| 92355 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
میری پہلی شادی سے میرے تین بچے ہیں۔ میرے پہلے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میری دوسری شادی ہوئی۔ میری دوسری شادی کے وقت میرے بچے بہت چھوٹے تھے؛ میرا بیٹا تقریباً 6 یا 7 سال کا تھا۔
میرے دوسرے شوہر کو شروع ہی سے فحش اور نازیبا ویڈیوز دیکھنے کی عادت تھی۔ میں انہیں اس سے منع کرتی رہی، لیکن وہ اس عادت سے باز نہیں آئے۔
چونکہ مجھے اپنے بچوں کے بارے میں تشویش رہتی تھی، اس لیے میری والدہ، میری بہنوں اور میں نے بھی بچوں کو سمجھایا ہوا تھا کہ وہ اپنے سوتیلے والد کے ساتھ اکیلے نہ بیٹھیں، احتیاط کریں اور کسی بھی نامناسب لمس یا حرکت کی صورت میں فوراً مجھے بتائیں۔ میرے بچے بھی سمجھدار تھے اور محتاط رہتے تھے۔
ایک رات شدید گرمی کی وجہ سے ہم اوپر سو رہے تھے۔ تقریباً رات 2 بجے تک میرے شوہر فحش ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔ میں نے انہیں منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئے۔ میرے دل میں پہلے ہی اپنے بچوں کے حوالے سے خوف اور تشویش پیدا ہو چکی تھی، اس لیے میں رات کو اس وقت تک نہیں سوتی تھی جب تک وہ خود نہ سو جائیں۔ لیکن ایک رات شدید تھکن کی وجہ سے میری آنکھ لگ گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ میرے شوہر اپنے موبائل پر کالج کی بچیوں کی نازیبا/فحش ویڈیوز دیکھ رہے تھے اور بظاہر شہوانی کیفیت میں یہ ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔
اس کے بعد جب میں نماز کے لیے اٹھی تو میری بیٹی اپنے بستر پر موجود نہیں تھی۔ میں نیچے گئی تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ "بابا نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا، تو میں اٹھ گئی۔"میں نے اس سے پوچھا کہ کون تھا؟ اس نے کہا کہ "بابا۔" اس وقت میرے شوہر نے صرف شلوار پہن رکھی تھی اور وہ کمرے کی طرف چلے گئے۔ وہاں میری بیٹی کے بستر پر کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔میں نے اپنی بیٹی کو اٹھایا اور اسے اپنے ساتھ رکھا۔
اس کے علاوہ، میری شادی کے ابتدائی زمانے میں، جب میرا بیٹا تقریباً 6 یا 7 سال کا تھا، میرے شوہر نے اس کے ساتھ بھی نامناسب حرکت کرنے کی کوشش کی۔ وہ کبھی اس کی شلوار اتار دیتے تھے اور اس کے جسم کو نامناسب طریقے سے چھوتے تھے۔ میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ "امی، دو چار مرتبہ میری شلوار ایسی کھلی ہوئی تھی جیسے کسی نے کھولی ہو، اور آخری مرتبہ مجھے لگا کہ یہ بابا تھے، جو میرے جاگنے پر نیچے چلے گئے۔"
جب میرے بیٹے نے یہ بات سب کو بتائی تو میرے شوہر نے جواب دیا کہ "میں تو مذاق میں دیکھ رہا تھا کہ اس کا عضو تناسل کھڑا ہو رہا ہے یا نہیں۔"
اب میری گزارش ہے کہ ان تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے شریعتِ مطہرہ کے مطابق مکمل شرعی حکم بتایا جائے۔
خصوصاً درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
- میرے منع کرنے کے باوجود ، میرے شوہر کا مسلسل فحش اور نازیبا ویڈیوز دیکھنا، میری بیٹی کے سینے پر ہاتھ رکھنا، رات کے وقت اس کے قریب جانا کم عمر بیٹے کے کپڑے اتارنا، اس کے جسم اور ستر کو دیکھنا یا چھونا اور اس سلسلے میں شوہر کا بیان کہ "میں دیکھ رہا تھا کہ اس کا عضو تناسل کھڑا ہو رہا ہے یا نہیں" شرعاً کس حکم میں ہے؟
- ان تمام واقعات کی وجہ سے کیا میرے شوہر کا میری اولاد کے ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے؟ کیا مجھے اپنے بچوں کو ان کے ساتھ تنہائی میں رہنے سے روکنا لازم ہے؟
- کیا ان حرکات سے حرمتِ مصاہرت یا میرے اور میرے شوہر کے نکاح پر کوئی شرعی اثر پڑتا ہے؟ کیا ایسی صورتِ حال میں میرے لیے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے؟
- کیا میرے لیے اس نکاح کو ختم کرنے یا علیحدگی اختیار کرنے (خلع لینے)کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟
- اگر میرے شوہر توبہ کا دعویٰ کریں، تو کیا صرف توبہ کافی ہے یا بچوں کی حفاظت کے لیے مزید احتیاط ضروری ہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح اور مکمل فتوی عطا فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
.1شریعتِ مطہرہ میں نامحرم عورتوں اور فحش مناظر کو دیکھنا شدید حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ سائلہ کے منع کرنے کے باوجود شوہر کا مسلسل فحش و نازیبا ویڈیوز دیکھنا شریعتِ مطہرہ میں شدید نازیبا، گناہِ کبیرہ اور کھلم کھلا فسق ہے۔ اسی طرح بیٹی کو غلط نظر سے چھونا اور بیٹے کے ساتھ بھی اسی طرح کے قبیح افعال کا ارتکاب کرنا سخت ترین گناہ اور انتہائی قبیح فعل ہے۔ لہٰذا شوہر کو چاہیے کہ ان تمام چیزوں سے سچی توبہ کرے اور آئندہ ان سے مکمل اجتناب کرے۔
.2اگر سائلہ کا شوہر واقعی اس طرح کے قبیح افعال کا مرتکب ہوتا ہے اور سائلہ کو اپنے بچوں کے بارے میں تحفظات ہیں تو سائلہ کے لیے لازم ہے کہ اپنے بچوں کو اپنے سوتیلے والد کے ساتھ خلوت کا موقع نہ دے، اور بچوں کو بھی سمجھائے کہ وہ تنہائی میں اپنے والد کے ساتھ نہ بیٹھیں۔
.3فقہ حنفی میں ان شرائط کی موجودگی میں اگر کوئی شخص سوتیلی بیٹی کو چھوتا ہے تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، اور اس عورت کی ماں اور اولاد اس شخص پر حرام ہوجاتی ہیں۔
جس لڑکی کو چھوا جائے، اس کی عمر نو سال یا نو سال سے زائد ہو، یعنی وہ قابلِ شہوت ہو۔ چھونا شہوت کے ساتھ ہو۔ یہ چھونا بغیر کسی حائل کے ہو، یا اگر کپڑا درمیان میں حائل ہو تو وہ اتنا باریک ہو کہ ہاتھ کو جسم کی حرارت محسوس ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی شوہر نے سائلہ کی بیٹی کو مذکورہ شرائط کے ساتھ چھوا تھا تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، اور سائلہ کا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ تاہم صرف اندازے یا گمان سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ،لہذا جب تک دو گواہ یا شوہر کا اقرار نہ پایا جائے آپ حرمت کے ثبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
.4عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب حرمتِ مصاہرت بھی ہے۔ یعنی اگر میاں بیوی کے درمیان حرمتِ مصاہرت واقع ہوجائے اور شوہر اس کے باوجود بیوی کو اپنے پاس رہنے پر مجبور کرے تو بیوی گواہوں کے ذریعے عدالت میں اس حرمت کو ثابت کرکے عدالت کے ذریعے شوہر سے زبردستی تنسیخ نکاح کا فیصلہ لے سکتی ہے۔
.5اگر شوہر توبہ کرتا ہے تو یہ اس کا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملہ ہے۔ اگر وہ اپنے دعوے میں سچا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور معاف فرمائیں گے۔ البتہ اگر سائلہ سمجھتی ہے کہ شوہر کے افعال اور ارادے درست نہیں ہیں تو سائلہ پر لازم ہے کہ اپنے بچوں کو اس کے سوتیلے والد سے دور رکھے۔ نیز صرف توبہ کرنے سے ثابت شدہ حرمت مصاہرۃ ختم نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (3/ 88)
وحكى الطحاوي إجماع السلف في أن التقبيل واللمس عن شهوة يوجب حرمة المصاهرة، والأصل فيه قوله تعالى: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} [النساء: 22] ، والحمل على الوطء أولى؛ لما بينا أن النكاح حقيقة هو الوطء، أو لأنه أعم فكان الحمل عليه أولى وأعم فائدة، فيصير معنى الآية - والله أعلم -: ولا تطئوا ما وطئ آباؤكم مطلقا، فيدخل فيه النكاح والسفاح، ولقوله - عليه الصلاة والسلام -: «من زنى بامرأة حرمت عليه أمها وبنتها» ، وقال - عليه الصلاة والسلام -: «من نظر إلى فرج امرأة بشهوة أو لمسها بشهوة حرمت عليه أمها وابنتها وحرمت على ابنه وأبيه» .
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 221)
(قوله ومن مسته امرأة بشهوة) أي بدون حائل أو بحائل رقيق تصل معه حرارة البدن إلى اليد. وقيل المدار وجود الحجم، وفي مس الشعر روايتان، ونقل فيه اختلاف المشايخ ومسه امرأة كذلك، ويشترط كونها مشتهاة حالا أو ماضيا، فلو مس عجوزا بشهوة أو جامعها تثبت الحرمة، وكذا إذا كانت صغيرة تشتهى، قال ابن الفضل: بنت تسع سنين مشتهاة من غير تفصيل، وبنت خمس سنين فما دونها لا بلا تفصيل، وبنت ثمان أو سبع أو ست إن كانت عبلة كانت مشتهاة وإلا فلا. وكذا يشترط في الذكر حتى لو جامع ابن أربع سنين زوجة أبيه لا تثبت به حرمة المصاهرة، وهذا ما وعدناه من قريب. ولا فرق في ثبوت الحرمة بالمس بين كونه عامدا أو ناسيا أو مكرها أو مخطئا، حتى لو أيقظ زوجته ليجامعها فوصلت يده إلى بنته منها فقرصها بشهوة وهي ممن تشتهى يظن أنها أمها حرمت عليه الأم حرمة مؤبدة، ولك أن تصورها من جانبها بأن أيقظته هي كذلك فقرصت ابنه من غيرها وقوله بشهوة في موضع الحال فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه. وما ذكر في حد الشهوة من أن الصحيح أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو قول السرخسي وشيخ الإسلام.
الفتاوى الهندية (1/ 276)
وكان الشيخ الإمام الأجل ظهير الدين المرغيناني يفتي بالحرمة في القبلة في الفم والخد والرأس وإن كان على مقنعة وكان يقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة.
وفي البقالي ويصدق إذا أنكر الشهوة في المس إلا أن تقوم آلته منتشرة فيعانقها، كذا في المحيط. ولو أخذ ثديها وقال: ما كان عن شهوة لا يصدق؛ لأن الغالب خلافه وكذا لو ركب معها على دابة بخلاف ما إذا ركب على ظهرها وعبر بها الماء، كذا في الوجيز للكردري.
الدرالمختار(126/8):
وان ادعت الشہوۃ فی تقبیلہ اوتقبیلھا ابنہ وانکرھاالرجل فھومصدق،لاھی الاان یقوم الیھا منتشراآلتہ فیعانقھا لقرینۃ کذبہ اویاخذ ثدیھا اویرکب معھا اویمسھاعلی الفرج.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 6 / ص 290)
والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به ؛ لأنها لا تعلم إلا الظاهر .
شفیع اللہ بن معروف خان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
تاریخ:۲۲،ربیع الثانی، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شفیع اللّٰہ بن معروف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


