| 92468 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ اگر کسی لڑکے اور لڑکی کی شادی ہو رہی ہو اور لڑکی والے شادی کے موقع پر یہ مطالبہ کریں کہ بارات کے کھانے وغیرہ کے جو اخراجات ہوں، مثلاً کھانا پکوانے کی اجرت یا دیگر انتظامات کے اخراجات، وہ لڑکے والے ادا کریں۔ اسی طرح اگر شادی کی کسی رسم کے لیے کرسی رکھی جائے اور اس کے-/ Rs. 30,000 لڑکے والوں سے طلب کیے جائیں، کیا شرعاً لڑکی والوں کا اس طرح کے اخراجات لڑکے والوں سے طلب کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح صرف طبعی خواہش اور شخصی ضرورت کی تکمیل کا نام نہیں، بلکہ ایک شرعی اور بابرکت عقد ہے؛ اس لیے نکاح کے معاملات میں شرعی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ کسی ناجائز رسم و رواج یا معاشرتی دباؤ کی بنا پر نکاح کو ایسے مالی مطالبات کا پابند کرنا درست نہیں جنہیں شریعت نے لازم نہیں کیا۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی والوں کی طرف سے بارات کے کھانے، کھانا پکوانے کی اجرت یا دیگر انتظامات کے اخراجات لڑکے والوں سے اس طور پر طلب کرنا کہ انہیں یہ اخراجات بہرحال ادا کرنے ہوں گے، شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح شادی کی کسی رسم، مثلاً کرسی رکھنے یا کسی دوسری رسم کے نام پر لڑکے والوں سے تیس ہزار روپے یا کوئی اور رقم طلب کرنا بھی شرعاً درست نہیں۔
یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ شوہر کے ذمہ نکاح کی وجہ سے مہر ادا کرنا اور نکاح کے بعد بیوی کا نفقہ لازم ہوتا ہے؛ اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے شادی کے کھانے، انتظامات یا رسوم کے اخراجات لڑکے والوں پر لازم نہیں کیے جاسکتے۔ لہٰذا محض رسم و رواج یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے لڑکے والوں سے ایسی رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ بالخصوص اگر شادی رک جانے یا رشتہ ختم ہوجانے کے اندیشے سے انہیں مجبور کرکے رقم وصول کی جائے تو یہ ناجائز طریقے سے دوسرے کے مال کے حصول کے مشابہ ہے، اور فقہائے کرام نے اس قسم کے جبری مالی مطالبات کو رشوت کے حکم میں قرار دیا ہے۔
البتہ اگر لڑکے والے کسی شرط، مطالبے یا رسم کی پابندی کے بغیر اپنی خوشی اور رضامندی سے لڑکی والوں کے شادی کے اخراجات میں تعاون کریں، یا بارات وغیرہ کے کھانے کا انتظام اپنے ذمہ لے لیں، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ یہ باہمی رضامندی اور خوش دلی سے تعاون کی صورت ہے۔ تاہم اسے رسم، شرط یا لازم حق قرار دے کر اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح پھول، کرسی یا دیگر رسوم کے نام پر لڑکے والوں سے رقم کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں۔ ایسی رسوم کو معاشرتی رواج کی وجہ سے لازم سمجھنا اور ان کے بغیر شادی کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے دونوں خاندانوں کو چاہیے کہ ایسی غیر ضروری رسوم اور مالی مطالبات سے اجتناب کریں۔
نکاح کو غیر ضروری اخراجات اور رسم و رواج کا بوجھ بنانے کے بجائے سادگی اور سنتِ نبوی کے مطابق انجام دینا چاہیے۔ شادی بیاہ میں رائج ایسی رسوم جن کی بنا پر ایک فریق پر بلاوجہ مالی بوجھ ڈالا جاتا ہے، انہیں ترک کرنا چاہیے اور نکاح کو آسان بنانا چاہیے، تاکہ اس مبارک رشتے میں خیر و برکت پیدا ہو۔
حوالہ جات
القرآن الكريم[النساء: 29]
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾
«شرح معاني الآثار - ط مصر» (4/ 241):
عن عمرو بن يثربي، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال «لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه»
(ردالمحتار مع الدرالمختار ، كتاب النكاح ، باب المهر ، ج: 4 ص: 307):
(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة. (قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة.
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 327):
«ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


