03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موسیقی کے ساتھ استعمال ہونے والی پوسٹس ڈیزائن کرنے کا حکم
92436جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

میں ایک طالبِ علم ہوں، یعنی فی الحال کالج میں زیرِ تعلیم ہوں۔ الحمدللہ اس وقت مجھے پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہے، البتہ نکاح کی نیت اور اس کے اخراجات کے لیے میں نے تقریباً دو ماہ پہلے ایک پارٹ ٹائم ملازمت شروع کی ہے۔ میرا کام گرافک ڈیزائننگ اور سوشل میڈیا پوسٹس بنانا ہے۔ میں جن پوسٹس کو ڈیزائن کرتا ہوں، ان میں بذاتِ خود بظاہر کوئی حرام چیز شامل نہیں ہوتی۔ مثلاً خواتین کے کُرتا، شلوار اور شال وغیرہ کے پروڈکٹ شوکیس، جن میں کسی ماڈل یا جاندار کی تصویر نہیں ہوتی، ہوٹل کی تشہیری پوسٹس، کھانے پینے کی اشیاء کی پوسٹس اور اسی نوعیت کے دیگر جائز کاروباروں کی پوسٹس۔ البتہ مسئلہ یہ ہے کہ میرے بنائے ہوئے ہر ڈیزائن کو جب بعد میں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ پسِ منظر میں موسیقی Musicلگا دی جاتی ہے، اور مجھے ڈیزائن بناتے وقت پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی/کلائنٹ ان پوسٹس کو بعد میں موسیقی کے ساتھ استعمال کرے گا۔ میرا کام صرف گرافک پوسٹ تیار کرنا ہے، موسیقی نہ میں بناتا ہوں، نہ پوسٹ میں شامل کرتا ہوں اور نہ ہی اسے اپلوڈ کرنا میری ذمہ داری ہے، لیکن مجھے پہلے سے اس کے استعمال کا علم ہوتا ہے۔ اس صورت میں درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

 1۔ کیا ایسی سوشل میڈیا پوسٹس ڈیزائن کرنا میرے لیے جائز ہے جبکہ مجھے معلوم ہو کہ بعد میں اسے موسیقی کے ساتھ اپلوڈ کیا جائے گا؟

 2۔ اس کام کے عوض ملنے والی میری تنخواہ/آمدنی حلال ہے یا حرام، یا اس میں کراہت یا شبہ ہے؟

 3۔ میں تقریباً دو ماہ سے یہ کام کر رہا ہوں۔ اس دوران حاصل ہونے والی سابقہ آمدنی کا کیا حکم ہے؟

 4۔ میں نے ایک عالم سے سنا تھا کہ ایسی آمدنی میں سے کچھ حصہ صدقہ کردیا جائے۔ اسی وجہ سے میں اپنی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد صدقہ کرتا آرہا ہوں۔ کیا شرعاً ایسا کرنا ضروری ہے؟

 5۔ اگر میں یہ 10 فیصد صدقہ نہ کروں تو کیا میری باقی آمدنی کے حلال یا حرام ہونے کے حکم پر کوئی فرق پڑے گا؟

 6۔ اگر موجودہ ملازمت کی یہ صورت شرعاً درست نہیں تو کیا میرے لیے اسے چھوڑنا ضروری ہوگا، یا کوئی ایسی جائز صورت اختیار کی جاسکتی ہے جس کے تحت میں گرافک ڈیزائننگ کا یہی کام جاری رکھ سکوں؟

براہِ کرم مذکورہ صورتِ حال کا شرعی حکم (فتویٰ) بھی بیان فرما دیں اور میرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصیحت بھی فرما دیں کہ نکاح کے لیے حلال رزق کمانے کی کوشش کرتے ہوئے مجھے آئندہ کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسے سوشل میڈیا ڈیزائن اور پوسٹس بنانا جن میں جاندار کی تصویر یا کوئی صریح حرام چیز شامل نہ ہو، فی نفسہ جائز ہے۔ بعد میں کلائنٹ /کمپنی کا، ان کےپسِ منظر میں موسیقی لگانا اس کا اپنا اختیاری فعل ہے جس کی ذمہ داری اسی پر ہے، البتہ آپ کو پہلے سے اس کا علم ہونے کی وجہ سے اس میں قدرے کراہت اور شبہ ضرور پایا جاتا ہے۔ چونکہ آپ کی اجرت ایک مباح کام کے عوض ہے، اس لیے آپ کی تنخواہ شرعاً حلال ہے، اور یہی حکم گزشتہ دو ماہ کی آمدنی کا بھی ہے جسے آپ اپنی ضروریات اور نکاح کے اخراجات میں استعمال کر سکتے ہیں۔ رہا دس فیصد صدقہ، تو وہ واجب یا ضروری نہیں بلکہ ایک مستحب اور باعثِ برکت عمل ہے، اس لیے اسے جاری رکھیں تو بہتر ہے، اور نہ بھی کریں تو باقی آمدنی کے حلال ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ملازمت فوراً چھوڑنا بھی لازم نہیں ، بہتر صورت یہ ہے کہ آپ کمپنی سے نرمی سے درخواست کریں کہ موسیقی کی جگہ صوتی اثرات یا وائس اوور استعمال کیے جائیں، اور ساتھ ہی آن لائن یا فری لانسنگ کے ذریعے ایسے کلائنٹس تلاش کرتے رہیں جہاں موسیقی کا استعمال نہ ہو، تاکہ آہستہ آہستہ آپ شبہ سے بھی مکمل طور پر بچ سکیں۔ آخر میں نصیحت یہ ہے کہ نکاح کی پاکیزہ نیت کے ساتھ رزقِ حلال کے لیے محنت کرنا بذاتِ خود باعثِ اجر ہے، لہٰذا تقویٰ اختیار کیے رکھیں، کثرت سے استغفار کریں اور پاکیزہ روزگار کی کوشش پر ثابت قدم رہیں۔

حوالہ جات

«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 320):

«(و) جاز (بيع العصير من متخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره، بخلاف بيع السلاح من أهل الفتنة كما مر.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 392):

«(قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية، قال في المنح: وهو صريح في جواز بيع الغلام من اللوطي، والمنقول في كثير من الفتاوى أنه يكره وهو الذي عولنا عليه في المختصر اهـ.»

«المحيط البرهاني» (5/ 358):

وفي «فتاوى أهل سمرقند» : استأجر رجلاً لضرب الطبل؛ إن كان للهو لا يجوز؛ لأنه معصية، وإن كان للعدو والقافلة يجوز؛ لأنه طاعة. وفي «المنتقى» : إبراهيم عن محمد امرأة نائحة، أو صاحب طبل أو مزمار اكتسب قال: إن كان على شرط رده على أصحابهم إن عرفهم يريد بقوله على شرط إن شرطوا لها أو له مالاً بإزاء النياحة أو بإزاء الغناء؛ وهذا لأنه إذا كان الأخذ على شرط كان المال بمقابلة المعصية، فكان الأجر معصية، والسبيل في المعاصي ردها، ولذلك ههنا يرد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه، وبالتصدق منه إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله؛ أما إذا لم يكن الأخذ على شرط لم يكن الأخذ بمعصية، والرفع حصل عن المالك برضاه فيكون له (92ب2) ويكون حلالاً له. »

»فتاوى قاضي خان»(3/321):

"واما الذي ياخذه المعلم، قالوا: لا باس للمعلم ان ياخذ الاجرة... وانما يرد او يتصدق اذا كان الكسب بمقابلة المعصية كالغناء والنياحة"

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص661):

«وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما، وإلا فتنزيها، فليحفظ توفيقا»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

24/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب