| 92507 | ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائل | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے ( |
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ ہم پچھلے 4 سال سے بلدیہ ٹاؤن، کراچی میں ایک کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں بھی ایک فیملی کرائے پر رہتی ہے۔ اس پوری فیملی کا 4 سال سے روز کا شدید شور شرابا ہے۔ انہیں نہ دن رات کا خیال ہے اور نہ ہی نماز و اذان کے وقت کا کوئی لحاظ ہے۔ جب ان کا دل کرتا ہے، یہ شور شروع کر دیتے ہیں۔ ہم نے بہت بار سمجھایا، مگر وہ نہیں سمجھتے۔ اب تو وہ ہمارے گھر کے آگے اپنی سوزوکی گاڑی کھڑی کر کے ہمیں اور زیادہ تنگ کرنے والی حرکتیں کرتے ہیں۔
اس پڑوس کی فیملی میں خاص طور پر ایک طلاق یافتہ عورت ہے اور اس کا ایک 11 سال کا بیٹا ہے۔ یہ دونوں ماں بیٹا دن رات شور کرتے ہیں اور ہنگامہ مچائے رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی اپنی فیملی بھی ڈسٹرب رہتی ہے اور محلے کے کچھ گھر بھی شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ اس کا بیٹا، چاہے دن ہو یا رات، باتھ روم میں بیٹھ کر بہت زور زور سے چیختا ہے، جس کی وجہ سے ہم شدید ذہنی ٹارچر ہوتے ہیں۔
خاص طور پر رات کے وقت یہ لوگ دیواروں پر کبھی کوئی چیز مارتے ہیں، تو کبھی لوہے جیسی کوئی چیز پٹختے یا گھسیٹتے ہیں۔ ان کے باتھ روم کے دروازے لوہے کے ہیں، جنہیں یہ اتنے زور سے کھولتے اور بند کرتے ہیں کہ دور تک آواز جاتی ہے۔ یہ انتہائی بے حس لوگ ہیں، انہیں نہ اپنے بوڑھے باپ کی عزت کا خیال ہے، نہ محلے والوں کا اور نہ ہی ہم پڑوسیوں کی مشترکہ دیوار کا لحاظ ہے۔
اس عورت اور اس کے بیٹے کا شور شرابا اب ہماری برداشت سے بالکل باہر ہو چکا ہے۔ میں عصر کے بعد 500 بار ’’یا قھارُ، یا جبّارُ‘‘ کی تسبیح بھی پڑھتا ہوں، جو ایک شاہ صاحب نے بتائی تھی، اور اس کے علاوہ میں 41 بار سورۂ لہب بھی پڑھتا ہوں۔ 4 سال ہو چکے ہیں، لیکن ان کا شور شرابا بند نہیں ہو رہا۔
آپ کچھ ایسا وظیفہ بتائیں یا دعا فرمائیں کہ یہ فیملی یہاں سے خود ہی کہیں اور شفٹ ہو جائے، یا مکان مالک ان سے خود گھر خالی کروا لے۔ محلے کے کچھ گھر ان سے ڈرتے ہیں، اس لیے منہ پر کچھ بولتے نہیں، مگر کبھی پتھر تو کبھی کچرا ان کی چھت پر پھینک کر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔آپ اللہ کے لیے ہمیں اس فیملی سے نجات کا کوئی راستہ بتا دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس مشکل صورتِ حال میں درج ذیل امور کا اہتمام کریں:
1۔ صلوٰۃ الحاجت: دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی مشکل کے حل اور اس تکلیف سے نجات کے لیے دعا کریں۔
2۔ آیتِ کریمہ کا ورد: کثرت سے ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ‘‘ کا ورد کریں۔
3۔ استغفار: کثرت سے استغفار پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور گناہوں سے اجتناب کا اہتمام کرے ۔
4۔ صدقہ: اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے ذریعے اس مشکل اور پریشانی کے دور ہونے کی دعا کریں۔
حوالہ جات
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


