| 92307 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
ہمارے دفتر کے مصلیٰ پر جو صاحب امامت کرتے ہیں وہ اکثر بغیر ٹوپی نماز پڑھاتے ہیں، حالانکہ وہ خود فقہ حنفی کے پابند ہیں۔ کیا بلا عذر ننگے سر امامت کرنا شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص سستی اور غفلت کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھے یا امامت کروائے توایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے، لہٰذا نماز ادا کرتے وقت نماز کے تمام امور کا خیال رکھنا چاہیے ، خصوصا امامت کرنے والے شخص کو بھر پور اہتمام کرنا چاہیے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 641):
(قوله للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاونا بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار لأنه كفر شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
16/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


