03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گستاخی دیکھ کر خاموش رہنے کا شرعی حکم
92433ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

میں شدید ذہنی دباؤ اور مذہبی وسوسوں کا شکار ہوں۔ میرے دماغ میں بدترین کفر کے خیالات آتے ہیں اور میرا دماغ مجھے بار بار ایک ہی بات پر ڈراتا رہتا ہے۔ براہِ کرم میرے اس سوال کا واضح شرعی جواب عنایت فرما کر میری جان لیوا اذیت کو دور فرمائیں۔سوال یہ ہے کہ: اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں، یا پاک ہستیوں (انبیاء کرام، امہات المؤمنین، اہل بیت) کے مزاراتِ مقدسہ کے پاس جا کر ان کی شان میں کوئی شدید ترین گھٹیا حرکت، بے ادبی یا گستاخی کرے جس سے انہیں تکلیف پہنچے؛ اور میں وہاں موجود ہونے کے باوجود، بغیر کسی مجبوری یا بغیر کسی ظاہری کمزوری کے، محض اپنی مرضی سے بھی خاموش رہوں اور کوئی آواز نہ اٹھاؤں، تو کیا محض اس خاموشی کی وجہ سے میں دائرہ اسلام سے خارج یا کافر ہو جاؤں گا؟ یا میں مسلمان ہی رہوں گا؟

یاد رہے کہ میرا دل اس گستاخی پر بالکل راضی نہیں ہے اور میں اس خیال سے ہی شدید تڑپ اور خوف میں مبتلا ہوں، لیکن میرا دماغ مجھے بار بار اس مفروضے پر کافر ہونے کا ڈر دلا رہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسؤلہ میں آپ  دائرہ اسلام سے خارج یا کافر نہیں ہوئے بلکہ بدستور مسلمان ہیں؛ کیونکہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے کفر کا حکم اس وقت لاگو ہوتا ہے جب انسان دل کے ارادے اور رضا مندی سے کفر کو اختیار کرے یا اس پر خوش ہو، جبکہ آپ کا دل اس گستاخی پر سخت مضطرب،  اور خوف زدہ ہے، جو کہ بذاتِ خود آپ کے  ایمان کی علامت ہے۔  

البتہ ،ایک مسلمان ہونے کے حیثیت سے اور  "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے دینی تقاضہ کے مطابق اگر کسی کے سامنے کوئی توہین آمیز یا گستاخانہ   حرکت ہو رہی ہو، تو اسے چاہیے کہ اگر اس کے پاس قانونی اختیار ہو تو وہ اسے عملی طور پر روکے، ورنہ کم از کم زبان سے اس کی مذمت کرے اور منع کرے، اور اگر انفرادی طور پر روکنا ممکن نہ ہو تو فوراً متعلقہ انتظامیہ یا اداروں کو مطلع کرے تاکہ قانونی طریقے سے اس کا سدِ باب کیا جا سکے۔

حوالہ جات

مرقاۃ المفاتیح (كتاب الآداب، باب الأمر بالمعروف، ج: 8، ص: 3208، ط: دار الفكر)

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌من ‌رأى ‌منكم ‌منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/344)

(الایمان) ھو تصدیق محمد صلی اﷲ علیہ وسلم فی جمیع ما جاء بہ عن اﷲ تعالیٰ مما علم مجیئہ ضرورۃً والکفر لغۃ الستروشرعاً تکذیبہ صلی اﷲ علیہ وسلم فی شیء مما جاء بہ من الدین ضرورۃ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/345)

 (و) اعلم أنہ لا یفتی بکفر مسلم أمکن حمل کلامہ علی محمل حسن أو کان فی کفرہ خلاف ولو کان ذلک روایۃ ضعیفۃ کما حررہ فی البحر وعزاہ فی الأشباہ إلی الصغری الخ۔

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

22/ربیع الثانی /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب