03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ننگے سر نماز پڑھانے کا حکم
92307نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

ہمارے دفتر کے مصلیٰ پر جو صاحب امامت کرتے ہیں وہ اکثر بغیر ٹوپی نماز پڑھاتے ہیں، حالانکہ وہ خود فقہ حنفی کے پابند ہیں۔ کیا بلا عذر ننگے سر امامت کرنا شرعاً درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص  سستی اور غفلت کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھے یا امامت کروائے  توایسا کرنا  مکروہ تنزیہی ہے، لہٰذا نماز ادا کرتے وقت نماز کے  تمام امور کا خیال رکھنا چاہیے ، خصوصا امامت کرنے  والے شخص کو بھر پور اہتمام کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 641):

 (قوله للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاونا بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار لأنه كفر شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب