03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
محرم کے بغیر سفر عمرہ کرنے کا حکم
92318حج کے احکام ومسائلعمرہ کے مسائل

سوال

میں ایک حنفی مسلمان خاتون ہوں۔ میرے پاس اپنا عمرہ ادا کرنے کے لیے کافی رقم ہے، لیکن میں اپنے شوہر یا کسی اور محرم کو ساتھ لے جانے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ مسلکِ حنفی کے مطابق عورت ، شوہر یا محرم کے بغیر مقررہ مسافت (سفرِ شرعی) طے نہیں کر سکتی۔ تاہم، میری معلومات کے مطابق مالکی اور شافعی مسالک میں ایسے تسلیم شدہ اقوال موجود ہیں جو عورت کو محرم کے بغیر حج کے سفر کی اجازت دیتے ہیں، بشرطیکہ سفر، منزل اور واپسی محفوظ ہو۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ فقہاء کی کلاسیکی بحث خاص طور پر فرض حج کے بارے میں ہے، اور عمرے کا حکم اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ میرا سوال خاص طور پر عمرے کے بارے میں ہے۔ چونکہ میں محرم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی لیکن اپنا عمرہ کر سکتی ہوں، تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں مالکی یا شافعی مسلک کے اس قول پر عمل کروں جس کے مطابق عورت، سفر محفوظ ہونے کی صورت میں، محرم کے بغیر عمرہ کر سکتی ہے؟ اگر میں ایسا کروں تو کیا اسلام کی رو سے میں گناہ گار ہوں گی، یا میں اہلِ سنت کی فقہ کے اندر ایک درست اور تسلیم شدہ قول پر عمل کرنے والی شمار ہوں گی؟ کیا یہ بات کہ میں عموماً مسلکِ حنفی کی پیروی کرتی ہوں، مجھے اس خاص مسئلے میں کسی دوسرے تسلیم شدہ مسلک کا قول اختیار کرنے سے روکتی ہے؟ برائے کرم جواب خاص طور پر عمرے کے بارے میں دیں، حج کے بارے میں نہیں، اور یہ بھی بتائیں کہ آیا آپ کا جواب اس بات پر مختلف ہوتا ہے کہ عمرہ فرض سمجھا جائے یا نفلی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مالکی اور شافعی مسالک میں بااعتماد خواتین کے قافلے (رفقہ مأمونہ) کے ساتھ محرم کے بغیر سفر کرنے کی جو گنجائش بیان کی گئی ہے، وہ بنیادی طور پر زندگی کے پہلے فرض حج کے ساتھ مخصوص ہے تاکہ فرض عین عبادت کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ عمرہ یا نفلی اسفار کے معاملے میں شافعی اور مالکی ائمہ کے ہاں بھی عمومی ضابطہ یہی ہے کہ بغیر محرم سفر کی گنجائش نہیں ہوتی۔ چونکہ عمرہ کوئی فرض یا واجب عبادت نہیں ، بلکہ فقہ حنفی کے راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق زندگی میں ایک بار عمرہ  کی ادائیگی سنت مئوکدہ ہے۔ اس لئے جب آپ کے پاس محرم کے سفری اخراجات موجود نہیں ہیں اور شریعت کی طرف سے آپ سے سفر عمرہ کا مطالبہ بھی نہیں ہے ، بلکہ یہ مطالبہ ہے کہ بغیر محرم کے سفر شرعی نہ کریں ، تو ایسے میں آپ کا عمرہ کرنا محض اپنی خواہش کی تکمیل ہوگی ، جس پر ثواب کی بجائے الٹا شرعی حکم توڑنے کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوں گی ۔تا ہم اگر آپ محرم کے بغیر سفر کر کے اپنا عمرہ ادا کر لیں، تو افعالِ عمرہ صحیح طور پر بجا لانے کی وجہ سے آپ کا عمرہ تو شرعاً ادا ہو جائے گا، لیکن محرم کے بغیر سفرِ شرعی طے کرنے کی وجہ سے آپ گناہ گار (کراہت تحریمی کی مرتکب) شمار ہوں گی۔

حوالہ جات

«البناية شرح الهداية» (4/ 150):

«م: (وقال الشافعي: يجوز لها الحج إذا خرجت في رفقة، ومعها نساء ثقات لحصول الأمن بالمرافقة) ش: وبه قال مالك رحمه الله، وفي " شرح الوجيز ": هل يشترط أن يكون مع واحدة منهن محرم، فيه وجهان، نعم وبه قال القفال، وأصحهما: لا، وإن لم تجد نساء ثقات لم يكن لها الحج، هذا ظاهر المذهب، ورواه قولان: أحدهما: أن تخرج مع المرأة الواحدة، ذكره في " الإملاء "، واختار جماعة من الأئمة أن عليها أن تخرج وحدها إذا كان آمنا، وحكي هذا عن الكرابيسي، وهو قول الأوزاعي.

وأما في حج النفل فالأصح أن لا تخرج مع النساء وحدها، وفي السروجي: وقال الشافعي رضي الله عنه في قول تخرج مع نساء ثقات ولا تخرج مع واحدة وإن أمنت. وفي قول: تخرج مع واحدة، وفي قول: تخرج وحدها، وقال مالك رضي الله عنه في " المدونة ": تخرج بلا محرم مع رجال مؤتمنين، وفي المرأة الواحدة المأمونة لا يشترط المحرم، ولا الزوج.»

«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (1/ 150):

«فإن حجت بغير محرم أو زوج جاز حجها مع الكراهة وهل المحرم من شرائط الوجوب أم من شرائط الأداء على الخلاف في أمن الطريق.»

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص157):

«(والعمرة) في العمر (مرة سنة مؤكدة) على المذهب، وصحح في الجوهرة وجوبها.»

«فقه العبادات على المذهب الحنفي» (ص200 بترقيم الشاملة آليا):

«حكمها: المعتمد في المذهب أنها سنة مؤكدة في العمر مرة، لحديث طلحة بن عبد الله رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (الحج جهاد والعمرة تطوع) (1) .»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

20/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب