| 92395 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
۱۔حاجی محمد رفیق کاروباری شخص تھے۔ جائیداد کے علاوہ دکان اور نقدی بھی تھی، جو ان بھائیوں کے استعمال کی وجہ سے کافی بڑھ گئی ہے۔ کیا اس بڑھوتری اور نفع میں بہنیں شریک ہیں؟
۲۔عرصہ 23 سال سے زمینوں کی آمدنی بھی بھائی کھاتے رہے ہیں، اس کی کیا صورت ہوگی؟ مکانات میں بھائی رہتے ہیں۔
۳۔ایک بھائی کی شادی حاجی محمد رفیق صاحب کی وفات کے بعد ہوئی، اس کو شادی کے لیے اضافی کافی رقم دی گئی کہ یہ اس کا حق ہے، اس کی کیا صورت ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔واضح رہے کہ مورث کی وفات کےبعد ترکہ مشترکہ طور پر سب ورثا ء کی ملکیت شمار ہوتا ہے، کوئی ایک وارث بھی ترکہ کی تقسیم کا مطالبہ کرےتو تقسیم ضروری ہوتی ہے۔ایسے ہی ترکہ میں ہونے والے کسی بھی قسم کے اضافے اور بڑھوتری میں سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوتے ہیں۔صورت مذکورہ میں جائیدادمیں ہونے والی بڑھوتری میں بہنیں اپنے حصے کے مطابق مستحق ہوں گی۔بہنوں کو ان کا حصہ دینے سےانکارکرنے کی وجہ سے بھائی غاصب شمارہوں گے۔ غاصب کےقبضہ میں مغصوبہ چیز میں اگر کوئی اضافہ ہوتا ہے تو وہ مالک کا مملوک ہوتاہے،غاصب پر اس کی واپسی لازم ہوتی ہے اور غاصب نے اگر اپنی طرف سے مغصوبہ چیز کی حفاظت وغیرہ پر اخراجات کیے ہوں تو اس کے مطالبے کا اس کو حق نہیں ہوتا۔لہذا، میراث اور اس میں ہونے والی بڑھوتری میں بہنیں اپنےشرعی حصے کی بقدر حقدار ہوں گی۔
۲۔زمین اور زمین سے آنے والی آمدن میں سب ورثاء اپنے حصوں کے مطابق حقدار ہوں گے۔بھائیوں کے لیے زمین اور اس کی آمدن سے اپنے حصے کے بقدر لینا جائز ہے اور بہنوں کا حصہ جو انہوں نے استعمال کیا ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔ سائل کی تنقیح کے مطابق مکانات رہائشی تھے ،انہیں کرائے پر دے کر آمدنی حاصل نہیں کی جاتی تھی،تو بہنوں کو مکانات سےصرف اپنے شرعی حصے کے مطالبہ کا حق ہے،اس کے علاوہ بھائیوں پر رہائش کی وجہ سے اجرت مثل لازم نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ حنفیہ کے نزدیک غصب شدہ چیز کے منافع عام حالات میں مضمون نہیں ہوتے، البتہ اگر مالِ یتیم یا مالِ وقف یا مغصوبہ چیزمعد للاستغلال (معد للاستغلال کا مطلب یہ ہے کہ مغصوبہ چیز ذریعہ آمدن کے طور پر استعمال ہوتی ہو، جیسے گھر وغیرہ کرایہ پر دے کر ماہانہ کرایہ حاصل کرنا) ہو،تو ان تین صورتوں میں مارکیٹ کے عرف کے مطابق اس کا ماہانہ کرایہ غاصب کے ذمہ لازم ہوتا ہے۔رہائشی گھر چونکہ ان تین چیزوں میں داخل نہیں، اس لیے اس کا کرایہ بطورِ ضمان بھائیوں کے ذمہ لازم نہیں ہو گا۔
۳۔صورت مذکورہ میں والد کی وفات کے بعدیہ بھائی والد کی میراث سے اپنے شرعی حصے کا حق دار ہے۔مشترکہ ترکہ سے جو کچھ دیا گیا ہے اگروہ اس کے حصے کے بقدر یا کم ہے ،تووہ اس کا حصہ شمار ہوگا،زیادہ ادائیگی کی صورت میں اضافہ واپس کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ دیگر بھائی اپنی خوشی سے اپنے ترکہ کے حصے سے اس بھائی کو کچھ دینا چاہیں، تو یہ ایک مستقل ہبہ ہوگا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 758):
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(8/ 558):
ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن يجيز الورثة أكثر من الثلث ويقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث
شرح الزيادات - قاضي خان (3/ 837):
ولو ظهر دّين، أو وصية، يقضي دَينه من الزوائد الحادثة قبل القسمة، ويعتبر قيمة الوصية يوم القسمة، فكانت ملكا للموصي له، ولغيره حق التملّك، وهو معنى ما قال»مشايخنا: إن التركة قبل القسمة مبقاة على حكم ملك الميّت، فكان الكسب حاصلا على ملك الموصي له، وللوارث فيه سبب الملك.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 494)
إن هذا التعبير عام ويستفاد من عموميته أنه كما يعد أخذ الأجنبي غصبا يعد أخذ القريب لصاحب المال أوالشريك في ذلك المال غصبا أيضا. مثلا لو أخذ وضبط أحد مال أبيه أو زوجته بدون إذنهما يكون غاصب
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 563)
إن زوائد المغصوب أي زوائد المغصوب المتصلة المتولدة أو المنفصلة المتولدة الحاصلة في يد الغاصب بعد الغصب هي لصاحبها يعني أنها مال المغصوب منه وهذا المال أمانة في يد الغاصب واجبة الرد. فكونه مال المغصوب منه ناشئ عن كونه نماء مال وكونه أمانة هو لكون تلك الزيادة حاصلة في يد الغاصب بإيجاد الباري تعالى وليس للغاصب فعل وصنع كإزالة اليد المحقة عنده فلذلك ليس في تلك الزيادة غصب حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 637)
(نفقة العبد المغصوب على الغاصب إلى أن يرده إلى مالكه، فإن طلب) الغاصب (من القاضي الأمر بالنفقة أو البيع لا يجيبه) ؛ لأنه مضمون عليه
عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/ربیع االثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


