| 92396 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
حاجی محمد رفیق نے اپنی زندگی میں تین بیٹوں، حاجی عبدالرزاق ، مولانا محمد شفیع ، جناب گل رزاق ، کو نقدی میں کچھ رقم دی تھی اور کہا تھا کہ یہ تمہارا نقدی کا حصہ ہے، صرف زمینوں میں تم حصہ دارر ہو گے۔ حاجی محمدر فیق کے انتقال کے بعد اس پر باقاعدہ عمل ہوا، دکان اور نقدی و دیگر مالیت چاروں بھائیوں، مولانا احمد رزاق، جناب فضل رزاق ، مولانا فضل الباری ، حاجی محمد، اور والدہ کے درمیان تقسیم ہوئی، جبکہ دونوں بہنیں محروم کر دی گئی۔
اب یہ تین بھائی اس پر راضی ہیں کہ وہ والد صاحب کی حیات میں اپنا حصہ لے چکے ہیں اور دستبردار ہو چکے ہیں۔ اب یہ پوچھنا ہے کہ ان تین بھائیوں کو حاجی محمد رفیق نے اپنی حیات میں نقدی دی تھی، تو کیا اس کی وجہ سے والد صاحب کے ترکہ کی نقدی میں ان کا حصہ مکمل طور پر ساقط ہو جائے گا، یا جتنی نقدی ملی تھی، اس کی بقدر ان کا حصہ ساقط ہوگا؟ یامکمل طور پر انہیں حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ میں میراث ایک جبری حق ہے جو مورث کی وفات کے ساتھ خود بخود وارث کے لیے ثابت ہو جاتاہے ،وارث چاہے مرد ہو یا عورت ہو۔ لہٰذا بھائیوں کا میراث آپس میں تقسیم کرکے بہنوں کو حصہ نہ دینا ظلم اورزیادتی ہے۔بہنیں والد کی میراث میں اپنے شرعی حصہ کے مطابق حق دار ہے۔اسی طرح وفات سے پہلے یا تقسیم سے پہلے کسی وارث کا صریحاً یہ کہہ دینا کہ میں اپنے حصے سے دستبردار ہوتا ہوں شرعاً لغو اور باطل ہے، اور اس سے اس کا شرعی حصہ ساقط نہیں ہوتا۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر کے قبضہ کروا دے،تو شرعا یہ عمل ہبہ کہلاتا ہے۔اسے میراث کی تقسیم نہیں کہا جا سکتا ،اس لیے کہ میراث کا تعلق موت کے بعدسےہے۔صورت مذکورہ میں ان تین بھائیوں کو والد کی زندگی میں حاصل ہونے والی نقدی کا حکم ہبہ کا ہے ۔والد کی وفات کے بعدترکہ میں یہ بدستور وارث رہیں گے اور وفات کے وقت والد کی ملکیت میں موجود مال میں اپنے حصے کے حق دار ہوں گے۔اگر وہ تینوں بھائی والد کے ساتھ کیے گئے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے ترکہ میں موجود نقدی کے حصے سے الگ ہونا چاہتے ہوںاس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ تینوں بھائی ترکہ میں سے کوئی قلیل یا کثیر معین مال (مثلاً زمین میں سے اپنا حصہ) قبول کر کے بقیہ ترکہ (نقدی وغیرہ) سے دیگر ورثاء کے حق میں باہمی رضامندی سے دستبردار ہو جائیں۔ اس عمل کو فقہی اصطلاح میں'تخارج' کہا جاتا ہے۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 26):
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 354):
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل،
عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/ربیع االثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


