03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم
92394میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 حاجی محمد رفیق  کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی کا انتقال حاجی محمد رفیق  اور ان کی اہلیہ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔ کچھ سال بعد حاجی محمد رفیق  کا انتقال ہو گیا۔ بیٹوں نے ان کا تمام مال آپس میں تقسیم کر لیا اور ماں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ دیا، مگر دونوں بیٹیاں محروم رہیں۔ بہنوں کے مطالبہ پر تعلق ختم کرنے وغیرہ کا کہا، لیکن حصہ نہ دیا۔ بہنوں کی اولاد نے ہر موقع پر حصہ کی بات کی، لیکن فائدہ نہ ہوا۔ عدالت تک بات گئی تو بھائیوں نے کہا کہ ہمیں کچھ موقع دو، تمہیں تمہارا حصہ مل جائے گا، لیکن حصہ نہیں دیا۔

اس دوران سب سے بڑے بھائی، حاجی عبدالرزاق  کاانتقال ہو گیا، ماں اپنی زندگی میں بہنوں پر دباؤ ڈالتی رہی کہ اپنے حصوں سے دستبردار ہو جاؤ۔ لیکن علمائے کرام نے فرمایا کہ معاف کرنے سے حصہ معاف نہیں ہوتا، ادائیگی ضروری ہے۔ اس پر بھائیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھ نہ کچھ دے کر بہنوں سے انگوٹھے لگوا کر حصہ کی کہانی ختم کر دیتے ہیں، لیکن اس پر بہنیں راضی نہ ہوئیں اور کہا کہ ہمیں زیادہ نہیں چاہیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارا جو حصہ مقرر کیا ہے، وہ پورا دینا ہوگا۔ اب کیس دوبارہ عدالت میں پیش کیا ہے۔

اب آپ حضرات سے گزارش ہے کہ مذکورہ سوالات کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل انداز میں عنایت فرمائیں، کیونکہ بعض بھائی عالم فاضل ہیں اور باقی بھی دین سے مناسبت رکھتے ہیں، اور ان سے کسی نے کہا ہے کہ بہنوں کو تھوڑا بہت دے کر راضی کر لو، عنداللہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

جس بھائی کا انتقال ماں کی حیات میں ہوا ہے، اس کا چھٹا حصہ ماں کو ملنا چاہیے تھا، جو نہیں ملا، اور پھر ماں کا بھی انتقال ہو گیا۔ ماں کو آٹھواں حصہ جو حاجی محمد رفیق صاحب سے ملنا ہے، اور جس بیٹے کا حصہ ماں کو ملنا ہے، ان میں بھی تقسیم کا عمل ہوگا اور کس طریقے سے ہوگا؟

آپ حضرات قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جوابات تحریر فرمائیں، جو عدالت میں پیش کیے جا سکیں اور اس پر فیصلہ ہو،تاکہ برسوں کا یہ تنازعہ ختم ہو اور کوئی دشمنی جنم نہ لے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔شریعتِ مطہرہ نے جس طرح مردوں کو میراث میں حصہ دیا ہے اسی طرح عورتوں کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔ لہٰذا  کسی بھائی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بہنوں کو میراث سے محروم کردے۔ چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:

 لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا [النساء: 7]

ترجمہ:مردوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ(ترکہ)تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ(اللہ کی طرف سے)مقرر ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)

اس لئے میراث میں بھائیوں کا بہنوں کو ان کا حصہ نہ دیناغصب اور ظلم ہےاور ناحق دوسروں کا مال کھانے پر احادیث میں سخت وعیدوارد ہے،چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی ناحق لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔

صورت مسئولہ میں مرحومین (حاجی محمد رفیق،ان کے بیٹےحاجی عبدالرزاق  ،حاجی محمد رفیق کی اہلیہ) کی میراث مندرجہ ذیل طریقےپر تقسیم کی جائے گی۔

  والد حاجی محمد رفیق  کی وراثت کی تقسیم: حاجی محمدرفیق کے ترکہ سے مسنون   تجہیز وتکفین ،قرض کی ادائیگی اور اگر حاجی محمدرفیق نے  کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی تھی تو ثلث ترکہ سے اس کی ادائیگی کےبعد  بقیہ ترکہ کو ان کی وفات کے وقت موجود زندہ ورثا ءمیں تقسیم کیا جائے گا۔صورت مسئولہ میں حاجی محمد رفیق  کا ترکہ ان کی اہلیہ، سات بیٹوں اور دو بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔جس بیٹی کی وفات حاجی محمدرفیق کی زندگی میں ہوگئی تھی اس کو حاجی صاحب کے ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا۔اہلیہ کو12.5%،ہر بیٹے کو ترکہ سے 10.9375% حصہ ملے گا اور بیٹی کو 5.4687%حصہ ملے گا۔

نمبر شمار

ورثاء10

عددی حصے128 

فیصدی حصے 100%

1

اہلیہ

16

12.5%

2

بیٹا

14

10.9375%

3

بیٹا

14

10.9375%

4

بیٹا

14

10.9375%

5

بیٹا

14

10.9375%

6

بیٹا

14

10.9375%

7

بیٹا

14

10.9375%

8

بیٹا

14

10.9375%

9

بیٹی

7

5.4687%

10

بیٹی

7

5.4687%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حاجی عبدالرزاق  )بیٹے( کی وراثت کی تقسیم: سائل کی تنقیح کے مطابق، حاجی عبدالرزاق کی وفات کے وقت  ان کے ورثاءمیں والدہ (حاجی محمدرفیق کی اہلیہ)ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔اس صورت میں والدہ کو ترکہ سے 16.6666% حصہ ملے گا،جبکہ ہر بیٹے کو 18.5185%حصہ ملے گا اور ہر بیٹی کو9.2585% حصہ ملے گا۔

نمبر شمار

ورثاء8

عددی حصے54

فیصدی حصے 100%

1

والدہ

9

16.6666%

2

بیٹا

10

18.5185%

3

بیٹا

10

18.5185%

4

بیٹی

5

9.2585%

5

بیٹی

5

9.2585%

6

بیٹی

5

9.2585%

7

بیٹی

5

9.2592%

8

بیٹی

5

9.2592%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

والدہ حاجی محمد رفیق  کی اہلیہ کی میراث کی تقسیم: جس بیٹے کا انتقال ماں کی حیات میں ہوا ہے،اس کے ترکہ سے ماں چھٹے حصہ کی  اور حاجی محمدرفیق صاحب(شوہر) کی میراث سے آٹھویں حصے کی حق دار ہے۔اگر ماں کو اس کی  زندگی میں یہ حصہ نہیں ملاتھا،تو ماں کی وفات سے اس کا حصہ ختم نہیں ہوگا، بلکہ یہ  حصہ اس کی میراث میں شمارہوگااور ماں کی وفات کے وقت جوورثاء موجود تھے،ان کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا  ۔ مرحومہ کے ورثا ءمیں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔ ہر بیٹے کو14.2857% حصہ ملے گا اور  ہربیٹی  کو 7.1428%حصہ ملے گا۔

نمبر شمار

ورثاء8

عددی حصے14 

فیصدی حصے 100%

1

بیٹا

2

14.2857%

2

بیٹا

2

14.2857%

3

بیٹا

2

14.2857%

4

بیٹا

2

14.2857%

5

بیٹا

2

14.2857%

6

بیٹا

2

14.2857%

7

بیٹی

1

7.1428%

8

بیٹی

1

7.1428%

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 758):

وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(8/ 558):

ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث

شرح الزيادات - قاضي خان (3/ 837):

ولو ظهر دّين، أو وصية، يقضي دَينه من الزوائد الحادثة قبل القسمة، ويعتبر قيمة الوصية يوم القسمة، فكانت ملكا للموصي له، ولغيره حق التملّك، وهو معنى ما قال»مشايخنا: إن التركة قبل القسمة مبقاة على حكم ملك الميّت، فكان الكسب حاصلا على ملك الموصي له، وللوارث فيه سبب الملك.

عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

21/ربیع االثانی /1448ھ            

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب