| 92287 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہماری دادی نے ہماری پھوپھی کے جڑواں بیٹوں میں سے کسی ایک کو دودھ پلایا تھا۔ اب دادی کو بالکل یاد نہیں ہے کہ دونوں میں سے کس کو پلایا تھااور اس بات کا کوئی دوسرا گواہ بھی موجود نہیں ہے۔
اب ان دونوں جڑواں بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ طے ہو رہا ہے، لیکن مقامی مفتیانِ کرام شک کی وجہ سے منع کر رہے ہیں۔ مہربانی فرما کر تحریری فتویٰ عنایت فرمائیں کہ کیا یہ نکاح شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کو دادی کی بات پر یقین ہے کہ انہوں نے کسی ایک بچے کو ضرور دودھ پلایا ہے اور وہ غلط بیانی نہیں کررہی،تو احتیاط اسی میں ہے کہ ان دونوں بھائیوں کا رشتہ کسی ایسی لڑکی سے نہ کیا جائے جو ان کی رضاعی محرم بنتی ہو ۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 35):
(سئل) في شهادة النساء وحدهن على الرضاع هل تقبل؟
(الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية.(أقول) : أي ترك احتياطا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 213):
ومن اشترى جارية فأخبره مسلم ثقة أنها حرة الأصل أو أخته من الرضاع فله أن يطأها، وإن تنزه
فهو حسن لأن شهادة الواحد لا تبطل الملك ولا توجب حرمة الرضاع ولو ملك طعاما، أو جارية بسبب فشهد مسلم ثقة أن المملك غصبه من فلان تنزه عن أكلها ووطئها.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


