مکان تعمیر کیا۔

اس طرح میرے موقف کے مطابق ملکیت کا تسلسل، زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم، اس رقم سے خریدا گیا پلاٹ اور تعمیر شدہ مکان کی صورت میں ابتدا سے میرے نام تھا اور تاحال ہے۔ چونکہ والد صاحب نے مجھے اپنی اس تحریری وصیت میں وصی مقرر کیا تھا، اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کے شرعی حکم کی مکمل وضاحت معلوم ہو جائے، تاکہ وصیت پر قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے مطابق عمل کیا جاسکے اور کسی وارث کی حق تلفی نہ ہو۔

1۔ 1984ء میں زمین کا ہبہ اور اس کا پس منظر

1984ء میں میرے دادا جان کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب نے اپنی رضامندی اور اختیار سے موروثی زمین میں سے اپنا حصہ براہ راست اپنے بجائے مجھے ، حافظ ارشد محمود، کو ہبہ کر دیا۔ اس زمین کی رجسٹری و انتقال ابتداہی سے میرے نام کر دیا گیا۔ 1984ء سے 1996ء تک تقریبا بارہ سال میرے تایا جان، جو آبائی گاؤں ایسر کمبوہ، دیپالپور میں مقیم تھے ، میری زمین کی بھی نگران رہے اور زمین ٹھیکے پر رہی۔ 1996ء سے 2010ء تک تقریبا چودہ سال میرے والد صاحب، جو اس وقت ساہیوال میں رہائش پذیر تھے جبکہ میں اس زمانے میں فیصل آباد میں زیر تعلیم تھا، میری اور میرے تایا جان کے تین بچوں ، یعنی کل چار حصوں کی مشترکہ زمین کی نگران رہے اور زمین بدستور ٹھیکے پر رہی۔ اس عرصے میں متعدد مواقع پر میں اور والد صاحب اکٹھے زمین پر جاتے رہے۔ والد صاحب موقع پر میری اور میرے تایا جان کے بچوں کی زمین کی حدود کی نشاندہی کرتے اور واضح طور پر بتاتے کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک فلاں حصہ میری ملکیت ہے اور فلاں حصہ میرے تایا جان کے بچوں کا ہے۔ زمین کے دیگر معاملات میں بھی وہ ہم چاروں کو مالک قرار دیتے رہے۔

2۔ زمین کی تقسیم، تعیین حصص اور قبضہ

2010ء میں مشترکہ زمین کے ایک شریک کا حصہ ٹھیکیدار نے خرید لیا اور بعد ازاں باقی تین حصوں، یعنی میرے اور میرے تایا جان کی دو بیٹیوں کے حصوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس وقت والد صاحب نے ضروری سمجھا کہ کسی بھی طرح زمین واگزار کرانے کے بعد ہر صاحب حق کی زمین اس کے حوالے کر دی جائے۔ اس صورت حال میں والد صاحب کی ہدایت پر 2012ء میں میں نے زمین واگزار کرانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی۔ زمینوں، پٹوار خانوں اور دیپالپور کچہریوں کے متعدد چکر لگانے اور متعلقہ مراحل سے گزرنے کے بعد میں تمام حصص کی باقاعدہ ونڈہ اور تقسیم کرانے میں کامیاب ہوا۔ جس میں زمینوں کا موقعہ پر باقاعدہ تجزیہ کرنے کے بعد ٹھیکیدار سے یہ طے پایا کہ سڑک کے قریب وہی حصہ اس کے پاس رہے جس میں قبضہ کے دوران وہ ٹیوب ویل لگا چکا تھا، جبکہ باقی سڑک والی زمین میرے اور میرے تایا جان کی بیٹیوں کے حصوں کے لیے چھوڑ دی جائے۔ حسب معمول اس حتمی تقسیم کے لئے بھی والد صاحب خود میرے ساتھ زمین پر گئے۔ انہوں نے موقع پر مختلف حصوں کی الگ الگ نشاندہی کی اور واضح کیا کہ کون سی زمین میری ہے اور کون ساحصہ کس کا ہے۔ اس کی توثیق اور باقاعدہ تفویض کے لیے والد صاحب نے ایک تحریر تیار کی، جس میں ہر شریک کے حصے کی تعیین کی گئی اور میرے حصے کو بھی میرے نام سے واضح طور پر درج کیا گیا۔ سڑک اور کھال کے لیے چھوڑی جانے والی زمین اور ٹھیکیدار کے ساتھ طے شدہ امور بھی اس تحریر میں درج کیے گئے۔ اس تحریر پر والد صاحب نے خود دستخط کیے، مجھ سے دستخط لیے اور ٹھیکیدار سے بھی دستخط کروائے۔ اس کے بعد متعلقہ حصہ داروں نے طے شدہ تقسیم کے مطابق اپنے اپنے حصوں پر قبضہ و تصرف کیا اور میں نے بھی اپنی زمین پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اسے اپنی ملکیت کے طور پر استعمال کیا۔ یہ تحریر ، جو 2013ء کی تقسیم / ونڈہ اور تعیین حصص و قبضہ سے متعلق ہے، اس استفتاء کے ساتھ (دستاویز نمبر 01)، بطور ثبوت منسلک ہے۔ جو عرف عام کے مطابق والد صاحب کی طرف سے برضاور غبت قبضہ دینے اور میری اور ٹھیکیدار کی طرف سے قبضہ وصول کرنے کے واضح اقرار کی حیثیت رکھتی ہے۔

3۔ تقریباً اکتالیس سالہ مسلسل عملی، زبانی اور تحریری تائید

1984ء سے 2025ء تک تقریبا اکتالیس سال کے عرصے میں والد صاحب نے میری زمین کی ملکیت، قبضہ اور تصرف کو مسلسل تسلیم کیا۔ اس عرصے میں انہوں نے :

  • نہ زمین کو عارضی یا وقتی طور پر میری ملکیت قرار دیا،
  • نہ اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا،
  • نہ ہبہ منسوخ کرنے کا دعوی کیا،
  • اور نہ اسے اپنی ملکیت قرار دیا۔ بلکہ زمین کی نگرانی، مختلف مواقع پر اس کی حدود کی نشاندہی، تقسیم و قبضہ ، زمین کی فروخت اور اس کے بعد حاصل شدہ رقم کے معاملے میں بھی والد صاحب کا طرز عمل یہی رہا کہ زمین میری ملکیت ہے۔

4۔ زمین کی فروخت اور حاصل شدہ رقم کا بینک ریکارڈ

2015ء میں میں نے مذکورہ زمین فروخت کر دی۔ اس وقت بھی والد صاحب میرے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اپنے لیے واپس لینے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، بلکہ خریدار اور مجھے ہدایت کی کہ رقم براہ راست میرے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے۔ چنانچہ مذکورہ رقم میرے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، جس کا باقاعدہ بینک ریکارڈ موجود ہے۔ اس وقت والد صاحب کا ایک ذاتی اکاؤنٹ اور ایک میرے ساتھ مشتر کہ اکاؤنٹ بھی موجود تھا، لیکن مذکورہ رقم ان میں جمع نہیں کرائی گئی۔ مزید بر آں، جب والد صاحب نے اپنا ذاتی ساہیوال والا مکان فروخت کیا تو اس وقت بھی، اگرچہ میں ان کے ساتھ تھا، لیکن اس مرتبہ انہوں نے یہ رقم اپنے ہی اکاؤنٹ میں جمع کرائی اور واضح طور پر فرمایا: " یہ میری ملکیت ہے۔ " اس سے یہ فرق بھی واضح ہوتا ہے کہ والد صاحب نے اپنی ملکیت کی رقم اور میری ملکیت کی رقم کو الگ سمجھا اور الگ رکھنے کا اہتمام کیا اور مذکورہ رقم کو برضاور غبت میری ملکیت قرار دیا۔

5۔ پلاٹ کی خرید ، مکان کی تعمیر اور ملکیتی دستاویزات

زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے 2015ء میں میں نے مکان کا پلاٹ خریدا اور اس پر مکان تعمیر کیا۔ پلاٹ کی مکمل قیمت اور مکان کی تعمیر کے بیشتر اخراجات میرے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے ادا ہوئے، جن کے بینک ریکارڈ اور چیک نمبرز موجود ہیں۔ تعمیر کے آخری مرحلے میں ، جب میری رقم ختم ہو گئی، والد صاحب نے دوسری منزل کی تکمیل کے لیے اپنی طرف سے کچھ رقم ادا کی۔ لیکن والد صاحب نے اپنی زندگی میں نہ اس رقم کو مجھ پر قرض قرار دیا، نہ اس کی واپسی کا مطالبہ کیا، اور نہ اپنی سابقہ یا آخری وصیت میں اس رقم کو قرض کے طور پر ذکر فرمایا۔ مکان کی رجسٹری میرے نام ہوئی۔ اس وقت میں ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھا، اس لیے رجسٹری سے متعلق امور والد صاحب نے میری غیر موجودگی میں مکمل کروائے۔ بعد ازاں انہوں نے مکان کی فرد بھی نکلوائی اور رجسٹری کے ساتھ مجھے بذریعہ ڈاک ارسال کر دی، تا کہ میرے پاس ملکیت کی مکمل دستاویزات موجود ہوں۔ اس وقت یا اس کے بعد بھی والد صاحب نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ مکان عارضی طور پر میرے نام ہے یا اصل ملکیت ان کی ہے۔

6۔ والد صاحب کے زبانی و تحریری اقرارات

مکان مکمل ہونے کے بعد والد صاحب نے تمام بہنوں کو جمع کر کے واضح طور پر فرمایا: " یہ مکان ارشد کا ہے"۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دیگر جائیداد ان کی اپنی ملکیت ہے اور ان کی وفات کے بعد وہ شرعی طریقے سے تقسیم ہو گی۔ والد صاحب نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا کہ خاندان کے بعض افراد پہلے زمین ارشد کو دینے پر اعتراض کرتے رہے تھے اور اب مکان ارشد کے نام ہونے پر بھی اعتراض کر رہے ہیں، اس وقت بھی والد صاحب نے اس مکان کو وقتی طور پر میری ملکیت قرار نہیں دیا، بلکہ واضح الفاظ میں میری ملکیت تسلیم کیا۔ اس امر کو واضح کرنے کیلئے والد صاحب نے ایک تحریر لکھی جس میں مذکورہ مکان کو میری ملکیت قرار دیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ ان کے بعد یہ مکان بہن بھائیوں کے باہمی اجتماع اور ملاقات کا مرکز رہے۔ اسی طرح والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد 2020ء میں بھی والد صاحب نے تمام بہن بھائیوں کے سامنے ایک مرتبہ پھر فرمایا: " یہ مکان ارشد کا ہے"۔ اس موقع پر انہوں نے دو پلاٹ، تین بینکوں میں موجو در قوم ، گاڑی اور دیگر زیر استعمال اموال کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کی وفات کے بعد شرعی وراثت کے مطابق تقسیم ہوں گے۔

7۔ والد صاحب کی مکان میں رہائش اور کرایہ وصول کرنے کا مسئلہ

والد صاحب اپنی زندگی کے آخری عرصے تک اسی مکان میں مقیم رہے اور مکان کا ایک حصہ کرائے پر دے کر اس کا کرایہ بھی وصول کرتے رہے۔ بڑی بہن کی طرف سے تیار کردہ ایک استفتاء میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ والد صاحب مکان میں رہتے رہے اور اس کا کرایہ وصول کرتے رہے ، اس لیے مکان کا قبضہ میرے حوالے نہیں ہوا اور یوں ہبہ مکمل نہیں ہوا تھا ، مزید بر آں جب وصیت پر میں نے دستخط کئے تھے اس وقت مجھے والد صاحب سے وضاحت طلب کرنی چاہئے تھی وغیرہ۔ جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ اصل ہبہ مکان کا نہیں بلکہ زمین کا تھا اور دستخط اس لئے کئے کہ میں اس وصیت کے وصی ہونے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ اور زمین کا ہبہ تو اس وقت مکمل ہو گیا تھا جب والد صاحب کی ہدایت کے مطابق میرے حصے کی تعیین ہوئی، میں اور والد صاحب خود موقع پر گئے، میری زمین کی حدود کی نشاندہی کی، مجھے عر فا قبضہ و تصرف کا اختیار دیا، اس کے مطابق والد صاحب نے تقسیم کی تحریر تیار کی، اس پر دستخط کیے، اور میں نے بھی دستخط کئے۔ بعد ازاں میں نے اس ملکیتی اختیار کے تحت زمین فروخت کی ، اس کی رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں وصول کی اور اسی رقم سے پلاٹ خرید کر مکان تعمیر کیا۔ مکان تعمیر ہونے کے بعد میں اور میری اہلیہ و اولاد اپنے ذاتی سامان کے ساتھ اس مکان میں اپنے مستقل گھر اور مستقل ٹھکانے کے طور پر منتقل ہوئے، اگر چہ ملازمت کے تقاضوں کی وجہ سے دوسرے شہر میں عارضی رہائش اختیار کئے رکھی۔ والدین بھی میرے ساتھ اسی مکان میں رہائش پذیر رہے۔ اس سلسلے میں میں نے دو حلف نامے والد صاحب کے کہنے پر تیار کیے اور نادرا میں جمع کرانے کیلئے انہیں بھیجوا دئے۔ ایک میرے بارے میں تھا کہ میں نے مکان بحیثیت مالک خریدا اور اس میں مستقل رہائش اختیار کی، جبکہ دوسر اوالدین کی میرے ساتھ اسی مکان میں مستقل رہائش سے متعلق تھا۔ یہاں بھی والد صاحب نے یہ نہیں فرمایا کہ اس بات کا حلف نامہ بھجواؤ کہ یہ مکان وقتی یا عارضی طور پر تمہارے نام ہے۔

8۔ ملکیت واپس لینے یار قم کا مطالبہ نہ کرنا

والد صاحب نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اس بات کا نہ تو اظہار ، دعوی یا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی ایسی تحریر چھوڑی کہ :

  • هبه شده زمین عارضی یا وقتی طور پر مجھے دی گئی تھی ۔
  • زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم عارضی یا وقتی طور پر مجھے دی گئی تھی ۔
  • اس رقم سے خریدا گیا مکان عارضی یا وقتی طور پر مجھے دیا گیا تھا ۔
  • یا مکان کی تعمیر کے آخری مرحلے میں دی گئی رقم قرض کے طور پر مجھے دی گئی تھی ، لھذا اواپس کیا جائے وغیرہ۔

9۔ 2025ء کی آخری وصیت اور اس کے حالات

2025ء میں، اپنی وفات سے تقریباً ایک سال قبل، جب والد صاحب زیادہ بیمار رہنے لگے اور فیصل آباد میں ہماری بڑی ہمشیرہ صاحبہ کے گھر مقیم ہو گئے ، اسی دوران انہوں نے ایک تحریری وصیت کی جو کہ انکی آخری وصیت ثابت ہوئی۔ اس وصیت میں انہوں نے اپنی دیگر جائیداد کا بھی ذکر کیا، لیکن مذکورہ مکان کے بارے میں درج ذیل عبارت لکھی: "یہ مکان انتظامی معاملات میں سہولت اور آسانی کے لیے وقتی طور پر ارشد کے نام پر خریدا تھا جو کہ وراثت کی تقسیم کے وقت میری میراث میں شامل ہے۔ ” اسی وصیت میں والد صاحب نے مجھے وصی مقرر کیا۔ وصیت پر میرے دو بہنوئی اور ایک بڑے بہنوئی کے چھوٹے بھائی نے بطور گواہ دستخط کیے۔ بعد میں جب میں ان سے ملنے گیا تو والد صاحب نے مجھ سے بھی اس وصیت پر دستخط کروائے، تاکہ بطور وصی میں اس وصیت پر شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عمل کروں۔ اس وقت میرا مقصد ان دستخطوں کے ذریعے وصی ہونے کی ذمہ داری قبول کرنا تھا نہ کہ اپنی پہلے سے قائم ملکیت سے دستبردار ہونا، یا مکان والد صاحب کو ہبہ کرنا یا مکان کی ملکیت ان کی طرف منتقل کرنا۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں کبھی مکان کو اپنے نام منتقل کرانے کا مطالبہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی سابقہ طرزِ عمل کے دوران اسے میری وقتی ملکیت یا اپنی حقیقی ملکیت قرار دیا تھا ۔

شرعی سوالات

  1. زمین کے ہبہ ، قبضہ اور ملکیت کا حکم: مذکورہ تمام حالات و شواہد کی روشنی میں ، کیا 1984 ء میں والد صاحب کی طرف سے زمین کو میرے نام رجسٹری کرا کے ہبہ کرنا، حدود کی تعیین کرنا اور مجھے قبضہ و تصرف کا حق دینا، شرعاہبہ کی تکمیل اور میری ملکیت کے ثبوت کے لیے کافی تھا؟
  2. زمین کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کی ملکیت: اگر مذکورہ زمین شرعا میری ملکیت ثابت ہو تو کیا اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی از خود میری ملکیت شمار ہو گی ؟
  3. اس رقم سے خریدے گئے پلاٹ اور تعمیر شدہ مکان کی ملکیت: اگر زمین اور اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم شرعا میری ملکیت ثابت ہو تو کیا اس رقم سے خریدے گئے پلاٹ اور اس پر تعمیر شدہ مکان کی ملکیت بھی شرعاً میری ہو گی ؟ مزید یہ کہ مکان کی تعمیر کے آخری مرحلے میں والد صاحب کی طرف سے دی گئی رقم کا کیا شرعی حکم ہو گا؟
  4. اکتالیس سالہ مسلسل طرزِ عمل اور اقرارات کی شرعی حیثیت: کیا والد صاحب کا تقریبا اکتالیس سالہ مسلسل عملی، زبانی اور تحریری طرزِ عمل شرعا میرے حق ملکیت کے معتبر شواہد شمار ہوں گے ؟
  5. والد صاحب کا مکان میں رہنا اور کرایہ وصول کرنا: کیا والد صاحب کا اس مکان میں میرے ساتھ رہنا اور اس کے ایک حصے کا کرایہ وصول کرنا، میرے حق ملکیت یازمین کے سابقہ قبضے وہبہ کی تکمیل کے خلاف کوئی شرعی دلیل شمار ہو گا؟
  6. 2025ء کی آخری وصیت کی شرعی حیثیت: اگر مکان قانونا اور شرعا میری ملکیت تھا، تو آخری وصیت میں اسے والد صاحب کے ترکہ میں شامل کرنے کا ذکر شرعاً معتبر اور نافذ ہو گا یا نہیں ؟
  7. مجموعی حتمی حکم اور وصی کی ذمہ داری: کیا مذکورہ مکان شرعاً والد صاحب کا ترکہ ہے یا حافظ ارشد محمود کی ذاتی ملکیت؟ اور بطور وصی، مجھے اس معاملے میں شرعا کس طریقے سے عمل کرنا چاہیے ؟

موقف دیگر ورثاء و گواهان

بڑی بہن کی طرف سے پیش کیے گئے موقف میں بنیادی طور پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ والد صاحب مکان میں رہتے رہے اور اس کا کرایہ بھی وصول کرتے رہے، اس لیے مکان کا قبضہ مکمل طور پر میرے حوالے نہیں ہوا اور ہبہ مکمل نہ ہوا۔

استفتاء کے ساتھ منسلک معاون دستاویزات

دستاویز نمبر 01: 2013   ء کی تقسیم / ونڈہ، تعیین حصص اور قبضہ سے متعلق والد صاحب کے دستخط شدہ تحریر۔

دستاویز نمبر 02:      مکان کے پلاٹ کی رجسٹری میرے نام اور متعلقہ فرد۔

دستاویز نمبر 03:    والد صاحب کی سابقہ تحریر ، جس میں مکان کو میری ملکیت قرار دیا گیا تھا۔

دستاویز نمبر 04: مکان میں میری بحیثیت مالک رہائش اور میرے ساتھ والدین کی رہائش سے متعلق نادرا میں جمع شدہ حلف نامے۔

دستاویز نمبر 05:            میرے نام سے ادا شدہ پراپرٹی ٹیکس کی رسید۔

دستاویز نمبر 06:              2025ء کی آخری وصیت، جس میں والد صاحب نے مذکورہ مکان کو اپنے ترکہ میں شامل کرنے کا ذکر فرمایا۔

دستاویز نمبر07     :         بڑی بیٹی کی طرف سے تیار کردہ استفتاء جس میں انکا اور گواہان کا موقف انکی معلومات کے مطابق مذکور ہے۔

دیگر دستیاب شواہد زمین کی اصل رجسٹری / انتقال میرے نام ، زمین کی میرے ہاتھوں فروخت اور فروخت کی رقم کے میرے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں وصول ہونے کا ریکارڈ، پلاٹ کی خرید اور مکان کی تعمیر کے اخراجات کے بینک اسٹیٹمنٹس و چیک ریکارڈ، نیز دیگر متعلقہ دستاویزات، جو ضرورت کے وقت پیش کی جاسکتی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں :

۱۔ زمین کے ہبہ، قبضہ اور ملکیت کا حکم:

۱۹۸۴ء میں والد صاحب کی طرف سے اپنے اختیار و رضامندی سے موروثی زمین کی رجسٹری و انتقال بیٹے (حافظ ارشد محمود) کے نام منتقل کروانا، بعد ازاں ۲۰۱۲ء-۲۰۱۳ء میں باقاعدہ ونڈہ (تقسیم) کی تحریر تیار کر کے حدود کی تعیین فرمانا، اور بیٹے کو کامل عرفی و عملی قبضہ و تصرف کا اختیار دلا دینا—شریعت کی رو سے ہبہ کی تمامیت اور مکمل ملکیت کے ثبوت کے لیے شرعاً بالکلیہ کافی تھا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایجاب و قبول، انتقالِ کاغذات اور تخلية (قبضہ دینے) سے "ہبہ تام و کامل" ہو جاتا ہے۔

۲۔ زمین کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کی ملکیت:

جب ۱۹۸۴ء کی زمین شرعاً و قانوناً بالاستقلال بیٹے ہی کی ملکِ خالص ثابت ہے، تو ۲۰۱۵ء میں اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم بھی از خود اور بالاصالت بیٹے (حافظ ارشد محمود) ہی کی ذات کی ملکیت تھی۔ فقہی قاعدہ ہے کہ "المملوک یترتب علیہ آثارہ" جو چیز کسی کی ملک ہو، اس کا بدل اور ثمن بھی اسی کا ہوتا ہے۔ چونکہ وہ رقم بیٹے کی ملکیتی زمین کے بدلے میں ملی تھی اور والد صاحب کی ہدایت کے مطابق بیٹے کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، اس لیے وہ رقم شرعاً خالص بیٹے ہی کی ملکیت تھی۔

۳۔ خریدی گئی زمین، تعمیر شدہ مکان اور والد کی دی گئی رقم کا حکم:

  • پلاٹ اور مکان کی ملکیت: چونکہ یہ پلاٹ اور مکان بیٹے کی اپنی ذات کی ملکیتی رقم سے خریدا اور تعمیر کروایا گیا اور رجسٹری بھی بیٹے کے نام پر ہوئی، لہٰذا یہ مکان    بیٹے ہی کی ذاتی اور مستقل ملکیت ہے۔
  • تعمیر کے آخری مرحلے میں والد کی دی گئی رقم: مکان کی تعمیر کے آخری مرحلے میں والد صاحب نے جو رقم فراہم کی،  چونکہ انہوں نے اسے کبھی قرض قراردیا اور نہ  ہی اس کی واپسی کا مطالبہ  کیا تو بطورِ اعانت/تطوع (بیٹے کی مدد یا احسان) دی تھی، اس لیے وہ بیٹے پر والد کی طرف سے احسان و تبرع ہے۔

4۔          ۴۱ سالہ مسلسل طرزِ عمل اور اقرارات کی شرعی حیثیت:

والد صاحب کا تقریباً ۴۱ سال (۱۹۸۴ء تا ۲۰۲۵ء) تک مسلسل عملی، زبانی اور تحریری طرزِ عمل—مثلاً کبھی زمین یا رقم یا مکان کا دعویٰ نہ کرنا، حدود کی نشاندہی کرنا، اور تمام بہنوں و رشتہ داروں کے سامنے بارہا صریح الفاظ میں فرمانا کہ "یہ مکان ارشد کا ہے" شریعت کی رو سے حقِ ملکیت کا  معتبر  شرعی ثبوت و شاہد ہے۔ والد صاحب کے ان مسلسل اقرارات کے بعد اب اس ملکیت کا انکار شرعاً نا قابلِ سماعت ہے۔

۵۔ والد صاحب کا مکان میں رہنا اور کرایہ وصول کرنا:

والد صاحب کا اس مکان میں بیٹے کے ساتھ رہنا اور ایک حصے کا کرایہ وصول کرنا بیٹے کے حقِ ملکیت یا سابقہ ہبہ کے خلاف کوئی شرعی دلیل نہیں بن سکتا۔ اپنے ذاتی مکان میں والد محترم کو رہائش دینا یا کرایہ وصول کرنے کی اجازت دینا بیٹے کی طرف سے والد کے ساتھ حسنِ سلوک، خدمت، احسان اور عاریت (استعمال کی اجازت) کا حصہ تھا۔ بیٹے کے ذاتی مکان میں والد کے رہنے یا کرایہ وصول کرنے سے بیٹے کی ملکیت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی مکان والد کی ملکیت بنتا ہے۔

۶۔ ۲۰۲۵ء کی آخری وصیت کی شرعی حیثیت:

چونکہ یہ مکان قانوناً اور شرعاً بیٹے (حافظ ارشد محمود) ہی کی ذاتی ملکیت تھا، اس لیے ۲۰۲۵ء کی آخری وصیت میں والد صاحب کا اس مکان کو اپنے ترکے میں شامل کرنا شرعاً غیر معتبر اور غیر نافذ ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں وصیت صرف موصی (وصیت کرنے والے) کے اپنے مملوکہ ترکے میں ہی جاری ہو سکتی ہے۔ کسی دوسرے شخص (بیٹے) کی ذاتی ملکیت کے بارے میں وصیت کرنا شریعت کی رو سے "وصیت بملکِ غیر" ہے جو کہ باطل ہوتی ہے۔ نیز بیٹے کا بطورِ "وصی" اس تحریر پر دستخط کرنا محض وصی کی ذمہ داری قبول کرنا تھا، جس سے بیٹے کا اپنا ذاتی مکان والد کے ترکے میں منتقل نہیں ہوتا اور نہ اس کی ملکیت ساقط ہوتی ہے۔

۷۔ مجموعی حتمی حکم اور وصی کی ذمہ داری:

  1. حتمی شرعی فیصلہ: مذکورہ مکان شرعاً والد صاحب کا ترکہ نہیں ہے، بلکہ حافظ ارشد محمود کی ذاتی و مستقل ملکیت ہے۔ دیگر ورثاء (بہنوں اور بھائیوں) کا اس میں کوئی شرعی حق یا حصہ نہیں ہے۔
  2. بطورِ وصی ذمہ داری: بطورِ وصی حافظ ارشد محمود پر لازم ہے کہ والد صاحب کی چھوڑی ہوئی دیگر تمام واقعی جائیداد (مثلاً دو پلاٹ، تین بینکوں کی رقوم، گاڑی اور دیگر زیرِ استعمال اموال)—جو کہ والد کا اصل ترکہ ہے—کو شریعتِ مطہرہ کے اصولِ میراث کے مطابق تمام شرعی ورثاء (تمام بہنوں اور بھائیوں) میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں۔
حوالہ جات

«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (2/ 396):

«تنعقد الهبة والهدية والصدقة بالإيجاب والقبول وتتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية، فعلى هذا الوجه يكون الإيجاب والقبول هما ركن الهبة والصدقة والهدية كما أن الإيجاب والقبول هما ركن البيع والإجارة والعقود الأخرى»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 704):

«(والقاف القرابة، فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع)»

«تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار - ط الفكر» (7/ 350):

«قوله: (الخالية إلخ) صفة كاشفة، لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.»

«الفقه على المذاهب الأربعة» (3/ 287):

«ويشترط في الموصى به أن يكون في اختصاص الموصى فلا تصح الوصية بملك الغير»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 288):

«كذا في الخلاصة أيضا فأفاد أن غير المأكول لا يباح لهما إلا عند الاحتياج كما لا يخفى وأشار المؤلف إلى أن ما علم أنه وهب للصغير يكون ملكا له أما لو اتخذ الأب وليمة للختان فأهدى الناس هدايا ووضعوا بين يدي الولد فإن كانت الهبة تصلح للصبي مثل ثياب الصبيان أو شيء يستعمله الصبيان فالهدية للصبي وإن كانت غير تلك كالدراهم والدنانير والحيوان ومتاع البيت ينظر إلى المهدي»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

14/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب