03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سامان کی قیمت ادا کر نے پر اضافی رقم وصول کرنے کا حکم اور ایک متبادل طریقہ
92477خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص کہےکہ میں نے ایک دکان سے پیپسی کے  20 کارٹن لیے ہیں، جن کی قیمت 20,000 روپے ہے،آپ دکاندار کو میری طرف سے آن لائن 20,000 روپے ادا کر دیں، میں آپ کو ماہانہ اقساط میں رقم واپس کر دوں گا۔

.1 اب  اگر میں دکاندار کو براہ راست 20,000 روپے آن لائن ادا کر دوں اور اس شخص سے 40 فیصد منافع کے ساتھ، مثلاً 28,000 روپے اقساط میں وصول کروں، تو کیا یہ جائز ہے؟

.2 اگر یہ جائز نہیں، تو کیا میں پہلے پیپسی کے  20 کارٹن خود خرید کر اپنے قبضے میں لے کرپھر اس شخص کو 28,000 روپے میں اقساط پر فروخت کروں تو یہ جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1جائز نہیں ۔

.2 پہلے خریدار سے سامان کا آرڈر لیا جائے، پھر سامان خرید کر اپنے قبضے میں لینے کے بعد متعین زائد قیمت پر باقاعدہ نئے عقد کے ذریعے ادھار فروخت کرکے طے شدہ مدت کے مطابق اقساط میں رقم وصول کی جائے،تو شرعاً درست ہے۔ یہ مربحہ کہلاتا ہے ، تاہم اس کی شرائط حساس ہیں ، لہٰذا ایسا کرتے ہوئے کسی مفتی صاحب کی رہنمائی مناسب ہوگی۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب