| 92411 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ:میں نے اپنی بیوی کو کال کرکے کہا: ’’اگر آپ نے اس لڑکی سے کال پر بات کی تو تم پر تین طلاقیں ہوں۔‘‘ یہ کہنے کے بعد میں نے کال کاٹ دی۔ اسی وقت دل میں سوچا کہ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ شرط واپس لے لوں گا۔ اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کے سامنے بھی اپنی شرط واپس لینے کی بات کی، البتہ یہ بات کہ ’’واپس لوں گا‘‘ میں نے کال پر زبان سے کہی تھی یا نہیں، اس میں مجھے شک ہے، لیکن دل میں شرط واپس لینے کا ارادہ کیا تھا۔
اس صورت میں شرعاً مذکورہ شرط کا کیا حکم ہے؟ اگر بیوی مذکورہ لڑکی سے کال پر بات کرے تو کیا طلاق واقع ہوگی؟ اس سے بچنے کا حیلہ کیا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا جائے تو اس کے بعد شوہر کو اس سے رجوع کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ جب بھی شرط پائی جائے گی، طلاق واقع ہوجائے گی۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ کا شرط سے رجوع شرعاً معتبر نہیں، بلکہ جب بھی آپ کی بیوی اس لڑکی سے بات کرے گی، چاہے بھول کر ہی کیوں نہ ہو، تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی یا تو اس لڑکی سے بات نہ کرے، یا آپ اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دیں اور پھر بیوی طلاق کی عدت گزار لے۔ اس وقت تک آپ کی بیوی اس لڑکی سے بات کرنے سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچائے رکھے۔ عدت مکمل ہونے کے بعد آپ کا اور بیوی کا تعلق ختم ہوجائے گا اور دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجائیں گے۔ اب بیوی اس لڑکی سے بات کرے۔ اس وقت چونکہ آپ دونوں کے درمیان میاں بیوی کا تعلق نہیں ہوگا، اس لیے مذکورہ شرط پوری ہونے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر یہ طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔ اس کے بعد اگر آپ دونوں چاہیں تو اپنی مرضی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں شرط بھی پوری ہوجائے گی اور آپ کی بیوی آپ پر حرام بھی نہیں ہوگی، اور آئندہ کے لیے اس لڑکی سے بات کرنے پر آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اس نئے نکاح کے بعد آئندہ کے لیے آپ کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 209):
«ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك، وإنما علق بشرط الرجعة فلو حرمت حرمة غليظة يتضرر بقولها، وكذلك لو جعل أمرها بيدها في تطليقتين أو بيد أجنبي، ثم أقرت بالرق؛ لأن التفويض لازم لا يقبل الرجوع فلا يمكنه التدارك، كذا في التحرير شرح الجامع الكبير.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 355):
«فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


