03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
(Success Chaser Star)SCSکمپنی میں ملازمت کا حکم
92283اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

میری جاب SCS یعنی Success Chaser Star کمپنی میں لگی ہے۔ یہ کمپنی سکن کیئر، بیوٹی کیئر اور ہربل پروڈکٹ کی Direct Selling کرتی ہے۔ کام گھر بیٹھے آن لائن ہے۔ اس کمپنی میں 3 باتیں ہیں: 1۔ پروڈکٹ خریدنا لازمی ہے 2۔ ہر مہینے پوائنٹس کا ٹارگٹ پورا کرنا ہوتا ہے 3۔ لوگوں کو جوڑنے پر MLM بونس ملتا ہے۔ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کرنے کے پیسے نہیں مانگ رہے۔ کیا اس کمپنی میں کام کرنا میرے لیے شرعی طور پر جائز ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دستیاب معلومات کے مطابق یہ کمپنی ملٹی لیول مارکیٹنگ  کرتی ہے ۔جس کو شروع کرنا یا اس کا حصہ بننا درج ذیل وجوہ کی بنا پر جائز نہیں ۔

۱۔قمار یعنی جوے کا ہونا:جس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں اکثر شامل ہونے والے لوگ نیٹ ورک بنانے کے مقصد سے شامل ہوتے ہیں اور پراڈکٹ خریدنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممبران بنائیں تو ان کا کمیشن حاصل ہو۔ چونکہ معاملات میں مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے، لہذا یہ لوگ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگاتے ہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا ، دونوں ممکن ہوتے ہیں، اگر ممبر بن گئے تو نفع ہو جائے گا اور ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی جائے گی، یہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ نا     جائز ہے۔

۲۔ایک عقد دوسرے عقد کے ساتھ مشروط ہے جوکہ شرعاً  ناجائز ہے:جس کی تفصیل یہ ہےکہ مذکورہ کاروبار میں لوگوں کو چیز فروخت کروا کر کمیشن لینا اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے،جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔لہٰذا اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا۔یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے ،جو شرعاً ناجائز ہے۔

۳۔بغیر عمل کے اجرت کا ملنا یاایک ہی مرتبہ کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت کا ملنا:اس کی تفصیل یہ ہے کہ  مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بناتا ہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو۔ ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہے،یا ابتدا میں بنائے گئے ممبر کے عمل کے نتیجے میں بار بار اجرت ملتی ہے اور ان دونوں صورتوں میں اجرت جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

(المبسوط للسرخسي  (15/102:

وإن ‌اشترى ‌ثوبا ‌على ‌أن ‌يخيطه ‌البائع ‌بعشرة ‌فهو ‌فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد وهذا ومسألة النعل في القياس سواء غير أن هناك استحسانا للعرف ولا عرف هنا فيؤخذ به بالقياس.

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(4/ 193: 

وأما ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌ما ‌يقابل ‌المعقود ‌عليه ‌وهو ‌الأجرة ‌والأجرة ‌في ‌الإجارات ‌معتبرة ‌بالثمن ‌في ‌البياعات ‌لأن ‌كل ‌واحد ‌من ‌العقدين ‌معاوضة ‌المال ‌بالمال ‌فما ‌يصلح ‌ثمنا ‌في ‌البياعات ‌يصلح ‌أجرة ‌في ‌الإجارات ‌وما ‌لا ‌فلا ‌وهو ‌أن ‌تكون ‌الأجرة ‌مالا ‌متقوما ‌معلوما ‌وغير ‌ذلك ‌مما ‌ذكرناه ‌في ‌كتاب ‌البيوع۔

(الجوهرة النيرة (1/203:

وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وفيه منفعة لأحد المتعاقدين ولأنه لو كان الخدمة والسكنى يقابلهما شيء من الثمن تكون إجارة في بيع ولو كان لا يقابلهما شيء يكون إعارة في بيع وقد (نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة ‌ونهى ‌عن ‌بيع ‌وشرط ‌عن ‌شرطين ‌في ‌بيع ‌وعن ‌بيع ‌وسلف ‌وعن ‌ربح ‌ما ‌لم ‌يضمن ‌وعن ‌بيع ‌ما ‌لم ‌يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان)، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين۔۔۔ وأما صفقتان في صفقة أن يقول: أبيعك هذا العبد بألف على أن تبيعني هذا الفرس بألف وقيل هو أن يبيع ثوبا بشرط الخياطة، أو حنطة بشرط الحمل إلى منزله فقد جعل المشتري الثمن بدلا للعين والعمل فماحاذى العين يكون بيعا وما حاذى العمل يكون إجارة فقد جمع صفقتين في صفقة۔۔۔الخ

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   18/ربیع الاٰخر   /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب