| 92459 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین، مفتیانِ شرعِ متین، مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ: موجودہ دور میں گرو ایپ (Groww App) کے ذریعے مختلف کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ لوگ اس ایپ کے ذریعے کمپنیوں کے شیئرز خریدتے ہیں اور بعد میں انہیں فروخت بھی کرتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ گرو ایپ کے ذریعے شیئرز کی خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور کن شرائط کے ساتھ شیئرز میں سرمایہ کاری کی گنجائش ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی شرعی حکم بیان فرما کر ممنون فرمائیں۔ نیز ایسی مستند کتابوں کی رہنمائی فرما دیں جن میں شیئر مارکیٹ، شیئرز کی خرید و فروخت اور ان سے متعلق شرعی احکام و مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہو۔ براہِ کرم ایسی کتب کے نام اور مصنفین سے آگاہ فرما کر ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گرو ایپ ایک آن لائن سرمایہ کاری اور بروکریج ایپ ہے، جس کے ذریعے صارفین اسٹاک مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کے علاوہ میوچل فنڈز، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز ، آئی پی اوز اور دیگر مالیاتی مصنوعات میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ یہ ایپ صارف اور اسٹاک ایکسچینج کے درمیان واسطے کا کام کرتی ہے اور خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرنے کے عوض مختلف فیس اور چارجز وصول کرتی ہے۔ نیز اس میں بعض ایسی سہولیات بھی موجود ہیں جن میں قرض یا سود سے متعلق معاملات شامل ہوتے ہیں۔چونکہ گراو ایپ ایک پلیٹ فارم ہے لہذا نفس ایپ کے زریعے آپ کےلئے شیرز کی خریدوفروخت درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔
1۔جس کمپنی کے شئیرز خریدنا چاہتے ہیں اس کاکاروبار حلال ہو۔ اگر کمپنی کا کاروبار غیر شرعی ہو، جیسےمروجہ غیر اسلامی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں ،ا سی طرح شراب بنانے والی اور بنیادی طور پرسود ی کاروبارکرنے والی کمپنیوں کے شئیرز خریدناجائز نہیں ۔
2۔اس کمپنی کا کاروبار واقعۃً شروع ہوچکا ہو اور اس کمپنی کی املاک مثلا ً عمارت اور مشینری وغیرہ وجود میں آچکی ہوں اور نقد
اثاثے صرف پلاننگ اور منصوبہ بندی تک محدود نہ ہوں ۔ اگر کمپنی صرف منصوبہ بندی اور نقد اثاثوں تک محدود ہو اور کاروبار شروع نہ ہوا ہو تو شئیرز کو صرف ان کی اصل قیمت پر خریدنایا بیچنا جائز ہے ا س سے کم وبیش پر خریدنا بیچنا جائز نہیں ۔
3۔نفع ونقصان دونوں میں شرکت ہو ،یعنی اگر کمپنی کو نفع ہو تو سود کے خریدار بھی نفع میں شریک ہوں گے اور اگر نقصان ہوتو اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان میں بھی شریک ہوں گے ۔
4۔نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو یعنی نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقررنہ ہو ،بلکہ فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیاگیا ہوکہ جو نفع ملے گا اس میں سے اتنے فیصد کمپنی کا ہوگا اور اتنے فیصد شئیر ہولڈر میں تقسیم کیاجائے گا۔
5۔شئیرز خریدنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی طور پر بھی کسی ناجائزکاروبار میں ملوث نہ ہو اوراگر ہو تو اس ضمنی کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب اس کی مجموعی آمدنی میں معتد بہ مثلا ً پانچ فیصد نہ ہو ( جیسا کہ اس کی پابندی آج کل کے اسلامی مالیاتی اداروں میں کروائی جارہی ہے )، نیزاس صورت میں بھی شئیرز خریدنے والا اس ارادے سے خریدے کہ وہ کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات کرنے سے ہر طرح منع کرےگا ، تحریری طور پر بھی اور خصوصاً کمپنی کےسالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ نہ کرے اور کم از کم ہمارا سرمایہ کسی حرام اور ناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔
6۔شق نمبر5 کے پیش نظر جب کمپنی سے سالانہ نفع وصول ہو تو شئیرز رکھنے والا ا س کمپنی کی بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کمپنی نے کتنے فیصد سرمایہ ناجائز کاروبار میں لگاکر نفع حاصل کیاہے؟پھر اس ناجائز نفع کا جتنے فیصد حصہ شیئرہولڈر کے پاس آیا ہے اتنا نفع بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے۔
7۔شئیرز ہولڈر ا س بات کا بھی اہتمام کرے کہ جس کمپنی کے شئیرز خریدے ا س کے مجموعی سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی کے سود پرلیے گئے قرضوں کی مقدار بہت زیادہ ( مثلا تینتیس فیصد 33٪ سے زیادہ) نہ ہو۔
8۔جو شئیرز خریدا جارہا ہو اس کے پیچھے موجود خالص نقد اثاثوں کی مقدار اس شئیر کی بازاری قیمت سے کم ہو۔
9۔شئیرز کی خریدفروخت کرنے میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ شئیر خریدنے کے بعد شئیر ہولڈر ان شئیرز پرقبضہ کرے، اس کے بعد ان کو فروخت کرے ۔شئیرز پر قبضہ کئے بغیر انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں ڈے ٹریڈنگ (ایک دن شیئرز خرید کر اسی دن بیچنا) میں حاضر سودے کی جوصورت رائج ہے وہ یہ ہے کہ فوری یعنی نقد سودےمیں سودا ہوتے ہی اس کا اندراج فوراً ہی کے اے ٹی (کراچی اٹومیٹیڈ ٹریڈنگ ) میں ہوجاتا ہے، جو اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے سودوں کا کمپیوٹر ائزڈ ریکارڈ ہوتا ہے، لیکن آج کل ہرسودے کے دو کاروباری دنوں کے بعد خریدار کو طے شدہ قیمت ادا کرنا اور بیچنے والے کو بیچے ہوئے حصص کی ڈیلیوری دیناہوتی ہے ۔ (جبکہ پہلے اس میں تین دن لگتے تھے ) جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی کے ذریعے خریدے گئے شئیرز خریدار کے نام منتقل کیے جاتے ہیں،ا سٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں اس کو ڈیلیوری اورقبضہ کہاجاتاہے ۔
مذکورہ صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک خریدے گئے شئیرز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام منتقل نہیں ہوجاتے، انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً جائزنہیں، کیونکہ شرعاً کسی بھی چیز کو آگے بیچنے کے لیے اس پر قبضہ شرط ہے ۔
اسٹاک ایکسچینج کے مروجہ طریق کار کے مطابق اگر چہ شئیرز خریدتے وقت کے اے ٹی میں ان کا اندراج ہوجاتاہے اور شئیرز کا نفع ونقصان بالآخر خریدار کو ہی پہنچتا ہے لیکن چونکہ شئیرز کی خریدوفروخت درحقیقت کمپنی کے حصہ مشاع کی خرید وفروخت ہے اور حصہ مشاع کی بیع میں محض نفع ونقصان کے خریدار کی طرف منتقل ہونے کو شرعی قبضہ قرار نہیں دیاجاسکتا اور مشاع حصہ پر حسی قبضہ بھی ممکن نہیں، لہذا اس صورت میں قبضہ کے تحقق کے لیے تخلیہ کا پایا جانا ضروری ہے اوراسٹاک ایکسچینج کے موجودہ قواعد وضوابط کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سی ڈی سی (سنٹرل ڈیپازیٹری کمپنی )کے ذریعے کمپنی کے ریکارڈ میں شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے تخلیہ نہیں پایا جاتا، لہذا مذکورہ صورت میں سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں بیچے گئے شئیرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے انہیں آگے فروخت کرنا دراصل قبضہ سے پہلے بیچنا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ۔
خلاصہ یہ کہ نقد سودے کی صورت میں بھی خریدے گئے شئیر ز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ یعنی ڈیلیوری سے پہلے آگے بیچنا جائز نہیں، جس کو اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں ڈے ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔
10. فارورڈ سیل یا فیوچر سیل کی جتنی صورتیں اسٹاک ایکسچینج میں رائج ہیں وہ اپنی موجودہ شکل میں شرعا ناجائز ہیں۔
11. اسٹاک ایکسچینج میں رائج بدلہ کے معاملات (جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بہت سے شیئرزخرید لیتا ہے، مگر اس کے پاس قیمت کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہوتی، اس لیے وہ شخص یہی شیئرز کسی دوسرے شخص کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ وہ ایک وقتِ مقرر پر زیادہ قیمت پر واپس خرید لے گا) بھی بیع قبل القبض اوردوسری شرط فاسد ( یعنی زیادہ قیمت پر واپس خریدنے کی شرط پر بیچنے ) کی بناء پر جائز نہیں۔
12. اسٹاک ایکسچینج میں رائج شئیرز کی بلینک سیل اور شارٹ سیل بھی شرعا ممنوع اور ناجائز ہے، ان دونوں میں شیئرز بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتے، جبکہ شریعت نے غیر مملوک چیز کی خریدوفروخت کو ناجائز قرار دیا ہے۔( ماخذہ بتصرف:فتاوى دارالعلوم كراچی: 803/47)
13. شیئرز کی خریدوفروخت میں الاختیارات کے سودے کرنا بھی جائز نہیں، جن کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعین قیمت پر ایک متعین وقت کے لیے شیئرز کی خریدوفروخت کا حق حاصل ہوتا ہے اور شیئرز بیچنے والے کے ہی ضمان میں ہوتے ہیں۔(ماخوذ ازتبویب)
شیئرز کی خرید و فروخت اور اسٹاک مارکیٹ کے شرعی احکام کے لیے درج ذیل کتب مفید ہیں:
اسلام اور جدید معاشی مسائل — مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
اسلام کا نظام معیشت شیرزاور کمپنی —مجاہدالاسلام قاسمی صاحب
تجارتی کمپنیوں کا لائحہ عمل —مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 527) باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك:
ذكر عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل [ص:528] سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك»: وهذا حديث حسن صحيح.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 120)باب الهبه، فصل في شرائط ركن الهبة:
يجوز بيع المشاع وكذا هبة المشاع فيما لا يقسم وشرطه هو القبض والشيوع لا يمنع القبض لأنه يحصل قابضا للنصف المشاع بتخلية الكل ولهذا جازت هبة المشاع فيما لا يقسم وإن كان القبض فيها شرطا لثبوت الملك كذا هذا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 180)فصل في شرائط الصحة في البيوع:
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع فيه غرر»
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238)باب الإجارة الفاسدة:
تسليم المشاع وحده لا يتصور، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع،
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


