03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں جائیداد کی وصیت کرنے کا حکم
92359وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ بخدمت جناب مفتی صاحب گزارش ہے کہ میری ایک بیٹی ہے ہم تین بھائی اورایک بہن ہے، میری بہن کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ایک بھائی میرا سرکاری ملازم ہے اور دوسرا کاروبار میں میرے ساتھ کام کرتا ہے۔ایک بھانجا میرا سرکاری ملازم ہے اور داماد بھی ہے باقی دو بھانجے میرے ساتھ کاروبار میں کام کرتے ہیں گزشتہ 30/25 سال سے میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ اس کاروبار کو مزید بڑھاؤ اب میرا کاروبار ماشاء اللہ اب مارکیٹ میں بہت اچھا بزنس کر رہا ہے۔

       اب میں اپنے کاروبار کی وصیت کرنا چاہتا ہوں اس کی تقسیم کا شرعی اور قانونی کیا حل ہوگا؟  دوسرا یہ کہ میں ہمیشہ اپنے بھانجوں کو یہی کہتا رہا ہوں کہ اس کاروبار میں تمہارا بھی حصہ ہوگا ۔اب مجھے آپ جناب کی اس وراثت کےمسئلے میں رہنمائی درکار ہے کہ میں ان کو اپنی زندگی میں جو ان  کا جائز حصہ ہے، وہ دینا چاہتا ہوں۔ اس لیے آپ میری رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ کے بھانجوں نے آپ کے کاروبار میں محنت کی ہے اور آپ نے بھی انہیں کاروبار میں سے حصہ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، اس لیے مناسب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی ہی میں  جتنامناسب  سمجھتے ہیں اتنی مقدار میں انہیں دے کراس پر ان کا قبضہ و تصرف کروادیں۔ تاکہ آپ کی وفات کے بعد کسی قسم کے اختلاف یا نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔ اگر آپ بھانجوں کے لیے  وصیت کریں گے تو وہ  آپ کی وفات کے بعد آپ کے  کل ترکے کے ایک تہائی حصے تک نافذ ہوگی۔

      البتہ شرعی ورثہ کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم اگر آپ اپنی زندگی میں ورثہ  کو اپنی کوئی جائیداد بطورِ ہبہ (گفٹ) دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ لیکن اس سے کسی خاص وارث کو محروم کرنا مقصود نہ ہونا چاہیے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : (6/ 90)

ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (6/ 90)

ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (4/ 444)

(قوله: متى وقف) أي على أولاده لأنه منشأ الجواب المذكور كما تعرفه، وبه يظهر فائدة التقييد بقوله حال صحته (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.

امداداللہ فینوی

تخصص فی الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

24/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب