| 92293 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کی منکوحہ بیوی بلا کسی عذرِ شرعی کے، شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے میکے چلی گئی۔ شوہر متعدد مرتبہ اسے واپس لانے کے لیے گیا، مگر اس نے واپس آنے سے انکار کر دیا، بلکہ اس کے میکے والوں نے شوہر کی توہین کی اور اس پر مختلف الزامات لگائے۔ شوہر نے کہا کہ میرے گاؤں کے لوگوں سے ان الزامات کے بارے میں تحقیق کر لی جائے۔ تحقیق کے بعد شوہر ان الزامات سے بری ثابت ہوا۔
اس کے باوجود عورت تقریباً چار سال تک شوہر کے پاس واپس نہیں آئی، نہ ہی اس نے اب تک مقدمہ ختم کیا ہے، بلکہ عدالت سے نفقہ وصول کر رہی ہے۔ شوہر کا کہنا ہے کہ مجھے ہر ماہ 3000 یا 5000 روپے جمع کروانے پڑتے ہیں، کیونکہ اگر رقم جمع نہ کرواؤں تو میرے وارنٹِ گرفتاری جاری ہو جاتے ہیں۔
شوہر کے اس عورت سے دو لڑکے بھی ہیں۔ ایک کی پیدائش 11/10/2011ء اور دوسرے کی پیدائش 25/03/2013ء ہے۔ اب وہ عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور بچوں کو شوہر کے حوالے کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس پر شوہر کا کہنا ہے کہ ’’میرے بچے میرے حوالے کر دو، پھر طلاق یا خلع کا معاملہ طے کر لو؛ اس سے پہلے میں تمہیں طلاق نہیں دے سکتا، جب تک میرے بچے مجھے نہیں مل جاتے۔‘‘
عورت کا کہنا ہے کہ ’’میں عدالت سے خرچہ وصول کرتی رہوں گی۔‘‘ بعد ازاں شوہر نے شرعی طور پر دوسرا نکاح بھی کر لیا۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
- اس عورت کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا وہ نفقہ کی مستحق ہے؟
- عدالت سے وصول کیا گیا نفقہ اس کے لیے حلال ہے یا نہیں؟
- پندرہ اور چودہ سال کے لڑکوں کی حضانت اور ولایت کا شرعی حق کس کو حاصل ہے؟
- شوہر کا یہ کہنا کہ ’’بچوں کو میرے حوالے کر دو، پھر طلاق یا خلع کا معاملہ طے کر لو‘‘ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
- عدالت کی طرف سے دی جانے والی رقم واپس کرنا اس عورت پر واجب ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ جب کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف شوہر کے گھر سے چلی جائے اور میکے میں بیٹھی رہے تو ایسی عورت ناشزہ شمار ہوگی اور اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوتا۔ ایسی عورت اس وقت تک نفقہ کی حق دار نہیں ہوگی جب تک شوہر کے گھر واپس نہ آ جائے یا شوہر کی اجازت حاصل نہ کر لے۔ لہٰذا اگر شوہر کا بیان واقعے کے مطابق ہے تو اس صورت میں بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہے۔
2۔ جب بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے گھر سے چلی جائے تو اس صورت میں اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوتا، جب تک کہ بیوی شوہر کے گھر واپس نہ لوٹ آئے۔ لہٰذا اس مدت کے دوران اگر بیوی عدالت کے ذریعے شوہر سے جبراً نفقہ وصول کر رہی ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہےاور بیوی کیلئے لینا حلال نہیں ہے۔
3۔ میاں بیوی کے درمیان اگر اختلاف کے سبب یا طلاق کی صورت میں علیحدگی واقع ہو جائے اور ایسی صورت میں بچے بھی موجود ہوں تو لڑکے کی حضانت کا حق سات سال کی عمر تک ماں کو حاصل ہے، اس کے بعد اسے باپ کے حوالے کر دیا جائے گا، اور لڑکی کی حضانت کا حق بلوغت کی عمر تک ماں کو حاصل ہے، اس کے بعد اسے باپ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ البتہ دورانِ حضانت بچوں کی پرورش اور نفقے کا خرچہ شوہر پر لازم ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ دونوں لڑکوں کی عمر سات سال سے زیادہ ہے، اس لیے ان کی پرورش کا حق شوہر کو حاصل ہے۔
4۔ اگر بچوں کی حضانت کا زمانہ گزر جانے کے باوجود بھی بیوی بچوں کو شوہر کے سپرد کرنے سے منع کر رہی ہو اور شوہر کو یہ خوف ہو کہ بیوی کے مطالبے پر طلاق دینے یا خلع لینے کے باوجود بیوی بچوں کو شوہر کے حوالے کرنے سے انکار نہ کر دے، تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے یہ شرط رکھنا کہ ’’پہلے بچوں کو میرے حوالے کر دو، اس کے بعد میں طلاق دوں گا‘‘، جائز ہے۔
5۔ جب بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر میکے چلی گئی تو اس کا نفقہ شوہر کے ذمے سے ساقط ہو گیا، جب تک کہ وہ واپس شوہر کے گھر نہ لوٹ آئے۔ لہٰذا اس دوران اس نے عدالت کے ذریعے جو خرچہ شوہر سے جبراً لیا ہے، اسے واپس کرنا ضروری ہے۔
البتہ اس دوران بیوی، بچوں پر بھی خرچ کرتی رہی ہے، جن کا نفقہ شوہر پر لازم تھا اگر وہ شوہر کے پاس ہوتے؛ لہٰذا اگر شوہر گزشتہ زمانے میں اس سے لیے گئے روپے معاف کر دے تو یہ ایک احسن اقدام ہوگا۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 576):
«و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (3/ 52):
«قال رحمه الله (لا ناشزة) أي لا تجب النفقة للناشزة، وهي الخارجة من بيت زوجها بغير إذنه المانعة نفسها منه بخلاف ما لو كانت مانعته في البيت ولم تمكنه من الوطء حيث لا تسقط النفقة به لقيام الاحتباس لأن الظاهر أنه يقدر على وطئها»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 42):
«وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك.
وأما الجارية فهي أحق بها حتى تحيض كذا ذكر في ظاهر الرواية وحكى هشام عن محمد حتى تبلغ أو تشتهي.»
فقہ البیوع علی المذاھب الاربعۃ،ج۲،ص۹۷۰۔
وإنه حرام للغاصب الانتفاع به، أو التصرف فيه، فيجب عليه أن يرده إلى مالكه، أو إلى وارثه بعد وفاته، وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفة المالك أو وارثه، أو لتعذر الرد عليه لسبب من الأسباب، وجب عليه التخلص منه بتصدقه عنه من غير نية ثواب الصدقة لنفسه.
عبدالغفوربن خان ولی
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
16 /ربیع الثانی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفور بن خان ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


