| 92386 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بعض لوگ خانہ کعبہ کی طرف پاؤں نہیں کرتے اور اسے خلاف ادب و احترام سمجھتے ہیں۔ کیا خانہ کعبہ کی طرف پاؤں کرنے سے منع کرنے کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی صریح دلیل ملتی ہے، یا صرف ادب و احترام کی وجہ سے لوگ ایسا کرتے ہیں؟
اگر کوئی شخص خانہ کعبہ کی طرف پاؤں کرکے بیٹھے یا لیٹے تو کیا یہ شرعاً ناجائز اور گناہ ہوگا، یا صرف ادب و احترام کے خلاف ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احادیثِ مبارکہ میں قبلہ کی طرف تھوکنے اور قبلہ رُخ ہو کر قضائے حاجت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ فقہائے کرام نے انہی نصوص سے یہ ضابطہ اخذ کیا ہے کہ قبلہ کی جہت واجب التعظیم ہے، اور اس کی طرف بے ادبی کا تاثر دینے والے ہر عمل سے بچنا ضروری ہے۔ اسی ضابطے کے تناظر میں فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ بلاعذر اور جان بوجھ کر قبلہ کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا یا سونا مکروہِ تحریمی، یعنی گناہ ہے؛ کیونکہ اس میں قبلہ کی تعظیم کا ترک لازم آتا ہے۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني» (5/ 317):
قال محمد رحمه الله: وأكره أن تكون قبلة المسجد إلى المخرج أو الحمام أو القبر. يجب أن تعلم بأن جهة القبلة جهة يجب تعظيمها، والتحرز عن الاستخفاف بها، جاء عن النبي عليه السلام «نهى أن يبزق الرجل في جهة القبلة»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 319):
«ويكره مد الرجلين إلى الكعبة في النوم وغيره عمدا، وكذلك إلى كتب الشريعة، وكذلك في حال مواقعة الأهل، كذا في محيط السرخسي.
يكره أن تكون قبلة المسجد إلى المتوضأ، كذا في السراجية.»
عبدالغفوربن خان ولی
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
22 /ربیع الثانی /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفور بن خان ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


