03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رأس المال کا عروض ہونے کی صورت میں مضاربہ کا حکم
92413مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

مفتی صاحب! ایک معاملے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے، برائے کرم اس کا شرعی حکم تفصیل سے بیان فرما دیں۔

میرے ایک دوست کے پاس چند ڈمپر ٹرک پہلے سے موجود ہیں، جن کے وہ خود مالک ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ کاروباری بنیاد پر شرکت کروں۔ مجوزہ طریقۂ کار یہ ہے کہ:

 ڈمپر ٹرک اور ان میں موجود اصل سرمایہ میرے دوست کی طرف سے ہوگا۔میں اپنی محنت اور وقت لگاؤں گا؛ یعنی ڈمپرز کے لیے کام تلاش کرنا، ٹھیکے یا کام حاصل کرنا، گاڑیوں کو کام پر لگانا، ان کے معاملات کی نگرانی کرنا اور دیگر ضروری انتظامی امور انجام دینا میری ذمہ داری ہوگی۔اس کاروبار میں میری طرف سے کوئی نقد سرمایہ یا گاڑی شامل نہیں ہوگی، بلکہ میری شرکت صرف محنت، وقت اور انتظامی خدمات کی صورت میں ہوگی۔اس کے عوض کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں باہمی رضامندی سے میرا اور میرے دوست کا مقررہ تناسب طے کیا جائے گا۔

لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

(۱) کیا مذکورہ صورت میں میرے اور میرے دوست کے درمیان کوئی جائز شراکت یا مضاربت قائم ہوسکتی ہے؟

(۲)اگر ڈمپر گاڑیوں کی موجودہ ملکیت میرے دوست ہی کی رہے اور میں صرف اپنی محنت و انتظامی خدمات کے عوض کاروباری منافع میں متعین تناسب کا بطور اجرت  حق دار بنوں، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

(۳) اگر ڈمپر گاڑیوں کو سرمایہ بنا کر مضاربت کی صورت درست نہیں، تو فقہ کی روشنی میں اس معاملے کی کوئی دوسری جائز اور عملی صورت کیا ہوسکتی ہے؟ مثلاً شرکت، اجارہ، یا کسی اور شرعی عقد کی صورت؟

(۴) اگر اس معاملے کو کسی مخصوص شرعی عقد کے تحت درست کیا جاسکتا ہو تو اس کا مکمل طریقۂ کار، شرائط، نفع کی تقسیم، نقصان کی ذمہ داری اور عقد کے بنیادی نکات بھی بیان فرما دیں، تاکہ معاملہ شرعی طور پر درست طریقے سے طے کیا جاسکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(۱) مضاربت کے معاملے میں یہ ضروری ہے کہ مال مضاربت سے باقاعدہ خرید و فروخت اور تجارت ہو، جبکہ مسئولہ صورت میں  گاڑیوں کو بیچا نہیں جاتا  بلکہ کرایہ پر دیا جاتا ہے ، اس لیے اس طرح گاڑی کے منافع کو سرمایہ بنا کر مضاربت کرنا درست نہیں ہوگا۔

(۲،۳،۴) اگر ڈمپر گاڑیوں کی ملکیت سائل کے دوست ہی کی رہے اور سائل اپنی محنت اور انتظامی خدمات کے عوض کاروباری منافع میں متعین تناسب بطورِ اجرت لیتا ہے،  تو یہ صورت بھی  اس وجہ سے جائز نہیں ہوگی کہ شرعا  اجارے کے معاملہ میں اجرت کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے، جبکہ صرف منافع کے فیصد کے اعتبار سے اجرت مقرر کرنے میں اجرت مجہول رہتی ہے۔ اس لیے کہ منافع کم یا زیادہ ہوسکتا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ منافع بالکل نہ ہو۔

لہٰذا اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے  صرف منافع میں متعین فیصد کو اجرت طے کرکے اجارے کا  معاملہ کرنا بھی درست نہیں  ہوگا ۔البتہ صورتِ مسئولہ میں اس معاملے  کو اس طریقے سے بطور اجارہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی کچھ نہ کچھ اجرت (تنخواہ)  تو لم ثم طے کردی جائے  جو بہر حال آپ کو ملے،  چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نہ ہو اور چاہے  کم ہو یا زیادہ، اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے لئے نفع  کا ایک خاص تناسب کو بھی بطور اجرت مقرر کر لیا جائے ۔

اس صورت میں ڈمپر گاڑیوں کی ملکیت بدستور مالک ہی کی رہے گی، اور سائل صرف اپنی محنت، وقت اور انتظامی خدمات فراہم کرے گا۔ مثلاً ڈمپرز کے لیے کام تلاش کرنا، ٹھیکے یا کام حاصل کرنا، گاڑیوں کو کام پر لگانا، ان کے معاملات کی نگرانی کرنا اور دیگر ضروری انتظامی امور انجام دینا اس کی ذمہ داری ہوگی جس کےلئے ڈیوٹی کا وقت بھی طے کرلیا جائے۔

مثلاً یہ طے کیا جائے کہ سائل کو ماہانہ دس ہزار، بیس ہزار یا باہمی رضامندی سے کوئی بھی رقم  تو حتمی اجرت  کے طور پر اس طرح طے کردی جائے کہ یہ رقم تو سائل کو بہر حال ملےگی ۔ اس کے ساتھ  ساتھ یہ بھی طے کر دیا جائے کہ مقررہ رقم کے علاوہ کاروبار کے منافع میں سے ایک متعین فیصد بھی اسے بطورِ اجرت دیا جائے گا۔مثلاً یہ طے کیا جائے کہ سائل کو ماہانہ

مثلا بیس ہزار تنخواہ کے علاوہ کاروبار کے منافع میں سے پانچ فیصد بھی بطورِ اجرت دیا جائے گا۔ اس صورت میں یہ  معاملہ اجارہ کے تحت جائز  ہوگا۔

واضح رہے کہ اس صورت میں چونکہ ڈمپر کی ملکیت مالک ہی کی ر ہے گی اور سائل صرف اپنی خدمات کی اجرت لے رہا ہوگا ، اس لیے ڈمپر سے متعلق کاروباری اخراجات بھی مالک کے ذمہ ہوں گے۔ مثلاً پٹرول کا خرچ، ڈمپر میں خرابی پیدا ہونے کی صورت میں اس کی مرمت کا خرچ اور اس نوعیت کے دیگر اخراجات مالک ہی کے ذمہ ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایک اور  صورت یہ بھی جائز ہے کہ سائل خود ڈمپر کے مالک سے ڈمپر گاڑیاں اجارہ (کرایہ) پر لیکر ان پر کام کرکے سارا نفع خود رکھے اور ڈمپر کے مالک کو  اس کے ڈمپروں کا ماہانہ طے شدہ کرایہ دے ۔

واضح رہے کہ اس صورت میں ڈمپر کے استعمال سے متعلق اخراجات، مثلاً پٹرول وغیرہ، سائل کے ذمہ ہوں گے۔ اسی طرح ڈمپر کے استعمال سے متعلق وہ اخراجات جو اجارہ کی شرائط کے مطابق مستاجر کے ذمہ ہوں، وہ بھی سائل ہی ادا کرے گا۔البتہ اگر ڈمپر میں ایسی  بڑی خرابی پیدا ہوجائے جس کی ذمہ داری عرفاً مالک پرسمجھی جاتی  ہے   تو اس کا خرچ مالک کے ذمہ ہوگا۔اس کے بعد ڈمپر سے حاصل ہونے والی آمدنی ساری  سائل  کی ہوگی اور مالک کو وہ متعین کرایہ ادا کرے گا ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مضاربت کی صورت تو  درست نہیں، لیکن فریقین اپنی ضرورت کے مطابق اجارہ کی  مذکورہ دونوں صورتوں میں سے جو صورت چاہیں  اختیار کرسکتے ہیں

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 82)

(وأما) الذي يرجع إلى رأس المال فأنواع.

(منها) أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء فلا تجوز المضاربة بالعروض، وعند مالك - رحمه الله -: هذا ليس بشرط وتجوز المضاربة بالعروض والصحيح قول العامة لما ذكرنا في كتاب الشركة أن ربح ما يتعين بالتعيين ربح ما لم يضمن؛ لأن العروض تتعين عند الشراء بها، والمعين غير مضمون، حتى لو هلكت قبل التسليم لا شيء على المضارب، فالربح عليها يكون ربح ما لم يضمن.

«ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن ربح ما لم يضمن» ، وما لا يتعين يكون مضمونا عند الشراء به حتى لو هلكت العين قبل التسليم، فعلى المشتري به ضمانه، فكان الربح على ما في الذمة فيكون ربح المضمون، ولأن المضاربة بالعروض تؤدي إلى جهالة الربح وقت القسمة؛ لأن قيمة العروض تعرف بالحرز والظن، وتختلف باختلاف المقومين، والجهالة تفضي إلى المنازعة، والمنازعة تفضي إلى الفساد، وهذا لا يجوز.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (5/ 3932)

وأما شروط رأس المال فهي:

أولاً ـ أن يكون رأس المال من النقود الرائجة أي الدراهم والدنانير ونحوها، كما هو الشرط في شركة العنان. فلا تجوز المضاربة بالعروض من عقار أو منقول عند جمهور العلماء.

تحفة الفقهاء (3/ 16)

ومنها أنه لو دفع إلى رجل دابة ليأجرها على أن الأجر بينهما كان ذلك فاسدا والأجر لصاحب الدابة وكذلك السفينة والدار لأنه عقد على ملك الغير بإذنه ويجب أجر المثل لأنه استوفى منفعة بعقد فاسد.

   شفیع اللہ بن معروف خان

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

   تاریخ:۲۰،ربیع الثانی، ١٤٤۸

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شفیع اللّٰہ بن معروف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب