| 92498 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میرا سوال رضاعت اور نکاح کے بارے میں ہے۔ میری ایک بیٹی ہے اور میرے بڑے بھائی کا نام محمود ہے۔ محمود کے دو بیٹے ہیں، ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام نثار ہے۔ میری والدہ نے احمد کو بچپن میں اپنا دودھ پلایا تھا، یعنی احمد میری والدہ کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے۔ لیکن نثار نے میری والدہ کا دودھ نہیں پیا۔
اب میں اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بھتیجے نثار سے کرنا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ نثار کا بڑا بھائی احمد میری والدہ کا دودھ پی چکا ہے، اس لیے میری بیٹی اور نثار کا نکاح بھی رضاعت کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں واضح فرما دیں کہ کیا میری بیٹی کا نکاح نثار سے جائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ احمد کے میری والدہ کا دودھ پینے کا نثار اور میری بیٹی کے نکاح پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمتِ رضاعت کا بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ رضاعت کا اثر اور اس کی شرعی حرمت صرف اسی بچے (رضیع) اور اس کی فرع (اولاد) تک محدود رہتی ہے جس نے بالمباشرت وہ دودھ پیا ہو۔ رضاعت کی یہ حرمت اس رضاعی بچے کے دیگر بھائیوں یا بہنوں کی طرف سرایت نہیں کرتی جنہوں نے وہ دودھ نہ پیا ہو۔
صورت مسئولہ میں احمد نے آپ کی والدہ کا دودھ پیا ہے، لہٰذا صرف احمد آپ کی والدہ کا رضاعی بیٹا بنا ہے۔نثار نے آپ کی والدہ کا دودھ نہیں پیا، اس لیے نثار اور آپ کی والدہ کے درمیان کوئی رضاعی رشتہ قائم نہیں ہوا، اور نہ ہی نثار اور آپ کی بیٹی کے درمیان کوئی رضاعی تعلق وجود میں آیا ہے۔نسبی اعتبار سے نثار آپ کے بھائی کا بیٹا (بھتیجا) ہے اور آپ کی بیٹی اس کی چچا زاد بہن (بنت العم) ہے۔ نسب کے لحاظ سے چچا زاد بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
لہٰذا، احمد کا آپ کی والدہ کا دودھ پینا اس کے بھائی نثار کے لیے آپ کی بیٹی سے نکاح میں مانع نہیں بن سکتا، کیونکہ ایک بھائی کے رضاعی رشتے کا اثر دوسرے بھائی پر نہیں پڑتا۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (5/ 137)
وكذلك لا بأس بأن يتزوج التي أرضعت أخاه أو ما بدا له من ولدها؛ لأنه لا رضاع بينه وبينهم.
الأصل لمحمد بن الحسن (ج/ص) (ديوان) (4/ 378)
ولو أن رجلا أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية، وإنما تحرم عليه تلك الجارية بعينها؛ لأن أمه أرضعت تلك بعينها.
شفیع اللہ بن معروف خان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
تاریخ:۲۴،ربیع الثانی، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شفیع اللّٰہ بن معروف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


