03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاڑی کی مرمت کا بِل ادا کر کے اور اسپئیر پارٹس کی مد میں اضافی رقم وصول کرنے کا حکم
92476اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

اگر کسی شخص کا رکشہ خراب ہو اور وہ کہے کہ آپ مکینک کو میری طرف سے مزدوری ادا کر دیں اور رکشے کے اسپئیر پارٹس بھی خرید کر دے دیں، میں آپ کو یہ رقم ماہانہ اقساط میں واپس کر دوں گا۔

.1اب اگر میں مکینک کی مزدوری خود ادا کروں اور اسپئیر پارٹس بھی خود خرید کر دوں، تو کیا میرے لیے دونوں اخراجات کو ملا کر ان پر 40 فیصد منافع رکھ کر اقساط میں رقم وصول کرنا شرعاً جائز ہوگا؟

.2 اگر اسپئیر پارٹس پر 40 فیصد منافع لینا جائز ہو، لیکن مکینک کی مزدوری پر 40 فیصد اضافہ لینا جائز نہ ہو، تو ایسی صورت میں شرعی طور پر اس معاملے کی درست صورت کیا ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1 مکینک کی مزدوری ادا کرکے اس پر اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں۔

.2 اگر اسپیئر پارٹس   خود خرید کر پہلے اپنے قبضے میں لینے کے بعد رکشہ کے مالک کو مقرر کردہ زائد قیمت پر، متعین

مدت کی اقساط پر فروخت کردیا ،توجائز ہے۔

دوسری متبادل  صورت یہ ہے کہ مذکورہ تمام کام اجرت کے عوض انجام دیے جائیں، یعنی آپ رکشہ کی مکمل مرمت کی ذمہ داری لے لیں، جس میں مکینک سے مرمت کروانا، اس کی مزدوری ادا کرنا اور مطلوبہ اسپیئر پارٹس فراہم کرنا شامل ہوں، ان تمام خدمات کی مجموعی رقم  باہمی رضامندی سے متعین کرکے، طے شدہ معاوضے کی صورت میں مقررہ اقساط میں  وصول کیا جائے،بشرطیکہ  معاملہ کرتے وقت ہی مجموعی معاوضہ اور ادائیگی کی مدت و اقساط واضح طور پر متعین ہوں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 193):

وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما وغير ذلك مما ذكرناه في كتاب البيوع.

والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 647):

 (المادة 562) تجوز إجارة الآدمي للخدمة أو لإجراء صنعة ببيان مدة أو بتعيين العمل بصورة أخرى، كما بين في الفصل الثالث من الباب الثاني. تجوز إجارة الآدمي للخدمة، أو المحافظة على الوديعة، أو لإجراء صنعة ما كالخياطة والنجارة، أو تعليم القرآن، أو علم الصرف والنحو والفقه وما أشبه ذلك ببيان المدة أو المسافة، أو بتعيين العمل بصورة أخرى، كما بين في الفصل الثالث من الباب الثاني. انظر المادة (777) . أي إنه يلزم في إجارة الآدمي تعين العمل.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب