| 92404 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میرا سالا شیخ.......... شدید ڈپریشن اور بے چینی (اینزائٹی) کا مریض ہے اور کافی عرصے سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ اس کی بیوی کو بھی اس کی بیماری اور ذہنی حالت کے بارے میں پہلے سے مکمل علم تھا۔26 اگست کی صبح گھر میں ایک معمولی بات پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس دوران اس کی بیوی نے اسے مزید اُکسایا، جس کے نتیجے میں اس نے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیں۔ اس معاملے میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کی بیوی کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ شدید ڈپریشن اور اینزائٹی کا مریض ہے۔ تقریباً ایک سال قبل اس کا دو مرتبہ ایک ڈاکٹر سے معائنہ بھی ہوا تھا اور دونوں مرتبہ اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ موجود تھی۔ اس لیے اس کی بیوی اس کی ذہنی بیماری اور اس کی کیفیت سے بخوبی واقف تھی۔ جب اس کی بیماری کی تشخیص ہوئی تو اس کی بیوی کو اس کے علاج اور ادویات باقاعدگی سے جاری رکھنے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ بیماری کے بارے میں مکمل علم ہونے کے باوجود، اس کی بیوی نے اس کی دوا باقاعدگی سے جاری نہیں رکھی اور اس کے علاج میں مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ بار بار لڑائی جھگڑا اور ذہنی دباؤ کا ماحول رہنے کی وجہ سے اس کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہوتی رہی۔ اس کی ذہنی حالت کے بارے میں متعدد افراد گواہی دے سکتے ہیں۔ میرے والد، وہ ڈاکٹر جن کے پاس تقریباً ایک سال قبل اس کا دو مرتبہ معائنہ ہوا تھا اور دونوں مرتبہ اس کی بیوی بھی موجود تھی، اس کے والدین، اس کی پھوپھی کے بچے اور میں خود اس کی ذہنی حالت سے واقف ہیں۔ ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر معمول کے مطابق نہیں ہے، شدید ڈپریشن اور اینزائٹی کا شکار ہے اور بعض اوقات اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے افعال پر مکمل اختیار نہیں رکھتا۔ ہم تمام گواہ اس حوالے سے حلفیہ بیان دینے کے لیے بھی تیار ہیں اور اپنے ذاتی مشاہدے اور معلومات کی بنیاد پر اس کی ذہنی حالت کے بارے میں گواہی دے سکتے ہیں۔ مزید برآں، بعد میں اس کی ذہنی بیماری کے سلسلے میں ماہرِ نفسیات سے معائنہ اور علاج بھی کروایا گیا اور اسے باقاعدہ ادویات تجویز کی گئیں، جن میں ڈپریشن اور اینزائٹی کے علاج کے ساتھ دیگر نفسیاتی ادویات بھی شامل ہیں۔ لہٰذا ہماری مؤدبانہ گزارش ہے کہ 26 اگست کو تین طلاقیں دیتے وقت اس کی اصل ذہنی کیفیت، اس کی شدید ڈپریشن اور اینزائٹی، سابقہ طبی معائنے، موجودہ اور سابقہ علاج، تجویز کردہ ادویات، اس کی بیوی کا اس بیماری سے پہلے سے واقف ہونا، اور تمام گواہوں کے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے شرعی حکم بیان فرمایا جائے۔ خصوصاً یہ رہنمائی مطلوب ہے کہ اگر شدید ذہنی بیماری کی وجہ سے طلاق دیتے وقت اس کی سمجھ بوجھ، شعوری کیفیت یا اپنے الفاظ اور افعال پر اختیار مکمل طور پر یا قابلِ ذکر حد تک متاثر ہو چکا تھا تو ایسی صورت میں ایک ہی وقت میں دی گئی تین طلاقوں کا شرعی حکم کیا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کا فیصلہ تمام طبی شواہد، سابقہ طبی معائنے، ماہرِ نفسیات کی تشخیص، ادویات، گواہوں کے حلفیہ بیانات اور 26 اگست کو طلاق دیتے وقت اس کی حقیقی ذہنی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا جائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات جاننا ضروری ہے کہ شرعا طلاق کے درست ہونے کے لیے شوہر کا عاقل، بالغ اور صاحبِ ادراک و اختیار ہونا بنیادی شرط ہے۔ اگر کوئی شخص جنون، بے ہوشی یا شدید ذہنی بیماری کی وجہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے تو اس کے الفاظِ طلاق شرعاً معتبر نہیں ہوتے۔
اگر کوئی شخص ذہنی دباو اور ڈپریشن وغیرہ کا شکار ہواور اسی کیفیت میں طلاق دینے کا دعویدار ہوتو فقہائے کرامؒ نے مذکورہ شرائط کے ساتھ اس کے دعوی کا اعتبار کیا ہے۔
۱۔طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس پر بیماری کا غلبہ ہو اور وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو۔
۲۔ ذہنی دباو اور ڈپریشن کی صورت میں اس کا اپنے ہوش وہواس کو کھو بیٹھنالوگوں میں معروف ہو۔
۳۔طلاق کےالفاظ کہتے وقت اپنے ہوش وحواس میں نہ ہونے پر وہ حلفیہ بیان دے۔
صورت مذکورہ میں طلاق کے الفاظ کہتے وقت اگر شوہر کی واقعتا یہی صورت حال تھی کہ وہ ذہنی دباو اور ڈپریشن کی وجہ سے اپنے ہوش و حواس کھو چکا تھا اور اس کی یہ کیفیت(کہ وہ ڈپریشن کی حالت میں اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے) پہلے سے لوگوں میں معروف تھی ،تو حلفیہ بیان کے ساتھ اس کی بات کا اعتبار کیا جائے گا ۔اگر وہ حلفیہ بیان میں یہ کہہ دے کہ طلاق کے وقت وہ اپنے ہوش وحوا س میں نہیں تھا، تو صورت مذکورہ میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔اس کا نکاح بدستور برقرار ہےگا اورتجدیدِ نکاح کیے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھا رہنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 38):
(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 244):
«فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل،
احسن الفتاوی ( ج 5ص 163)
اگر آپ کی جنونی کیفیت پہلے سے لوگوں میں مشہور تھی اور آپ حلفیہ بیان دیں کہ بوقتِ طلاق آپ پر یہی جنونی کیفیت طاری تھی، تو طلاق نہیں ہوئی، اور اگر آپ کا جنون پہلے سے لوگوں میں معروف نہیں تھا تو اگر د و معتبرمردیا ایک معتبر مرد اور دو معتبر عورتیں یہ شہادت دیں کہ بوقت طلاق آپ کی جنونی کیفیت تھی تو طلاق نہیں ہوئی،۔اگر آپ کا جنون پہلے سے لوگوں کو معلوم نہیں اور وقت طلاق میں جنونی حالت طاری ہونے پر تفصیل مذکور کے مطابق دو معتبر گواہ بھی نہیں تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی آپ پر حرام ہو گئی۔
عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20/ربیع االثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


