| 92285 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ایک بوڑھا شخص سرکاری ملازم اور استاد ہے۔ اس کی دو شادیاں ہوئی ہیں اور دونوں بیویوں کے بیٹے علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتی ہیں۔ پہلی بیوی سے اس کے تین بیٹے ہیں جو اب بالغ، نوجوان اور شادی شدہ ہیں۔ ان تینوں بیٹوں کی شادیاں بھی والد ہی نے کروائی ہیں اور اب وہ علیحدہ گھر میں رہتے ہیں اور بیٹوں کے والدہ فوت ہوئی ہے۔ اب یہ تینوں شادی شدہ بیٹے اپنے بوڑھے والد سے اس کی ماہانہ تنخواہ میں حصہ مانگتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ والد اپنی تنخواہ میں سے انہیں بھی باقاعدہ حصہ دیں۔ دوسری طرف والد بوڑھے ہیں ملازمت کے ذریعے حاصل ہونے والی اپنی تنخواہ سے ہی اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرتے ہیں اور اپنی ضروریات کے لیے اسی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ بالغ، شادی شدہ اور اپنے الگ گھر میں رہنے والے ان بیٹوں کا اپنے بوڑھے والد کی تنخواہ میں حصہ مانگنا شرعاً درست اور ان کا حق ہے؟ کیا محض بیٹا ہونے کی وجہ سے انہیں والد کی ماہانہ تنخواہ میں کوئی مقررہ حصہ لینے کا حق حاصل ہے؟مزید یہ کہ اگر والد اپنی محدود تنخواہ سے اپنی زندگی گزارتے ہوں، جبکہ بیٹے بالغ، شادی شدہ، صحت مند اور کمانے کے قابل ہوں، تو ایسی صورت میں شرعاً والد کی ذمہ داری کیا ہے اور بیٹوں کی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
براہِ کرم اس پورے مسئلے کا فقہِ اسلامی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور واضح فرمائیں کہ اس صورت میں والد کی تنخواہ میں بیٹوں کا کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی حق یا ذمہ داری بنتی ہے تو اس کی شرعی حدود بھی واضح فرمائی جائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب بیٹے بالغ اور خود کمانے پر قادر ہیں تو والد پر ان کے اخراجات کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ والد اپنی تنخواہ جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں۔ اگر اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ حصہ اپنے بیٹوں کو دیتے ہیں تو یہ ان کا احسان اور باعثِ اجر ہوگا۔یادرہے اولاد کو والد کے مال پرنظر رکھنے کے بجائے ان کی خدمت کرنی چاہیے۔ لہٰذا اولاد کا موجودہ رویہ اخلاقی پستی کی علامت ہے۔
حوالہ جات
في الهندية(585/1) دارالكتب العلمية:
لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض.
و في رد المحتار(336/5) :
و تجب النفقة بأنواعها على الحر لطفله يعم الأنثى و الجمع الفقير الحر، (قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال: جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل: أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


